ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

نیوز18 اردو اسپیشل :بہار میں وزیراعلیٰ نیتش کمار کی اردو دوستی پر اٹھ رہے ہیں سوالات

بہار میں چار دہائی سے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے ۔لیکن اب تک اردو کو انصاف نہیں ملا سکا ۔ اردو اساتذہ کی تقرری کا اعلان صرف زبانی جمع خرچ بن گیاہے۔ اردو داں طبقہ نیتش حکومت سے ناراض ہے۔

  • Share this:
نیوز18 اردو اسپیشل :بہار میں وزیراعلیٰ نیتش کمار کی اردو  دوستی پر اٹھ رہے ہیں سوالات
بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار: فائل فوٹو

بہار میں اردو آبادی کو خوش کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اردو کی ترقی کا دعویٰ کرتے رہے ہیں لیکن صوبہ کی اقلیتی تنظیموں نے اردو کے معاملے پر ایک بڑا سوال کھڑا کیا ہے۔ اقلیتی تنظیموں کے مطابق اردو کے سلسلے میں حکومت کا اعلان محض پانی کا بل بلا ثابت ہوتا رہا ہے۔ دراصل بہار میں اقتدار میں آتے ہی نتیش کمار نے اردو آبادی کو خوش کرنے کی مہم شروع کی تھی۔ جس میں اردو کی ترقی کے ساتھ ساتھ صوبہ کے تمام اسکولوں میں اردو اساتذہ کی خالی اسامیوں پربھرتی کرنے کا اعلان کیاگیا تھا۔ تقریباً 15 ہزار اردو اساتزہ کی بحالی کی گئی لیکن سبھی اسکولوں میں اردو اساتذہ کو بحال کرنے کا نشانہ پورا نہیں ہوا۔ریاست کےنصف اسکولوں میں اردو کے ٹیچر ہی نہیں ہیں۔


امارت شرعیہ بہار کے جنرل سکریٹری مولانا شبلی قاسمی۔(تصویر:محفوظ عالم)۔
ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کے چیئرمین مولانا انیس الرحمان قاسمی۔(تصویر:محفوظ عالم)۔


گزشتہ15سال سے جےڈی یو، وزیر اعلیٰ کے سابقہ اعلان کا حوالہ دیکر اردو آبادی کو خوش کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ لیکن اب اقلیتی تنظیموں نے حکومت کو کٹگھرے میں کھڑا کیا ہے۔ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کے چیئرمین مولانا انیس الرحمان قاسمی نے کہا ہے کہ حکومت کی اب پول کھل رہی ہے۔ واضح ہے کہ ریاست میں حکومت سے تعلق رکھنے والے اردو اداروں کی حالت بھی ناگفتبہ ہے۔ اردو اکیڈمی 2 سال سے تحلیل ہے تو اردو مشاورتی کمیٹی ایک سال سے تشکیل نہیں دی گئی ہے۔ وہیں ٹی ای ٹی اردو میں کامیابی حاصل کرنے والے امیدواروں کو نوکری نہیں مل رہی ہے۔ امارت شرعیہ بہار کے جنرل سکریٹری مولانا شبلی قاسمی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اردو کے معاملے پر ایک غیر سیاسی کمیٹی کی تشکیل کی جائے اور اسکی روشنی میں بہار حکومت اردو کا کام کرے۔


بہار میں اردو آبادی کو خوش کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اردو کی ترقی کا دعویٰ کرتے رہے ہیں لیکن صوبہ کی اقلیتی تنظیموں نے اردو کے معاملے پر ایک بڑا سوال کھڑا کیا ہے۔
بہار میں اردو آبادی کو خوش کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اردو کی ترقی کا دعویٰ کرتے رہے ہیں لیکن صوبہ کی اقلیتی تنظیموں نے اردو کے معاملے پر ایک بڑا سوال کھڑا کیا ہے۔


1981 میں اردو کو بہار کی دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیاگیا تھا۔ تب اردو کے نام پر ایک بڑی تحریک چل رہی تھی اور بہار اسمبلی انتخاب کا اردو انتخابی مدّعہ بناتھا۔ اس کے بعد ریاست میں ہونے والے سبھی انتخابات میں اردو پر سیاست ہوتی رہی ہے۔ سابقہ لالو پرساد اور رابڑی دیوی کی حکومت میں بھی اردو پر سیاست ہوتی رہی ہے اور موجودہ نتیش کمار بھی اردو کے نام پر محبان اردو کو صرف اعلان اور نعروں سے ہی خوش کرتے رہے ہیں۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ صوبہ کے نصف سے زیادہ اسکولوں میں اردو کی آسامیاں کئی سالوں سے خالی ہے وہیں اردو کے سرکاری اداروں کی تشکیل تک نہیں ہوپارہی ہے۔

بہار میں اردو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بڑی آبادی ہے۔ انتخابی سال میں اردو آبادی کی ناراضگی کا اثر خاص طور سے جےڈی یو پر پڑ سکتا ہے۔ اقلیتی تنظیموں نے نتیش کمار کو مشورہ دیا ہے کہ حکومت کو اردو کے معاملے میں اپنی خاموشی توڑنی چاہئے انکے مطابق صرف نعرہ لگانے کے بجائے حکومت کو عملی طور پر بھی کچھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

بہاراردو اکیڈمی 2 سال سے تحلیل ہے تو اردو مشاورتی کمیٹی ایک سال سے تشکیل نہیں دی گئی ہے۔
بہاراردو اکیڈمی 2 سال سے تحلیل ہے تو اردو مشاورتی کمیٹی ایک سال سے تشکیل نہیں دی گئی ہے۔


یہ بھی  دیکھیں : ایران:مجھے 13سال سے ٹی وی پرجھوٹ بولنے پرمعاف کردیاجائے،سرکاری ٹی وی اینکر نے دیااستعفیٰ

یہ بھی پڑھیں : نیشنل ڈیجیٹل لائبریری آف انڈیا :پہلی جماعت سے ریسرچ تک مطالعہ کی بے مثال سہولت

 

 
First published: Jan 15, 2020 07:00 PM IST