உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Meghalaya Police: بنگلہ دیش کی سرحد پر ’جہادیوں‘ کی ممکنہ نقل و حرکت، میگھالیہ پولیس چوکس

    خطرہ کے باعث احتیاط کی جارہی ہے۔

    خطرہ کے باعث احتیاط کی جارہی ہے۔

    Jihadi activities in Assam: ڈی جی پی نے مزید کہا کہ ’’ہم ان عناصر کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جو کہ جہادی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں‘‘۔ میگھالیہ کا بنگلہ دیش کے ساتھ تقریباً 434 کلومیٹر کا حصہ ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Assam | Bangladesh
    • Share this:
      Jihadi activities in Assam: آسام میں جہادی سرگرمیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد بنگلہ دیش کے ساتھ بین الاقوامی سرحد کے ساتھ تمام ضلعی پولیس اسٹیشنوں اور پولیس چوکیوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ میگھالیہ کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) ایل آر بشنوئی نے کہا کہ ریاستی پولیس سخت نگرانی کر رہی ہے۔

      ایل آر بشنوئی نے کہا کہ آسام میں جہادی سرگرمیوں کے بارے میں اطلاعات موصول ہونے کے بعد ہم نے تمام اضلاع اور پولیس اسٹیشنوں اور چوکیوں کو الرٹ کر دیا ہے، خاص طور پر ان علاقوں کی جن کی بنگلہ دیش سے سرحد ملتی ہے، وہاں سخت چوکسی کے لیے کہا گیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      Swiggy, Zomato جیسے ایپ سے آن لائن کھانا منگانا 60 فیصد تک مہنگا؟ سروے سے بڑا انکشاف

      یہ پوچھے جانے پر کہ کیا میگھالیہ میں سلیپر سیل فعال ہیں؟ اس پر ڈی جی پی نے کہا کہ اب تک کوئی ٹھوس معلومات ہمارے نوٹس میں نہیں آئی ہے۔ حال ہی میں آسام کے بارپیٹا ضلع میں دو افراد کو مبینہ طور پر جہادی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      مرد اس خاتون کو گڑیا کے طور پر سمجھتے ہیں لیکن حقیقی زندگی میں نہیں رکھنا چاہتا کوئی رشتہ، جانئے پورا ماجرا

      ڈی جی پی نے مزید کہا کہ ’’ہم ان عناصر کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جو کہ جہادی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں‘‘۔ میگھالیہ کا بنگلہ دیش کے ساتھ تقریباً 434 کلومیٹر کا حصہ ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: