ہوم » نیوز » No Category

کولکاتہ میں نواب حیدرعلی کے مکان سے دیا تھا گاندھی جی نے ہندو۔ مسلم کو اتحاد کا پیغام

مہاتما گاندھی نے ہندوستان کے روشن مستقبل کے لئے ہندو مسلم اتحاد پر زور دیا اور کئی اقدامات کئے تھے۔

  • ETV
  • Last Updated: Oct 03, 2016 07:47 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
کولکاتہ میں نواب حیدرعلی کے مکان سے دیا تھا گاندھی جی نے ہندو۔ مسلم کو اتحاد کا پیغام
مہاتما گاندھی نے ہندوستان کے روشن مستقبل کے لئے ہندو مسلم اتحاد پر زور دیا اور کئی اقدامات کئے تھے۔

کولکاتہ ۔ بابائے قوم مہاتما گاندھی اپنی بلند و بالا شخصیت کی وجہ سے ہندوستان ہی نہیں دنیا بھر کے بڑے رہنما تسلیم کئے جاتے ہیں۔ مہاتما گاندھی کے سیاسی نظریات، فلسفیانہ خیالات اور عدم تشدد پر مبنی نظریہ حیات نے انہیں ہمیشہ کے لئے جادواں بنا دیا۔ انہوں نے ہندوستان کے روشن مستقبل کے لئے ہندو مسلم اتحاد پر زور دیا اور کئی اقدامات کئے تھے۔ جنگ آزادی میں گاندھی جی کے نظریات و خیالات نے دنیا کو ان کا ہمنوا بنایا۔ انہوں نے ہمیشہ جان لینے کے بجائے قوم کے اندر جان دینے کی قوت پیدا کی۔  ظلم کا مقابلہ اسلحہ کے بجائے اہنسا سے کرنے کی تلقین کی، جس کی وجہ سے ایک زبردست حکومت ان کے آگے بے بس ہوئی اور ملک آزاد ہوا۔  گاندھی جی نے ہمیشہ ہندو مسلم اتحاد پر زور دیا جسکی مثالیں کولکاتا کے بلیہ گھاٹا میں بکھری پڑی ہیں۔


کولکاتا کے بلیہ گھاٹا میں کبھی مسلمانوں کی کثیر آبادی ہوا کرتی تھی۔ آج بھی یہاں مسلمانوں کی یادگاریں بکھری پڑی ہیں ۔ تاہم بٹوارے کے وقت یہاں کی مسلم آبادی سمٹ گئی۔ بنگلہ دیش رفیوجیوں کی بنگال آمد کے ساتھ اس علاقے پر رفیوجیوں نے قبضہ کر لیا۔ 46ء کا فساد لمبےعرصے تک چلا۔ فساد کے ختم ہونے کے بعد بھی تناؤ دیکھا گیا۔ مغربی بنگال کے نوا کھالی میں فرقہ وارانہ فساد سے پریشان گاندھی جی نے کولکاتا کا رخ کیا اور ایک ماہ تک یہاں نواب حیدر علی کے مکان میں قیام کیا اور اس مدّت میں آپسی اتحاد کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی کوشش کی۔


 اسی علاقے کے رہائشی مانک بنرجی کی عمر اس وقت 08 سال تھی ۔ لیکن کئی دھندلی یادیں آج بھی ان کے ذہن میں محفوظ ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت گاندھی جی کے اتحاد کے پیغام پر دونوں فرقے کے لوگوں کی جانب سے خیرمقدم کیا جانا اور اس پر قائم رہنا اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔ نواب حیدر علی کے مکان کو آج گاندھی جی کی یادگار کے طور پر محفوظ کرلیا گیا گرچہ یہاں مسلمانوں کی آبادی کافی کم ہے لیکن یہاں کے لوگوں میں آپسی اتحاد کافی مضبوط ہے۔  لوگوں کے مطابق ہندو مسلم اتحاد کو کمزور کرنے کی کوشیش سیاسی ہیں۔


manak


مانک بنرجی نے بتایا کہ۱۲ اگست ۱۹۴۷ء میں گاندھی جی یہاں آئے تھے اور یہاں تمام طبقے کے لوگوں کی زندگی کو محفوظ بنایا تھا۔ آپ سوچ نہیں سکتے اس وقت کیا حالات تھے۔ یہاں لوگ گھروں سے نکلنے میں گھبراتے تھے۔ یہاں پہلے زیادہ مسلم رہتے تھے یہ مسلم علاقہ تھا۔ یہاں ہندو مسلم مل کر رہنے لگے ۔ان میں کوئی بھید بھاؤ نہیں تھا۔ اتحاد سے رہتے تھے۔ ان میں محبت تھی۔  لیکن ایسے حالات ہوگئے کہ دونوں فرقے کے لوگوں کے درمیان تناؤ ہوگیا۔ فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ گئی۔ انہوں نے کہا کہ حالات بہت خراب ہوگئے۔ اس وقت گاندھی جی یہاں آئے اور اس مکان میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے۔ اس وقت ہر نیتا یہاں آیا اور گاندھی جی سے اپیل کی کہ وہ بھوک ہڑتال ختم کریں اور پھر فساد ختم ہوا۔تب سے آج تک ہم میں اتحاد ہے۔ لوگوں کے دلوں میں بھید بھاؤ نہیں دیکھا جاتا ہے۔

First published: Oct 03, 2016 07:47 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading