உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پندرہ سال میں بھی تعمیر نہ ہو سکا مظفرپور میں اقلیتی ہاسٹل

    مظفر پور۔ بہارمیں ۱۹۹۹ میں اس وقت کی آرجے ڈی حکومت نے ہرضلع میں ایک اقلیتی ہاسٹل تعمیرکرنے کامنصوبہ بنایاتھا۔اسکے لیے ۲۰۰۰۔۱۹۹۹کے بجٹ میں رقمیں بھی الاٹ کی گئیں۔لیکن کچھ اضلاع میں آج تک اقلیتی ہاسٹل کی تعمیرمکمل نہیں ہوسکی ہے، انہیں میں سے ایک بہارکامظفرپورضلع بھی ہے۔

    مظفر پور۔ بہارمیں ۱۹۹۹ میں اس وقت کی آرجے ڈی حکومت نے ہرضلع میں ایک اقلیتی ہاسٹل تعمیرکرنے کامنصوبہ بنایاتھا۔اسکے لیے ۲۰۰۰۔۱۹۹۹کے بجٹ میں رقمیں بھی الاٹ کی گئیں۔لیکن کچھ اضلاع میں آج تک اقلیتی ہاسٹل کی تعمیرمکمل نہیں ہوسکی ہے، انہیں میں سے ایک بہارکامظفرپورضلع بھی ہے۔

    مظفر پور۔ بہارمیں ۱۹۹۹ میں اس وقت کی آرجے ڈی حکومت نے ہرضلع میں ایک اقلیتی ہاسٹل تعمیرکرنے کامنصوبہ بنایاتھا۔اسکے لیے ۲۰۰۰۔۱۹۹۹کے بجٹ میں رقمیں بھی الاٹ کی گئیں۔لیکن کچھ اضلاع میں آج تک اقلیتی ہاسٹل کی تعمیرمکمل نہیں ہوسکی ہے، انہیں میں سے ایک بہارکامظفرپورضلع بھی ہے۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      مظفر پور۔ بہارمیں ۱۹۹۹ میں اس وقت کی آرجے ڈی حکومت نے ہرضلع میں ایک اقلیتی ہاسٹل تعمیرکرنے کامنصوبہ بنایاتھا۔اسکے لیے ۲۰۰۰۔۱۹۹۹کے بجٹ میں رقمیں بھی الاٹ کی گئیں۔لیکن کچھ اضلاع میں آج تک اقلیتی ہاسٹل کی تعمیرمکمل نہیں ہوسکی ہے، انہیں میں سے ایک بہارکامظفرپورضلع بھی ہے۔ بہارمیں دوہزارپانچ میں آرجے ڈی سے اقتدارچھن گیا،لیکن بی جے پی اورجے ڈی یوکی اتحادی حکومت نے بھی،ریاست کے تمام اضلاع میں اقلیتی ہاسٹل کی تعمیرسے متعلق سابقہ حکومت کی اسکیم کوبرقراررکھا،جواب تک جاری ہے۔اقلیتی ہاسٹل کی تعمیرسے متعلق اسکیم کے عملاً آغازکو پندرہ سال ہوچکے ہیں۔لیکن آج بھی کچھ اضلاع میں ہاسٹل کی تعمیرمکمل نہیں ہوسکی ہے۔مظفرپورشہرمیں آج سے پندرہ سال قبل اقلیتی ہاسٹل کاسنگ بنیادرکھاگیا۔یہاں تک کہ عمارت کی دیواریں بھی تعمیرہوگئیں لیکن ان دیواروں کے اوپرآج تک چھت نہیں پڑسکی۔ انتہاتویہ ہے کہ وہ  نامکمل تعمیرات بھی اب بوسیدہ ہورہی ہیں۔دیواروں میں لگیں اینٹیں  بکھرنے لگی ہیں اوراس طرح مظفرپورضلع کا اقلیتی ہاسٹل مکمل طورپروجودمیں آنے سے قبل ہی فنا کی راہ پربہت دورتک جاچکاہے۔


      نتیش حکومت میں اقلیتی امورکے موجودہ وزیرعبدالغفورسے جب ای ٹی وی اردونے اس بابت سوال کیا توانہوں نے مظفرپورشہرمیں اقلیتی ہاسٹل کی تعمیرکی تکمیل نہ ہونے کے معاملے پرکمیٹی تشکیل دینے کاشوشہ چھوڑدیااورایک ذمہ داروزیرکے برعکس عام سیاست دانوں کی مانند طالبات کے لیے بھی ہاسٹل تعمیرکرائے جانے کی بات کہہ ڈالی۔   بہارمیں پٹنہ کے بعدسب سے اہم مقام مظفرپورشہرکا ہے۔تاریخی پس منظراوراقلیتوں کی قابل لحاظ آبادی کی بنیادپربھی اس شہرکوریاست میں متعارف ہونے والی اقلیتی اسکیموں کاقابل قدرفائدہ حاصل ہوناچاہیئے تھاجونہ ہوسکا۔اب دیکھنایہ ہے کہ نتیش کی نئی حکومت مظفرپورضلع میں اقلیتی ہاسٹل کی تعمیرکب مکمل کراپاتی ہے۔

      First published: