உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مغربی بنگال کا نام تبدیل کرنے کی تجویز مرکز نے کی مسترد، ممتا بنرجی نے عوام کی توہین قراردیا

    ممتا بنرجی: فائل فوٹو

    ممتا بنرجی: فائل فوٹو

    وزارت خارجہ نے مغربی بنگال کا نام ”بنگلا“رکھے جانے کی تجویز کو یہ کہہ کر مسترد کیا ہے کہ یہ نام بنگلہ دیش کے مشابہ ہے اور اس سے بین الاقوامی فورم پر پریشانی ہوسکتی ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      مرکزی حکومت نے مغربی بنگال کا نام بدلنے کی ممتا حکومت کی تجویز کو ایک بار پھر یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا ہے کہ بنگلہ دیش اور بنگال کے نام میں یکسانیت ہے۔  وزارت خارجہ نے مغربی بنگال کا نام ”بنگلا“رکھے جانے کی تجویز کو یہ کہہ کر مسترد کیا ہے کہ یہ نام بنگلہ دیش کے مشابہ ہے اور اس سے بین الاقوامی فورم پر پریشانی ہوسکتی ہے۔


      وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے تجویز مسترد کرنے پر مرکزی حکومت پر مغربی بنگال کو نظر انداز کرنے کا الزام عاید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی ملک کے تاریخی مقامات کے ناموں کو من مانے طریقے سے تبدیل کررہی ہے مگر دوسری طرف بنگال اسمبلی سے مغربی بنگال کا نام تبدیل کرنے کی تجویز جو اتفاق رائے سے پاس ہوئی تھی کو مکمل طور پر نظرانداز کردیا ہے۔ وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے فیس بک پر اپنے سرکاری اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ”حالیہ دنوں میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ بی جے پی جلدبازی میں ملک کے تاریخی مقامات کا نام تبدیل کررہی ہے۔ چوں کہ بی جے پی کے سیاسی مفادات تاریخی شہروں اوراداروں کے نام تبدیل کرنے میں ہیں۔ حال ہی میں الہ آباد کا نام تبدیل کرکے پریاگ راج اور فیض آباد کا نام تبدیل کرکے ایودھیا کردیا گیا۔


      وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کے بعد سے ہی ریاستوں اور شہروں کے نام تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ ریاستوں کے عوام کے جذبات کا خیال رکھا گیا ہے۔ اڑیسہ سے اب اوڈیشہ ہوگیا ہے۔پونڈیچر ی اب پانڈیچری ہوگیا ہے۔اسی مدراس کا نام چنئی، بمبئی کا نام ممبئی، بنگلور کا نام بنگلورو وغیرہ کیا گیا ہے۔مگر مغربی بنگال کا نام تبدیل کرنے میں سیاست کی جارہی ہے اور اس کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔


      وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے لکھا ہے کہ ”ہماری اسمبلی نے اتفاق رائے سے مقامی لوگوں کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے مغربی بنگال کا نام تبدیل کرنے کی تجویز پاس کی تھی۔ ہماری مادری زبان بنگلا ہے اس لیے ہماری حکومت نے مغربی بنگال کا نام تبدیل کرکے بنگال کرنے کی تجویز مرکزی حکو مت کو پیش کی تھی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پہلے مرکزی وزارت داخلہ نے کہا کہ الگ الگ ز بانوں میں الگ الگ نام نہیں ہوسکتے ہیں تو ہم نے تین زبان میں ایک نام کی تجویز پیش کی مگراس تجویز کو بھی ایک عرصے سے التوامیں رکھ دیا گیا ہے۔ اس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت بالخصوص بی جے پی کو بنگال کے عوام کے جذبات سے کوئی سروکار نہیں ہے۔


      وزیر اعلیٰ نے کہا کہ غیر منقسم بنگال کی راجدھانی کلکتہ تھی۔ دونوں ملکوں کے قومی ترانے رابندر ناتھ ٹیگور کے لکھے ہوئے ہیں اور یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے۔ہم ہندوستان سے محبت کرتے ہیں اور بنگلہ دیش اور بنگالی زبان سے بھی محبت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نام میں یکسانیت سے کوئی پریشانی نہیں ہونے والی ہے۔ پنجاب ہندوستان میں بھی ہے اور پاکستان میں بھی ہے۔ اس سے پھر کیا پریشانی ہورہی ہے۔


      خیال رہے کہ  وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی 2011 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی مغربی بنگال کے نام کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ پہلے 2011میں انہوں نے تجویز بھیجی۔اس کے بعد 2016اور 2018میں وزیر اعلیٰ نے مرکزی حکومت کو نام تبدیل کرنے کی تجویز بھیجی۔ ممتا بنرجی کی تجویز پر سابقہ یوپی اے حکومت نے بھی کوئی توجہ نہیں دی تھی۔

      First published: