ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

کانگریس پرحملہ آور ہوئے مودی، حساب مانگ رہا ہوں تو پریشانی ہو رہی ہے

نئی دہلی۔ وزیر اعظم نریندر مودی آج آسام کے دورے پر ہیں اور انہوں نے کچھ دیر پہلے ہی کوکراجھار میں ریلی کی۔

  • IBN Khabar
  • Last Updated: Jan 19, 2016 05:21 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
کانگریس پرحملہ آور ہوئے مودی، حساب مانگ رہا ہوں تو پریشانی ہو رہی ہے
نئی دہلی۔ وزیر اعظم نریندر مودی آج آسام کے دورے پر ہیں اور انہوں نے کچھ دیر پہلے ہی کوکراجھار میں ریلی کی۔

نئی دہلی۔ وزیر اعظم نریندر مودی آج آسام کے دورے پر ہیں اور انہوں نے کچھ دیر پہلے ہی کوکراجھار میں ریلی کی۔ آسام میں اسمبلی انتخابات کے مدنظر وزیر اعظم کے اس دورے کو انتخابی بگل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مودی نے کوکراجھار ریلی میں کانگریس پر خوب حملہ بولا۔


مودی نے کہا کہ آج میں ترقی کی خاطر آپ لوگوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونے کے لئے آیا ہوں۔ اس فیصلہ کن وقت پر میں آسام میں ہوں۔ یہاں اتحاد اور ہم آہنگی کا ماحول دیکھنے کو ملا ہے اور اس کے لئے میں مقامی رہنماؤں کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔


کانگریس پر حملہ بولتے ہوئے مودی نے کہا کہ آپ کے ساتھ جو وعدہ خلافی ہوئی اس کا غصہ آپ کی طرف سے دیکھ رہا ہوں۔ آپ سے بس اتنا ہی کہوں گا کہ جو وعدہ کرتا ہوں اس کو پورا کرنے کے لئے جی جان سے جٹ جاتا ہوں۔ اس آسام نے ملک کو 10 سال وزیر اعظم دیا۔ یہاں کے لوگوں نے سوچا تھا کہ دقتیں دور ہوں گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔


آسام سے چن کر ہی منموہن سنگھ جی کو بھیجا تھا، وہ پندرہ سال میں کچھ نہیں کر پائے اور مجھ  سے توقع کرتے ہیں کہ 15 ماہ میں سب ہو جائے۔ کیا میرے ساتھ انصاف ہو رہا ہے، میرے سامنے کچھ باتیں کچھ وقت پہلے رکھی تھیں۔ آج بڑے اطمینان کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ آسام کے قبائل کو درج فہرست قبائل کے طور پر اعلان کرنے کی سفارش کر دی ہے۔ آنے والے کچھ وقت میں یہ منظور ہو جائے گا۔ کئی سالوں سے آپ کا مسئلہ تھا تو بتائیے کہ حل نکل رہا ہے کہ نہیں۔

جو اب تک لوٹا گیا ہے وہ بند ہو گیا ہے۔ اٹل جی کے وقت ڈونر منسٹری بنی، اٹل جی کی حکومت جانے کے بعد دو حکومت آئیں، انہوں نے کیا کیا، کیا آپ کو معلوم ہے، روپے آتے تھے لیکن زمین پر کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ راجیو گاندھی صحیح کہتے تھے کہ دہلی سے ایک روپیہ نکلتا ہے اور گاؤں تک جاتے جاتے 15 پیسے ہو جاتا ہے۔

آج کل دہلی میں بہت حساب مانگا جا رہا ہے۔ مودی حساب مانگ رہا ہے اس لئے پریشانی ہو رہی ہے۔ اپنے کام کا حساب نہ دینا اور حساب مانگے تو الٹا الزام لگانا شروع کر دینا۔ یہ عوام کا پیسہ ہے اور حساب میں مانگتا ہوں تو میں ان لوگوں کو برا لگتا ہوں۔ لیکن مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا۔ میرے پاس تین نکاتی پروگرام ہے پہلا ڈیولپمنٹ، دوسرا ڈیولپمنٹ ، تیسرا ڈیولپمنٹ۔
First published: Jan 19, 2016 05:21 PM IST