ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

لیفٹ پارٹیوں نے بہار میں بنائی انسانی زنجیر، مسلم تنظیموں نے کی حمایت

امارت شرعیہ کے امیر شریعت اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی نے انسانی زنجیرکو کامیاب بنانےکی اپیل کی تھی۔ امارت شرعیہ ضلع کے تمام ذمہ دار سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کی تختی لئے سڑک کے کنارے ایک گھنٹہ تک کھڑے رہے۔

  • Share this:
لیفٹ پارٹیوں نے بہار میں بنائی انسانی زنجیر، مسلم تنظیموں نے کی حمایت
لیفٹ پارٹیوں نے بہار میں بنائی انسانی زنجیر

لیفٹ پارٹیوں کی جانب سے بہار میں انسانی زنجیر بنائی گئ۔ پٹنہ سمیت صوبہ کے مختلف اضلاع میں بنائی گئی انسانی زنجیر میں بڑی تعداد میں لوگ شرکت کرتے نظر آئے۔ نو سی اے اے، نو این پی آر اور نو این سی آر کا بینر لئے لوگوں نے ایک ساتھ اس قانون کی مخالفت کی۔ پٹنہ میں گاندھی میدان، اشوک راج پتھ، سبزی باغ، عالم گنج، سلطان گنج، پٹنہ سٹی، راجہ بازار، سمن پورا، آشیانہ، ہارون نگر، پھلواری شریف جیسے علاقوں میں انسانی زنجیر کےقطار میں بڑی تعداد میں لوگ نظر آئے۔ انسانی زنجیر میں بڑے لوگوں کے ساتھ بچہ اور خواتین کی کثیر تعداد دکھائی دی۔ کئ سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں نے انسانی زنجیرکو کامیاب بنانےکی کوشش کی۔ امارت شرعیہ بہار، مسلم مجلس مشاورت، جمیعت علماء بہار، جماعت اسلامی، ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن، رابطہ کمیٹی جیسی درجنوں تنظیموں نے انسانی زنجیر کے پروگرام میں حصہ لیا۔


امارت شرعیہ کے امیر شریعت اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی نے انسانی زنجیرکو کامیاب بنانےکی اپیل کی تھی۔ امارت شرعیہ ضلع کے تمام ذمہ دار سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کی تختی لئے سڑک کے کنارے ایک گھنٹہ تک کھڑے رہے۔ ڈیڑھ بجے سے ڈھائ بجے تک شہر میں انسانی زنجیر کے پروگرام میں تمام عمر کے لوگ نظر آئے۔ دانشور، سماجی کارکن، ڈاکٹرس، ریٹائرڈ آئی اے ایس، وکلاء، عالم دین اور طلباء کے ساتھ خواتین کی بڑی تعداد انسانی زنجیر کا حصہ بنی۔




قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے بھی انسانی زنجیر کا پروگرام کیاتھا، جس میں تمام زور ریکارڈ بنانے پرجڑا رہا۔ حکومت نے دعویٰ کیا کی انسانی زنجیر میں عالمی رکارڈ بنایا ہے جبکہ آج کے انسانی زنجیر سے احتجاج کیاگیا، کسی طرح کا کوئی ریکارڈ بنانےکا فارمولہ نہیں تھا بلکہ انسانی زنجیر سے حکومت کو یہ بتانا مقصد تھا کی موجودہ قانون کی وہ مخالفت کرتے ہیں۔ انسانی زنجیر میں شامل خواتین نےکہاکہ بہار سمیت پورے ملک میں خواتین کا احتجاج جاری ہے،لیکن صوبائی اور نہ ہی مرکزی حکومت کو یہ توفیق ہوئی ہےکہ وہ زبردست سردی کے موسم میں احتجاج کررہی خواتین سے بات کرے۔ ان کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ وہیں احتجاج کررہی خواتین کو غلط غلط نام دیا جارہا ہے، جو جمہوریت میں بنیادی حقوق کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔ خاص بات یہ ہےکہ انسانی زنجیر میں دلت سماج کی بھی شرکت دکھائی دی۔ وہیں دور درازکے علاقہ جیسے موتیہاری، مغربی چمپارن، دربھنگہ، مدھوبنی، سیتا مڑھی، کشن گنج، ارریہ، پورنیہ، کٹیہار، بھاگلپور، گیا، بہار شریف، شیوہر، مظرپور، جہان آباد جیسے اضلاع میں انسانی زنجیرکے پروگرام میں لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
First published: Jan 25, 2020 11:55 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading