உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بچہ پیدا ہونے کے بعد ماں اور نومولود بچی کو تیل کی جگہ تیزاب سے کیا صاف، جسم پر پڑ گئے بھیانک چھالے

    bihar health system: متاثرہ سہاسنی نے بتایا کہ بچی کی پیدائش کے بعد تیل کی جگہ تیزاب سے صفائی کردی گئی جس سے اس کا پیٹ اور جسم کا دیگر متاثرہ حصہ جھلس گیا۔

    bihar health system: متاثرہ سہاسنی نے بتایا کہ بچی کی پیدائش کے بعد تیل کی جگہ تیزاب سے صفائی کردی گئی جس سے اس کا پیٹ اور جسم کا دیگر متاثرہ حصہ جھلس گیا۔

    bihar health system: متاثرہ سہاسنی نے بتایا کہ بچی کی پیدائش کے بعد تیل کی جگہ تیزاب سے صفائی کردی گئی جس سے اس کا پیٹ اور جسم کا دیگر متاثرہ حصہ جھلس گیا۔

    • Share this:
      مونگیر۔ بہار کے مونگیر ضلع سے ایک چونکا دینے والا سنگین واقعہ سامنے آیا ہے۔ primary health center میں ماں اور نومولود کو تیل کی بجائے تیزاب سے صاف کرنے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد سنسنی پھیل گئی ہے۔ واقعہ 9 دن پہلے کا ہے لیکن اب اس کا راز کھل کر سامنے آیا ہے۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت میں کھلبلی مچ گئی۔ سول سرجن نے primary health center کے انچارج کو ہدایت دی ہے کہ اے این ایم اور دیگر ذمہ دار ملازمین کے خلاف کارروائی کی جائے۔ تیل کی بجائے تیزاب سے صفائی کے بعد ماں نے جلن کی شکایت کی۔ اس کے بعد خاتون اور نومولود کو جلد بازی میں صدر اسپتال ریفر کر دیا گیا۔ بچی کی تشویشناک حالت کو دیکھتے ہوئے اسے صدر اسپتال سے بھی ریفر کر دیا گیا ہے۔

      معلومات کے مطابق، جمال پور تھانہ علاقہ کے بڑی دریا پور کے رہنے والے پنکج کمار کی بیوی سہاسنی کماری کو 22 مئی کو درد زہ کی تکلیف کے بعد جمال پور پرائمری ہیلتھ سینٹر میں داخل کرایا گیا تھا۔ جہاں اگلے دن 23 مئی کو سہاسنی نے آدھی رات کے بعد تقریباً 2:10 بجے بیٹی کو جنم دیا۔ ڈلیوری کے بعد، پرائمری ہیلتھ سینٹر میں تعینات اے این ایم نے صفائی کے لیے سرسوں کا تیل مانگا۔ سہاسنی کے اہل خانہ نے دیر رات تیل فراہم نہیں کر سکے جس کے بعد اے این ایم نے صفائی کارکن سے سامنے رکھی بوتل مانگی اور اس سے بچے اور خاتون کے جسم کو صاف کردیا۔

      OMG! یہاں بچیوں کے باندھ دئے جاتے تھے پاؤں، بھیانک درد دیکر مردوں کو خوش کرنا تھی وجہ....

      صفائی کرتے ہی خاتون اور نومولود کو شدید جلن ہونے لگی اور بچی رونے لگی۔ اس کے بعد سہاسنی نے جلن کی شکایت کی۔ دوسری جانب نومولود بچی کے جسم پر پھوڑے اور چھالے نمودار ہونے لگے۔ جمال پور ہیلتھ سینٹر کے اہلکاروں نے جلد بازی میں دونوں کو صدر اسپتال ریفر کر دیا۔ بچی کی تشویشناک حالت کو دیکھتے ہوئےصدر اسپتال کے ڈاکٹروں نے دونوں کو بہتر علاج کے لیے ہائیر سینٹر ریفر کردیا۔ اسی دوران رشتہ داروں نے دونوں کو مونگیر کے ایک پرائیویٹ کلینک میں داخل کرایا جہاں ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔

      Pakistan: ہر ہفتے دلہن بن کر تیار ہوتی ہے یہ خاتون، 16سال سے چل رہا ہے عجیب و غریب سلسلہ!

      متاثرہ سہاسنی نے بتایا کہ بچی کی پیدائش کے بعد تیل کی جگہ تیزاب سے صفائی کردی گئی جس سے اس کا پیٹ اور جسم کا دیگر متاثرہ حصہ جھلس گیا۔ اس نے بتایا کہ اس کی بچی کا پورا جسم جھلس گیا ۔ سہاسنی نے بتایا کہ جب حالات بگڑنے لگے تو انہیں نوزائیدہ کے ساتھ ریفر کر دیا گیا۔ نو دن کے بعد، اے وی بی پی کارکن شنکر کمار سنگھ، جنہوں نے یہ معاملہ اٹھایا، نے بتایا کہ یہ واقعہ 23 مئی کو ہوا، لیکن یہ لوگ علاج کے لیے گئے تھے۔ اس کی شکایت جمال پور پی ایچ سی کے انچارج سے کی گئی تو انہوں نے اپنی غلطی مان لی ہے۔ اس معاملے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: