உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مظفر پور : مجاہدین آزادی کی اہم میٹنگوں کی گواہ رہ چکی مسلم لائبریری آج بھی ایک ہال تک ہی محدود

    مظفرپور : بہارکے مظفرپورشہرمیں آزادی سے قبل کی قائم شدہ مسلم لائبریری حکومت کی بے اعتنائی کا شکار ہے اور اس کی حالت رفتہ رفتہ مزید خستہ ہوتی جارہی ہے۔

    مظفرپور : بہارکے مظفرپورشہرمیں آزادی سے قبل کی قائم شدہ مسلم لائبریری حکومت کی بے اعتنائی کا شکار ہے اور اس کی حالت رفتہ رفتہ مزید خستہ ہوتی جارہی ہے۔

    مظفرپور : بہارکے مظفرپورشہرمیں آزادی سے قبل کی قائم شدہ مسلم لائبریری حکومت کی بے اعتنائی کا شکار ہے اور اس کی حالت رفتہ رفتہ مزید خستہ ہوتی جارہی ہے۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      مظفرپور : بہارکے مظفرپورشہرمیں آزادی سے قبل کی قائم شدہ مسلم لائبریری حکومت کی بے اعتنائی کا شکار ہے اور اس کی حالت رفتہ رفتہ مزید خستہ ہوتی جارہی ہے۔ 1941 میں وجود میں آئی یہ لائبریری آج بھی محض ایک ہال تک ہی محدود ہے ۔ جبکہ لائبریری کے بانی اسے ملک کی مایہ نازلائبریری کے طورپردیکھناچاہتے تھے۔


      شہرکےسعدپورہ محلے میں مین روڈ کے کنارے قائم یہ لائبریری جغرافیائی اعتبارسے شہر کے مرکزمیں ہے۔ یہاں سے باباصاحب بھیم راؤ امبیڈکر بہاریونیورسٹی اوراس سے ملحق کئی کالجزبالکل قریب ہیں۔ مظفرپورریلوے اسٹیشن، کلکٹریٹ اوردیگراہم دفاتربھی آس پاس ہیں۔


      اس لائبریری کو حکیم اظہرحسین نے قائم کیا تھا ۔ بتایا جاتا ہے کہ بانی لائبریری کے پاس ایک بگھی تھی، جس میں بیٹھ کر مظفرپورشہرکے مختلف محلوں سے قارئین لائبریری آتے تھے۔ قارئین کے لیے سواری کی یہ سہولت مفت تھی۔ اظہرحسین کے زمانے میں لائبریری میں بھوج پترپرلکھی ہوئی رامائن سمیت دیگرکئی نادر و نایاب کتابیں بھی تھیں۔ حکیم اظہر حسین نے کئی کتابیں مصرکے جامعہ اظہرسے بھی منگائیں تھیں۔


      لائبریری کی بنیاد1941 میں 10 نومبرکورکھی گئی تھی۔اس وقت جنگ آزادی اپنے شباب پرتھی۔ لائبریری کے قیام کے کچھ ہی ماہ بعد1942 میں بھارت چھوڑوتحریک شروع ہوئی۔ مظفرپورکی مسلم لائبریری کے قارئین نے بھی بھارت چھوڑوتحریک میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔ ملک کی آزادی یعنی 1947 تک لائبریری سیکڑوں مجاہدین آزادی کے لیے مطالعے اورمیٹنگوں کی اہم جگہ بنی رہی۔


      مظفرپور کی یہ مسلم لائبریری نیتاجی سبھاش چندربوس اوردیگرکئی بڑے لیڈروں کی میٹنگوں کی گواہ رہی ہے۔ 1964میں حکیم اظہرحسین کاانتقال ہوگیا۔انکے بعدانکے چھوٹے صاحب زادہ فاروق اعظم نے لائبریری کواپنے والدکے طریقہ کارپرچلایا۔ 1977میں فاروق اعظم اللہ کوپیارے ہوگئے۔


      فاروق اعظم کے انتقال کے بعدسعدپورہ محلے کے شرپسندعناصرنے لائبریری پرقبضہ کرلیا۔تمام کتابیں بربادکردی گئیں اورلائبریری کے احاطے میں گیریج چلنے لگا۔2013 میں مظفرپور شہرکے معززاورباشعورافرادنے لائبریری کوشرپسندوں کے قبضے سے آزاد کرانے کی مہم شروع کی اوربالآخراسی سال رمضان کے مہینہ میں مسلم لائبریری پھرسےکام کرنے لگی۔


      لائبریری چلانے کے لیے نئی کمیٹی تشکیل دی گئی اورلائبریری کی زمین کااندراج بہاراسٹیٹ سنی وقف بورڈمیں کرادیاگیا ہے۔

      First published: