உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ناردا کیس : گرفتاری کے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد چاروں ٹی ایم سی لیڈروں کو ملی ضمانت

    ناردا کیس : گرفتاری کے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد چاروں ٹی ایم سی لیڈروں کو ملی ضمانت

    ناردا کیس : گرفتاری کے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد چاروں ٹی ایم سی لیڈروں کو ملی ضمانت

    Narada Case: ناردا اسٹنگ معاملہ میں سی بی آئی نے ترنمول کانگریس کے تین ممبران اسمبلی اور پارٹی کے ایک سابق لیڈر کو گرفتار کرنے کے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد عبوری ضمانت پر رہا کردیا ہے ۔

    • Share this:
      کولکاتہ : ناردا اسٹنگ معاملہ میں مرکزی جانچ ایجنسی ( سی بی آئی ) نے ترنمول کانگریس کے تین ممبران اسمبلی اور پارٹی کے ایک سابق لیڈر کو گرفتار کرنے کے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد عبوری ضمانت پر رہا کردیا ہے ۔ ناردا اسٹنگ کیس میں سی بی آئی نے ان سبھی لیڈروں کو پیر کی دوپہر میں ہی گرفتار کیا تھا ۔ ان لیڈروں کے خلاف سی بی آئی چارج شیٹ داخل کرنے والی تھی ۔ اس معاملہ میں کچھ لیڈروں کے مبینہ طور پر روقم لئے جانے کے معاملہ کا انکشاف ہوا تھا ۔

      سی بی آئی ٹیم نے پیر کو ممتا بنرجی سرکار میں کابینہ وزیر فرہاد حکیم ، سبرت مکھرجی ، ممبر اسمبلی مدن مترا اور سابق میئر شوبھن چٹرجی کو گرفتار کیا تھا ۔ اپنے وزرا اور ممبران اسمبلی کی گرفتار سے بھڑکیں وزیر اعلی ممتا بنرجی سی بی آئی دفتر میں ہی دھرنے پر بیٹھ گئی تھیں ۔


      وہیں ٹی ایم سی کے سینئر لیڈروں کی اس طرح گرفتاری کے بعد سے پارٹی کارکنان سی بی آئی دفتر کے باہر احتجاج کررہے تھے ۔ سی بی آئی آفس کے باہر موجود بھیڑ نعرے بازی اور دھمکا مکی کرتی نظر آئی ، جس کے بعد وہاں دفتر کی سیکورٹی کیلئے مرکزی سیکورٹی فورسیز کو تعینات کیا گیا ہے ۔

      اس درمیان بی جے پی ریاستی صدر دلیپ گھوش نے الزام لگایا ہے کہ ممتا بنرجی ریاست میں انارکی پھیلا رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سی بی آئی نے یہ گرفتاری عدالت کے کہنے پر کی ہے ۔ کیا ٹی ایم سی کو عدالت پر بھی بھروسہ نہیں ہے ۔

      اس سے پہلے چاروں لیڈروں کو پیر کی صبح کولکاتہ کے نظام پیلیس میں سی بی آئی دفتر لے جایا گیا ۔ ان لیڈروں کی گرفتار کی خبریں آنے کے فورا بعد مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی اپنے لیڈروں کے ساتھ سی بی آئی دفتر پہنچ گئیں ۔ اس دوران انہیں سی بی آئی افسران سے یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ وہ انہیں بھی گرفتار کرلیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: