உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جھارکھنڈ میں بڑے پیمانے پر ہوتی ہے لاہ کی کاشتکاری، ملک کی مختلف ریاستوں کے علاوہ بیرون ممالک میں ہوتا ہے ایکسپورٹ

    قبائلی برادری کے لوگ بڑے پیمانے پر لاہ کی کاشتکاری کرتے ہیں

    قبائلی برادری کے لوگ بڑے پیمانے پر لاہ کی کاشتکاری کرتے ہیں

    قبائلی برادری کے لوگ بڑے پیمانے پر لاہ کی کاشتکاری کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لاہ کا پروسیسنگ کرکے مختلف طرح کے لاہ کی کوالٹی تیار کی جاتی ہے پھر اس کے بعد تیار مال ملک کے مختلف ریاستوں کے علاوہ پاکستان، بنگلہ دیش، جرمنی جیسے بیرون ممالک کو بھیجے جاتے ہیں۔

    • Share this:
    جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر لاہ کی کاشتکاری کی جاتی ہے۔ ان میں ریاست کا کھونٹی ضلع بھی شامل ہے۔ اس ضلع کے مورہو نامی علاقہ میں لاہ کی پیداوار سے غریب قبائلی برادری کے گھروں میں رونق دیکھنے کو ملتی ہے۔ مورہو میں قائم لاہ فیکٹری کے مالک محمد نعیم الدین کا کہنا ہے کہ اس علاقے کے قبائلی برادری کے لوگ بڑے پیمانے پر لاہ کی کاشتکاری کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لاہ کا پروسیسنگ کرکے مختلف طرح کے لاہ کی کوالٹی تیار کی جاتی ہے پھر اس کے بعد تیار مال ملک کے مختلف ریاستوں کے علاوہ پاکستان، بنگلہ دیش، جرمنی جیسے بیرون ممالک کو بھیجے جاتے ہیں۔

    نعیم الدین کہتے ہیں کہ لاہ جھارکھنڈ کا اہم فصل ہے۔ لاہ کو نقدی فصل کے طور پر مانا جاتا ہے۔ لاہ کے کیڑوں کو پلاس، پیپل، کسم، کھیر، بیر جیسے درختوں کی ٹہنیوں سے ٹانگ دیا جاتا ہے اور جب کیڑے پوری طرح سے سوکھ کر سخت ہو جاتے ہیں تو ٹہنیوں کو توڑا جاتا ہے اور اسے فیکٹری میں لا کر مختلف طرح کے اقسام تیار کئے جاتے ہیں۔ نعیم الدین کہتے ہیں کہ ان کی فیکٹری میں تقریباً ٢٥ لوگ کام کرتے ہیں اور ہر فرد تقریباً ڈھائی سو سے تین سو روپیہ یومیہ آمدنی کرتے ہیں۔ گھر بیٹھے اس آمدنی سے قبائلی برادری کے لوگ بیحد خوش و خرم زندگی گزارتے ہیں ۔

    لاہ کا استعمال خواتین کے لئے چوڑیاں ۔ بچوں کے لئے کھلونے تیار کرنے میں کیا جاتا ہے وہیں پینٹنگ میں استعمال کے لئے لاہ سے بارنش اور پالش تیار کیا جاتا ہے۔ لاہ سے ہوائی جہاز اور بجلی کے سامان تیار کئے جاتے ہیں ساتھ ہی سونے چاندی کے زیورات میں خالی جگہوں کو بھرنے کے لئے لاہ کا استعمال ہوتا ہے۔ لاہ کے ریکارڈ پروڈکشن کے لئے ریاست کے لاتیہار ضلع کا نام سال ١٩٧٦ میں گینیز ورلڈ ریکارڈ بک میں درج ہو چکا ہے۔
    Published by:sana Naeem
    First published: