ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

مظفرپور کا مدرسہ رشیدیہ ، جس کا کہیں بورڈ تو نہیں نظر آئے گا، مگر انسانیت کی کررہا ہے گراں قدر خدمت

مظفرپور : مدارس عام طورپردینی تعلیم کے لیے معروف ہوتے ہیں۔ تاہم دورجدید کےتقاضوں کو پورا کرنے کیلئے کچھ مدارس میں عصری وتکنیکی تعلیم و ہنر سکھانے کابھی نظم کیا گیا ہے۔

  • ETV
  • Last Updated: May 14, 2016 06:42 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مظفرپور کا مدرسہ رشیدیہ ، جس کا کہیں بورڈ تو نہیں نظر آئے گا، مگر انسانیت کی کررہا ہے گراں قدر خدمت
مظفرپور : مدارس عام طورپردینی تعلیم کے لیے معروف ہوتے ہیں۔ تاہم دورجدید کےتقاضوں کو پورا کرنے کیلئے کچھ مدارس میں عصری وتکنیکی تعلیم و ہنر سکھانے کابھی نظم کیا گیا ہے۔

مظفرپور : مدارس عام طورپردینی تعلیم کے لیے معروف ہوتے ہیں۔ تاہم دورجدید کےتقاضوں کو پورا کرنے کیلئے کچھ مدارس میں عصری وتکنیکی تعلیم و ہنر سکھانے کابھی نظم کیا گیا ہے۔ ملک میں بہ مشکل ہی کوئی مدرسہ ایسا ہوگا ، جہاں طلبہ کوعملی طور پرانسانی خدمت کاسبق بھی سکھایا جاتا ہو۔ لیکن بہارکے مظفرپور شہر میں ایک ایسا مدرسہ ہے ، جہاں کے طلبا واساتذہ تعلیم کے ساتھ ایسی گراں قدرانسانی خدمات انجام دے رہے ہیں ، جس کی نظیرآج کی مادہ پرست دنیا میں ملنی مشکل ہے۔

خاص بات یہ ہے کہ اس مدرسہ کا آج تک کوئی بورڈ بھی نہیں لگا ہے، پھر بھی اس کی خدمات سے ہی اس کا نام عوام کے دلوں میں رچ بس گیا ہے۔ خاص طور سے لاوارث لاشوں کی تدفین یہاں کے طلبہ اور مہتمم کراتے ہیں، وہ بھی کسی سرکاری امداد کےبغیر ۔ یہی نہیں کئی برسوں تک مدرسہ رشیدیہ غیرمسلم لاوارث لاشوں کی بھی آخری رسومات انجام دیتا رہا ہے۔


madrasa rashidiya (1)

بہارکے مظفرپورمیں 1970 میں سری کرشن میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل کا قیام عمل میں آیا ۔ ابتدا میں کالج میں مسلم طلبہ کی خاصی تعداد ہوا کرتی تھی۔ میڈیکل کالج واسپتال میں پوسٹ مارٹم کے لیے آنے والی لاوارث لاشوں کے اعضا ادھر ادھر جھاڑیوں اورنالوں میں دیکھ کرمیڈیکل کے طلبہ کودلی تکلیف پہنچی۔ انہوں نے شہرکے حساس افراد سے ملاقات کرکے انہیں اس صورت حال سے واقف کرایا۔ 1977 میں مظفرپور شہر کے معروف سماجی کارکن نقی احمد نے میڈیکل کے طلبہ کے مالی تعاون سے کالج کے پاس ایک مسجد کی بنیاد ڈالی۔ 1979 میں مسجد بن کرتیارہوگئی۔ میڈیکل کے طلبہ وہاں نمازادا کرنے لگے۔ اتنا ہی نہیں پوسٹ مارٹم کے بعد لاوارث لاشیں کالج انتظامیہ سے حاصل کرکے ان کی آخری رسومات بھی انجام دی جانے لگیں۔


madrasa rashidiya (4)
تاہم رفتہ رفتہ میڈیکل کالج میں مسلم طلبہ کی تعداد گھٹنے لگی، جس کی وجہ سے لاوارث لاشوں کی آخری رسومات کا سلسلہ ٹھنڈا پڑنے لگا۔ اس کے بعد کالج کے آس پاس مسلم آبادی نہیں ہونے کے سبب نقی احمد نے مسجد کے احاطے میں رشیدیہ نام سے ایک مدرسہ قائم کیا۔ بانی مدرسہ نقی احمدمرحوم کی سادگی اس کمال کی تھی کہ انہوں نے کبھی مدرسہ کا بورڈ نہیں لگوایا، جس کی وجہ سے آج تک مدرسہ رشیدیہ کا کہیں پر بورڈ نظرنہیں آتا۔

madrasa rashidiya (2)
لیکن مدرسہ ہرگزرتے دن کے ساتھ ترقی کی منزلیں طے کرتاجارہاہے۔ مدرسہ کے طلبہ تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ عملی طور پر گراں قدرانسانی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ لاوارث لاشوں کی آخری رسومات کی ادائیگی بھی اب مدرسہ رشیدیہ کے طلبہ و اساتذہ ہی انجام دے رہے ہیں۔ یہ سب کچھ کسی سرکاری امداد کے بغیرہی صرف عوام کے مالی تعاون سے انجام دیا جارہا ہے۔
First published: May 14, 2016 06:39 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading