ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

قومی یکجہتی کی انوکھی مثال ، مسلمانوں نے ہندؤ بھائیوں کیلئے بنایا پوجا پنڈال

بنگال کے دیہی علاقے سے ایک ایسی خبر آئی ہے جو ملک بھر میں قومی یکجہتی و ہم آہنگی کی سب سے بڑی مثال ہے اور بنگال میں فرقہ واریت پھیلانے والوں کو منھ توڑ جواب بھی ہے

  • UNI
  • Last Updated: Oct 05, 2016 10:16 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
قومی یکجہتی کی انوکھی مثال ، مسلمانوں نے ہندؤ بھائیوں کیلئے بنایا پوجا پنڈال
بنگال کے دیہی علاقے سے ایک ایسی خبر آئی ہے جو ملک بھر میں قومی یکجہتی و ہم آہنگی کی سب سے بڑی مثال ہے اور بنگال میں فرقہ واریت پھیلانے والوں کو منھ توڑ جواب بھی ہے

کولکاتہ : مغربی بنگال کے بیر بھوم کے کنگلا پہاڑی گاؤں میں در گا پوجاکیلئے پنڈال بنانے کی اجازت انتظامیہ کی جانب سے نہیں ملنے کی وجہ سے گرچہ کئی قومی میڈیا ہاؤسیز مغربی بنگال کے مسلمانوں اور ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت کی سخت تنقید کررہی ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ خبر کے صرف ایک پہلو کو ہی دکھایا جارہا ہے ۔مگر اس درمیا ن بنگال کے دیہی علاقے سے ایک ایسی خبر آئی ہے جو ملک بھر میں قومی یکجہتی و ہم آہنگی کی سب سے بڑی مثال ہے اور بنگال میں فرقہ واریت پھیلانے والوں کو منھ توڑ جواب بھی ہے۔مسلم اکثریتی گاؤں کے باشندوں نے اس سال اپنے بردران وطن کیلئے درگا پوجاکا پنڈال لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

مغربی بنگال کے بردوان ضلع کے دھرن گاؤں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔یہاں مدتوں سے درگا پوجا کا پنڈال نہیں لگایا جاتا ہے۔یہاں کی ہندوآبادی درگا پوجامنانے کیلئے ہر برس اپنے عزیز و اقارب کے یہاں چلے جاتی ہے اور درگا پوجا منانے کے بعد وہ گاؤں واپس آتے تھے۔مگر اس برس گاؤں کے باشندے شکور علی مرزا نے اپنے ہندؤں دوستوں کیلئے پوجا پنڈال بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس کی تائید گاؤں کی پوری آبادی نے کی۔

شکور علی نے کہا کہ ہر سال پوجا کے موقع پر یہاں کے ہندو بھائیوں کو تہوار منانے کیلئے دوسرے گاؤں جانا پڑتا ہے ۔ ہم لوگ کئی سالوں سے محسوس کررہے تھے کہ گاؤں کی ہندو آبادی اس کی وجہ سے غمزدہ رہتی ہے کہ انہیں پوجاکیلئے پنڈال لگانے کی اجازت نہیں ہے ۔اس لیے اس سال ہم لوگوں نے درگا پوجامنانے کا فیصلہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم عید ،عید الاضحی کی طرح درگا پوجا بھی ہندو بھائیوں کے ساتھ منانا چاہتے ہیں ۔اس میں کوئی سیاست نہیں ہے۔ہم مذہبی تعصب میں مبتلا نہیں ہیں ۔بردوان آرام باغ روڈ پر پوجا پنڈال بنایا جارہا ہے ۔

پوجاکمیٹی کے باسودیب کندو نے کہا کہ شکور علی نے ہمارے خوابوں کو پورا کردیا۔ہم سب کیلئے یہ خوشی کا خصوصی موقع ہے ۔ہندو اور مسلم دونوں مل کر کام کررہے ہیں ۔گاؤں کی یاسمین بی بی نے کہا کہ اس وقت گاؤں کی تمام خواتین چاہے وہ ہندو ہو یا مسلمان سب کے سب بہت ہی زیادہ مصروف ہیں ۔درگا پوجا کی تیاریوں میں ایک دوسرے کا تعاون کررہے ہیں ۔پوجا منڈپ اور بنڈال لگانے میں سب مل کر کام کررہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک بھر میں فرقہ واریت کو پھیلانے اور مذہب کے نام پر لوگوں کو تقسیم کرنے کی مذموم کوشش ہورہی ہے ایسے میں بردوان ضلع کے دھرن کے باشندوں نے ملک کے سامنے ایک بڑی مثال قائم کردی ہے۔

خیال رہے کہ مغربی بنگال کے بیربھوم ضلع کے کنگلا پہاڑی گاؤں سے متعلق قومی میڈیا بالخصوص ایک انگریزی نیوز چینل اور ایک ہندی نیوز چینل نے یہ خبر دکھلائی تھی کہ اس گاؤں میں ہندؤں کو پوجا پنڈال لگانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔اس خبر پر بحث و مباحثہ بھی کرایا گیا تھاکہ ۔اس کو دادری جیسے سنگین سانحہ سے موازنہ کیا گیا تھا۔

ممتا بنرجی پر ووٹ بینک کی سیاست کا الزام بھی عاید کیا گیا تھا ۔جب یہ خبر حقیقت سے بالکل برعکس تھی۔اس گاؤں میں1973سے ہی نہ مسلمانوں کو قربانی کرنے کی اجازت ہے اور نہ ہندؤں کو درگا پوجا کا پنڈال لگانے کی اجازت ہے۔اس گاؤں میں اکثریتی آبادی قبائلیوں کی ہے جنہیں اس سے کوئی سرو کار نہیں ہے۔
حالیہ چند برسوں میں مخصوص سیاسی جماعتوں کے لیڈروں اور کچھ انتہا پسند سوچ کے حاملین نے اس واقعہ کو فرقہ واریت کا رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں ۔جب کہ ریاستی کی بنگالی میڈیا بھی حکومت کے فیصلے کی حمایت کررہے ہیں کہ اس گاؤں میں مدت سے دونوں فریق کی رضامندی سے نہ قربانی کی اجازت ہے اور نہ پنڈال لگانے کی اجازت تو ا س کو موضوع بحث بناکر ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خطرے میں ڈالنا کسی زاویے سے مناسب نہیں ہے۔
First published: Oct 05, 2016 10:16 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading