ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

سیاسی نمائندگی اور وزارت کی مانگ کے سامنے مسلمانوں نے نہیں کی اپنے بنیادی مسائل کو حل کرانے کی کوشش ، آل انڈیا یونائٹیڈ مسلم مورچہ کا بڑا بیان

آل انڈیا یونائٹید مسلم مورچہ نے مسلمانوں کے مسیحا بنے لوگوں کو ہی کٹگھرے میں کھڑا کیا ہے ۔ دلت مسلم مورچہ کے مطابق مسلمانوں کی بڑی آبادی چھوٹا موٹا کام کر کے ملک کی خدمات میں مصروف ہے ، لیکن کبھی بھی ان عام لوگوں کے مسئلہ کو حل کرانے کے تعلق سے سماج کا ذمہ دار طبقہ اس طرح کا بحث نہیں کراتا ہے ، جس طرح سے سیاسی نمائندگی اور وزارت کا مسئلہ اٹھایا جاتا ہے۔

  • Share this:
سیاسی نمائندگی اور وزارت کی مانگ کے سامنے مسلمانوں نے نہیں کی اپنے بنیادی مسائل کو حل کرانے کی کوشش ، آل انڈیا یونائٹیڈ مسلم مورچہ کا بڑا بیان
سیاسی نمائندگی کے سامنے مسلمانوں نے نہیں کی اپنے بنیادی مسائل کو حل کرانے کی کوشش

بہار میں مسلم وزیر نہیں بنائے جانے کا معاملہ سرخیوں میں ہے ۔ سیاسی لیڈروں کے ساتھ ساتھ مسلم تنظیموں نے اس معاملہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ اس تعلق سے نتیش کمار سے بار بار اپیل کی جارہی ہے کہ ریاست کی سترہ فیصدی آبادی کا کوئی نمائندہ حکومت میں نہیں ہونا ایک طرح سے مسلم آبادی کو حاشیہ پر رکھنے کی کاروائی ہے۔ ادھر آل انڈیا یونائٹید مسلم مورچہ نے مسلمانوں کے مسیحا بنے لوگوں کو ہی کٹگھرے میں کھڑا کیا ہے ۔ دلت مسلم مورچہ کے مطابق مسلمانوں کی بڑی آبادی چھوٹا موٹا کام کر کے ملک کی خدمات میں مصروف ہے ، لیکن کبھی بھی ان عام لوگوں کے مسئلہ کو حل کرانے کے تعلق سے سماج کا ذمہ دار طبقہ اس طرح کا بحث نہیں کراتا ہے ، جس طرح سے سیاسی نمائندگی اور وزارت کا مسئلہ اٹھایا جاتا ہے۔


مورچہ کا کہنا ہے کہ سائکل پنکچر سے لیکر چکن بیچنے اور چپل بنانے تک کا کام مسلمان کرتے ہیں ۔ کپڑے کی سلائی سے لے کر لوگوں کی عام زندگی سے وابستہ تمام کام مسلمان کرتے ہیں ، لیکن ان غریب مسلمانوں کی تعلیمی ، سماجی اور اقتصادی مسائل کس طرح سے حل ہوں گے ، اس پر سماج کا وہ طبقہ جو وزارت کی کرسی کو ہی دیکھنے میں اپنا وقت گزارتا رہا ہے ، کبھی بھی سنجیدہ نہیں ہوتا ہے۔ آل انڈیا یونائٹیڈ مسلم مورچہ کے مطابق مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ روزی روٹی اور تعلیم سے جڑا ہے ، لیکن حکومت کے سامنے مسلمانوں کا ایک طبقہ صرف سیاسی نمائندگی کا معاملہ اٹھا کر مسلمانوں کو اس میں الجھاتا رہا ہے۔ بی جے پی کا خوف دیکھا کر اپنا الو سیدھا کرنے والے لوگوں کو مسلمانوں کے مسائل پر بھی بحث کرانی چاہئے ، لیکن اس کام میں جدوجہد ہے اور مسلمانوں کی موجودہ قیادت جدوجہد کرنے کی بجائے سیاسی کرسی کو دیکھ کر ہی خوش ہو جاتی ہے۔


آل انڈیا یونائٹیڈ مسلم مورچہ کے قومی صدر ڈاکٹر اعجاز علی نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے اپیل کی کہ وزارت میں مسلمان کو جگہ دیں یا نہ دیں ، یہ ان کا مسئلہ ہے ۔ لیکن غریب مسلمانوں کی فلاح و بہبود کو لے کر حکومت ضرور سنجیدہ کوشش کرے ۔ تاکہ سماج کے ایک بڑے طبقہ کی زندگی کو پٹری پر لانے میں مدد مل سکے ۔ ادھر پٹنہ میں قومی اقلیتی ریزویشن مورچہ نے ایک پریس کانفرنس کر نتیش کمار سے مسلم وزیر بنانے کی مانگ کی ہے۔ مورچہ کا کہنا ہے کہ انتخابات کے درمیان مسلمانوں نے جے ڈی یو کو ووٹ دیا ہے ، اب حکومت کی باری ہے کہ وہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی ترقی کے سلسلے میں ٹھوس اقدامات کرے۔


ریزرویشن مورچہ کے مطابق نتیش کمار بہار کے لئے ایک بہتر وزیر اعلیٰ کے طور پر لگاتار کام کرتے رہے ہیں ۔ مسلمانوں نے بھی ان کے کام پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ان کے امیدواروں کو مسلم سماج کا ووٹ بھی ملا ہے ، ایسے میں این ڈی اے حکومت سے مسلم سماج بھی اپنی ترقیاتی کام کی پوری امید رکھتا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Nov 25, 2020 10:40 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading