ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بیف کو لے کر تشدد پر بی جے پی لیڈر کا طنز ، بکری کا گوشت کھانا بھی چھوڑ دیں ہندو

سی کے بوس نے ٹویٹ کیا کہ اگر لوگوں کو بیف کھانے پر مارا جاتا ہے تو انہیں بکری کھانی بھی چھوڑ دینی چاہئے ۔

  • Share this:
بیف کو لے کر تشدد پر بی جے پی لیڈر کا طنز ، بکری کا گوشت کھانا بھی چھوڑ دیں ہندو
بی جے پی لیڈر چندر کمار بوس

نیتا جی سبھاش چندر بوس کے پڑپوتے اور بی جے پی لیڈر چندر کمار بوس نے بیف بین پر طنز کیا ہے۔ سی کے بوس نے ٹویٹ کیا کہ اگر لوگوں کو بیف کھانے پر مارا جاتا ہے تو انہیں بکری کھانی بھی چھوڑ دینی چاہئے ۔ گائے کو ماتا بتایا جاتا ہے اور اس کا گوشت نہیں کھایا جاتا ، اس طرح بکری بھی تو دودھ دیتی ہے ۔ گاندھی جی بھی بکری کا دودھ پیا کرتے تھے ، اس لئے بکری کو ماتا مانتے ہوئے ہندووں کو اس کا گوشت کھانا بھی چھوڑ دینا چاہئے ۔

سی کے بوس کے اس بیان کو گائے کے نام پر ہورہی موب لنچنگ کے واقعات سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے ۔ بوس کے اس بیان کو لے کر سوشل میڈیا پر انہیں ٹرول بھی کیا جارہا ہے ۔

نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطاق سی کے بوس نے کہا کہ بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں گئو کشی کے نام پر موب لنچنگ کے واقعات میں اضافہ سے پورا ملک پریشان ہے۔ گاندھی جی جب کولکاتہ آتے تھے ، تو وہ میرے بابا شرت چندر بوس کے ووڈبرن پارک میں واقع گھر پر ہی ٹھہرتے تھے ۔ انہوں نے ہی بکری کا دودھ پینے کی مانگ کی تھی ۔




سی کے بوس نے کہا کہ گاندھی جی کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے گھر پر دو بکریوں کو لایا گیا تھا ۔ بکری کا دودھ پینے کی وجہ سے گاندھی جی اس کو ماں کا درجہ دیتے تھے ، اس لئے ہندووں کو بکری کا گوشت کھانا چھوڑ دینا چاہئے۔
First published: Jul 28, 2018 02:21 PM IST