ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

سلیم خان نے ادا کیا انسانیت کا فرض، کورونا سے ہوئی ہندو شخص کی موت کے بعد آخری رسوم کو خود ایسے کیا ادا

کورونا وائرس کا خوف لوگوں کے من میں اس قدر سمایا ہوا کہ لوگ سماجی سروکار،مذہبی اور انسانیت کا فرض ادا کرنے سے بھی گھبرانے لگے ہیں۔مدھیہ پردیش کے برہانپور میں بھی ایسا ہی معاملہ سامنے آیا ہے۔

  • Share this:
سلیم خان نے ادا کیا انسانیت کا فرض، کورونا سے ہوئی ہندو شخص کی موت کے بعد آخری رسوم کو خود ایسے کیا ادا
کورونا وائرس کا خوف لوگوں کے من میں اس قدر سمایا ہوا کہ لوگ سماجی سروکار،مذہبی اور انسانیت کا فرض ادا کرنے سے بھی گھبرانے لگے ہیں۔مدھیہ پردیش کے برہانپور میں بھی ایسا ہی معاملہ سامنے آیا ہے۔

کورونا وائرس کا خوف لوگوں کے من میں اس قدر سمایا ہوا کہ لوگ سماجی سروکار،مذہبی اور انسانیت کا فرض ادا کرنے سے بھی گھبرانے لگے ہیں۔مدھیہ پردیش کے برہانپور میں بھی ایسا ہی معاملہ دیکھنے میں آیا ہے۔

راہل سونکر کے والدین کی چار دن کے فرق سے کورونا وائرس سے موت ہوگئی تھی۔ والدین کی خدمت میں راہل بھی کورونا وائرس کی گرفت میں آگیا اور پھر بے رحم موت نے راہل کو بھی اپنی آغوش میں لے لیا۔ راہل کا انتقال برہانپور کے ضلع اسپتال میں ہوا۔والدین کا انتقال پہلے ہی ہو چکا تھا اور راہل کی بھی موت ہو جانے سے گھر میں کوئی نہیں بچا جو اس کی آخری رسومات کو ادا کر سکے۔

ضلع اسپتال کے سی ایم ایچ او نے برہانپور نگر نگم کوراہل سونکر کی آخری رسومات ادا کرنے کے لئے خط لکھا۔ بہت دیر تک جب راہل سونکر کی ارتھی نگر نگم میں رکھی رہی اور ہندو سماج کا کوئی بھی راہل سونکر کی آخری رسوما کو ادا کرنے کے لئے آگے نہیں آیا تو نگر نگم کے اسٹنٹ کمشنر سلیم خان نے انسانیت کا فرض ادا کیا۔

برہانپور نگر نگم کے اسٹنٹ کمشنر سلیم خان نے راہل کی آخری رسومات کے لئے پہلے ساراانتظام کیا اور جب سبھی انتظامات ہوگئے تو سلیم خان نے پہلے خود پی پی ای کٹ پہنی اور پھر ڈرائیور کو پی پی ای کٹ پہنا کر ارتھی کو گاڑی میں رکھ کر شمشان گھاٹ پہنچے اور ہندو ریتی رواج سے راہل سونکر کی آخری رسومات ادا کرکے انسانی تہذیب کی ایک عظیم داستان کو رقم کیا۔

سلیم خان کہتے ہیں کہ سی ایم ایچ او کے خط کو پڑھ کر میری آنکھیں بھر آئیں ۔کورونا کو لے کر سماج میں پھیلے خوف کا منظر یاد آیا اور یہ بھی دیکھا کہ یہ وبائی بیماری اتنی خطرناک ہے کہ گھر میں کوئی بھی آخری رسومات کو ادا کرنے کے لئے نہیں بچا۔ چار دن میں ہنستا کھیلتا ایک پورے گھر کو کورونا نے ختم کردیا۔سلیم خان کہتے ہیں کہ میں نے تو انسانیت کا فرض ادا کیا ہے اور لوگوں سے یہی اپیل ہے کہ اس وبائی بیماری کے خطرے کو سنجیدگی سے لیں ۔لا پرواہی نہ کریں،نہیں تو ایسا آپکے ساتھ بھی ہو سکتا ہے کہ آخری سفر کے لئے کوئی ساتھ نہ ہو۔

First published: May 17, 2020 10:57 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading