ہوم » نیوز » امراوتی

کانگریس کے اس لیڈر کے اصرار پر مولانا اسرارالحق قاسمی کو 2009 میں آخری لمحے میں ملا تھا ٹکٹ

کشن گنج پارلیمانی حلقے میں کانگریس کے ٹکٹ کیلئے کئی دعویدار تھے۔ پارٹی نے کسی دوسرے امیدوار کے نام کا اعلان بھی کردیا تھا

  • Share this:
کانگریس کے اس لیڈر کے اصرار پر مولانا اسرارالحق قاسمی کو 2009 میں آخری لمحے میں ملا تھا ٹکٹ
رحمن خان نے کہا کہ مولانا کا اچانک انتقال ملک اور ملت کیلئے بڑا خسارہ ہے۔

مولانا اسرارالحق قاسمی کے انتقال پر سابق مرکزی وزیر کے رحمن خان نے گہرے رنج اور الم کا اظہار کیا ہے۔ بنگلورو میں رحمن خان نے کہا کہ مولانا اسرارالحق قاسمی سے اُن کے دیرنہ اور قریبی تعلقات تھے۔ واضح رہے کہ مولانا اسرارالحق قاسمی کو پارلیمنٹ تک پہنچانے میں کے رحمن خان نے اہم رول ادا کیا ہے۔


رحمن خان نے کہا کہ2009 میں جب وہ بہار میں کانگریس کے انچارج تھے تو انہوں نے مولانا اسرارالحق قاسمی کوٹکٹ دلوانے کیلئے جدوجہد کی۔ کشن گنج پارلیمانی حلقے میں کانگریس کے ٹکٹ کیلئے کئی دعویدار تھے۔ پارٹی نے کسی دوسرے امیدوار کے نام کا اعلان بھی کردیا تھا۔ پرچہ نامزدگی داخل کرنے میں صرف24 گھنٹے ہی باقی بچے تھے کہ مولانا اسرارالحق قاسمی کو کانگریس کا ٹکٹ دے دیا گیا۔


رحمن خان نے کہاکہ اُن کے پُرزور اصرار کے بعد آخری مرحلے میں کانگریس پارٹی نے مولانا اسرارالحق کو اپنا امیدوار بنایا۔ نتائج کے اعلان کے بعد پورے بہار میں کانگریس کے صرف دو امیدوار کامیاب ہوئے۔ ان میں مولانا اسرارالحق قاسمی اور دوسری میرا کمارتھیں۔




سابق مرکزی وزیر کے رحمن خان: فوٹو نیوز 18
سابق مرکزی وزیر کے رحمن خان: فوٹو نیوز 18


رحمن خان نے کہا کہ لوک سبھا کیلئے منتخب ہونے کے بعد مولانا اسرارالحق قاسمی نے پوری شدت کے ساتھ اقلیتوں کے مسائل کو اُٹھایا۔ کانگریس پارٹی کی سابق صدر سونیا گاندھی، صدر راہل گاندھی اور دیگر لیڈران مولانا کی بڑی قدر کرتے تھے۔ کے رحمن خان نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کے بعد مولانا اسرارالحق قاسمی ایسے شخص تھے جنہوں نے مذہب کے ساتھ ساتھ سیاسی میدان میں بھی مسلمانوں کی رہنمائی کی۔  پارلیمنٹ میں اقلیتوں کے مسائل کو رکھتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن پارٹیوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ رحمن خان نے کہا کہ مولانا کا اچانک انتقال ملک و ملت کیلئے بڑا خسارہ  ہے۔

First published: Dec 08, 2018 04:40 PM IST