ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار میں عظیم اتحاد کے مسلم لیڈروں نے اپنی ہی حکومت کے خلاف کھولا مورچہ

بہار کے دربھنگہ ضلع میں مسلمانوں کی کثیر آبادی ہے لیکن مسلم علاقوں کو کسی طرح کی کوئی بنیادی سہولت حاصل نہیں ہے۔

  • ETV
  • Last Updated: Oct 11, 2016 03:30 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بہار میں عظیم اتحاد کے مسلم لیڈروں نے اپنی ہی حکومت کے خلاف کھولا مورچہ
سینئر آر جے ڈی لیڈر علی اشرف فاطمی: فائل فوٹو

پٹنہ۔  بہار کے وزیراعلیٰ  نتیش کمار یوپی کے انتخابات میں اپنی موجودگی درج کرانے کے مقصد سے یہ نعرہ دے رہے ہیں کہ ان کی حکومت سبھی طبقہ کی ترقی کا کام کر رہی ہے جبکہ بہار میں مسلمانوں کے مسئلہ کو نظرانداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے خود عظیم اتحاد کے مسلم لیڈروں نے حکومت کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے۔ مسلم لیڈروں کے مطابق موجودہ حکومت اقلیتی علاقوں کے مسئلہ تک کو حل کرا پانے میں اب تک ناکام رہی ہے۔


 بہار کے دربھنگہ ضلع میں مسلمانوں کی کثیر آبادی ہے لیکن مسلم علاقوں کو کسی طرح کی کوئی بنیادی سہولت حاصل نہیں ہے۔ 85 فیصدی ووٹ عظیم اتحاد کے جھولی میں ڈالنے کے

بعد بھی ضلع کے مسلم سماج کو ترقی کے نام پر کچھ نہیں ملا ہے۔ اس سے ناراض عظیم اتحاد کے مسلم لیڈروں نے حکومت کے خلاف احتجاج کیا ہے۔مسلم سیاسی لیڈروں کو اس بات پر بھی افسوس ہے کہ صوبہ کی سیاست میں پہلی بار مسلم لیڈروں کو پوری طرح سے نظرانداز کیا جارہا ہے۔ جنہیں وزارت کی کرسی ملی بھی ہے وہ پوری طرح سے مسلم مسائل پر خاموش ہیں۔


سابق مرکزی وزیر علی اشرف فاطمی کے مطابق موجودہ حکومت مسلم سیاسی لیڈروں کو یا تو جیل بھیجنے کوشش میں لگی ہے یا پھر انہیں حاشیہ پر رکھا جارہا ہے۔ اقلیتوں کے ووٹوں کے دم پر اقتدار حاصل کرنے والی سیاسی جماعتوں میں مسلم لیڈروں کے اس بیان سے بے چینی  بڑھےگی یا نہیں،  لیکن ان کے اس بیان سے یہ ضرور صاف ہوگیا ہے کہ حکومت مسلمانوں کے مسائل کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے۔


water


ادھر سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اقلیتوں کے بنیادی مسئلہ کو حل کرنے کے بجائے حکومت نوجوانوں کے ہاتھوں میں سلائی مشین تھما رہی ہے۔  دربھنگہ میں 22 فیصدی آبادی مسلمانوں کی ہے جبکہ خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے لوگوں کی تعداد 60 فیصدی سے زیادہ ہے، 50 فیصدی لوگ  مزدور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادھر مسلم علاقوں میں مہینوں بارش کا پانی جما رہتا ہے۔  گندگی اور بدبو سے لوگوں کا جینا محال ہے۔ پینے کا صاف پانی تک دستیاب نہیں ہے لیکن حکومت کا دعویٰ ہے کہ صوبہ میں مسلمانوں کی ترقی ہورہی ہے۔

First published: Oct 11, 2016 03:30 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading