ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

محبت کی شادی نے کیا ایسا حال، کچھ ایسا کرنے پر مجبور ہوگئی ایک لڑکی: جانیں کیا ہے معاملہ

ملک کے مختلف ریاستوں میں بنے لو جہاد قانون (love jihad) کے باعث جہاں بین مذہب شادی کرنے والے جوڑوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہیں کولکاتہ کی فیروزہ خان کو بھی کچھ ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

  • Share this:
محبت کی شادی نے کیا ایسا حال، کچھ ایسا کرنے پر مجبور ہوگئی ایک لڑکی: جانیں کیا ہے معاملہ
ملک کے مختلف ریاستوں میں بنے لو جہاد قانون (love jihad) کے باعث جہاں بین مذہب شادی کرنے والے جوڑوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہیں کولکاتہ کی فیروزہ خان کو بھی کچھ ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ملک کے مختلف ریاستوں میں بنے لو جہاد قانون (love jihad) کے باعث جہاں بین مذہب شادی کرنے والے جوڑوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہیں کولکاتہ کی فیروزہ خان کو بھی کچھ ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حال یہ ہے کہ فیروزہ کو اپنے ہی شوہر سے ملاقاتِ کے لئے سسرال کے باہر دھرنا دینا پڑا۔

کولکاتا کے گڑیا ہاٹ علاقے کی رہائشی فیروزہ کی دوستی دس ماہ قبل بردوان کے کرشا نور سے ہوئی تھی۔ فیس بک پر ہوئی ان کی دوستی اتنی آگے بڑھی کے دونوں نے زندگی ساتھ گزارنے کا فیصلہ کیا۔ دو ماہ قبل فیروزہ اور کرشانور نے ایک دوسرے کو ہمسفر بنانے کا فیصلہ کیا اور کولکاتا کے کالی گھاٹ مندر میں ہندو مذہب کے مطابق شادی کے بندھن میں بندھ گئے لیکن اس شادی (love marriage) کو دونوں ہی خاندان والوں نے قبول نہیں کیا۔ گھر والوں کے اعتراض کے بعد دونوں کرایے کے مکان میں رہنے لگے۔ کچھ دنوں سے یہ دونوں مالی تنگی کے شکار ہوگئے جس کے بعد 31 دسمبر کو اپنی ماں کے بلاوے پر كرشا نور فیروزہ کو اپنے گھر لیکر گیا لیکن کرشا نور کے گھر والوں نے بیٹے کو تو قبول کر لیا لیکن فیروزہ کو گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی اور فیروزہ اکیلی ہی کولکاتا لوٹ آئی۔


کولکاتا واپس آنے کے بعد فیروزہ اپنے شوہر سے رابطہ کرنے میں ناکام رہی۔ فون پر گزشتہ کئی دنوں سے شوہر سے رابطہ نہ ہونے پر فیروزہ اپنے سسرال پہنچ کر دھرنے پر بیٹھ گئی۔ کرشا نور کے والد چندر شیکھر دے کے مطابق انکے بیٹے کو نوکری دلانے کے بہانے پھنسایا گیا ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ شادی منظور نہیں ہے۔پولیس نے اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے فیروزہ کا دھرنا ختم کرایا اور فیروزہ کو تھانے میں شکایت درج کرانے کا مشورہ دیا ہے۔

Published by: Sana Naeem
First published: Jan 05, 2021 03:59 PM IST