உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مظفرپور کے رام باغ محلہ کی مسجد تنازع کی شکار ، سکریٹری کو ہٹانےکا مطالبہ

    مسجد کے پاس مظفرپورشہرمیں بارہ بیگہہ سے زیادہ زمین ہے۔ مسجد کی سالانہ آمدنی تقریباً سات لاکھ روپے ہے۔ رام باغ محلے کے کئی افراد کا الزام ہے کہ مسجد کے موجودہ سکریٹری مسجد کی املاک کی بندربانٹ کر رہے ہیں

    مسجد کے پاس مظفرپورشہرمیں بارہ بیگہہ سے زیادہ زمین ہے۔ مسجد کی سالانہ آمدنی تقریباً سات لاکھ روپے ہے۔ رام باغ محلے کے کئی افراد کا الزام ہے کہ مسجد کے موجودہ سکریٹری مسجد کی املاک کی بندربانٹ کر رہے ہیں

    مسجد کے پاس مظفرپورشہرمیں بارہ بیگہہ سے زیادہ زمین ہے۔ مسجد کی سالانہ آمدنی تقریباً سات لاکھ روپے ہے۔ رام باغ محلے کے کئی افراد کا الزام ہے کہ مسجد کے موجودہ سکریٹری مسجد کی املاک کی بندربانٹ کر رہے ہیں

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:
      مظفرپور : بہارکے مظفرپورشہر میں رام باغ محلہ کی مسجد مظفرپورضلع کی سب سے دولت مند مسجد سمجھی جاتی ہے۔ مسجد کے پاس مظفرپورشہرمیں بارہ بیگہہ سے زیادہ زمین ہے۔ مسجد کی سالانہ آمدنی تقریباً سات لاکھ روپے ہے۔ رام باغ محلے کے کئی افراد کا الزام ہے کہ مسجد کے موجودہ سکریٹری مسجد کی املاک کی بندربانٹ کر رہے ہیں۔
      مسجد کی اس اراضی کولے کرمسلمانوں کے ہی دوگروپوں کے درمیان تنازع چل رہا ہے۔ رام باغ محلہ کی مسجد کمیٹی کے سکریٹری کی مبینہ بدعنوانی کے پیش نظرکمیٹی کے 13 ارکان میں سے چھ نے استعفی دے دیا ہےجبکہ ایک رکن کی موت ہوچکی ہے۔ اس طرح کمیٹی میں اب آدھے سے بھی کم ممبران رہ گئے ہیں۔
      کئی مقامی افراد ضلع وقف کمیٹی سے رام باغ مسجد کے سکریٹری کو ہٹانے اورنئی کمیٹی تشکیل دیے جانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ تاہم رام باغ مسجد کمیٹی کے سکریٹری نے اپنے اوپرعائد تمام الزامات کوسازش قراردیا ہے۔
      قابل ذکر ہے کہ مظفرپور شہر کے رام باغ محلہ کی مسجد کی ساری زمینیں کافی قیمتی اوربہترین جگہوں پر واقع ہیں۔ مسجد کی املاک بہاراسٹیٹ سنی وقف بورڈ میں حاجی خدابخش وقف اسٹیٹ 1190 کی ہیڈنگ سے رجسٹرڈ ہیں ۔ مسجد کی زمین پر300 سے زیادہ رہائشی مکانات ہیں، جن میں سے کچھ مکانوں سے کرایہ آتا ہے اورکچھ مکانات مقامی مسلمانوں کے قبضے میں ہیں ۔ جن مکانوں سے کرایا آتا ہے ، تووہ بھی برائے نام ہی آتا ہے۔ جبکہ مظفرپورشہرکے مرکزی علاقوں میں مکان کا کرایہ ملک کے بڑے شہروں دہلی، ممبئی اورحیدرآباد سے کم نہیں ہے۔
      First published: