உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جمہوریت مضبوط ہونے پر ہی غریب اور پسماندہ طبقے مضبوط ہوں گے: نتیش

    پٹنہ: بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے آج کہا کہ جب پارلیمانی جمہوریت مضبوط ہوگی، تبھی غریب اور پسماندہ طبقےمضبوط ہوں گے۔ مسٹرنتیش کمار نے یہاں بہار اسمبلی کے یوم تاسیس کی تقریب کے ساتھ قانون ساز کونسل کے ارکان کے پروگرام کا افتتاح کرنے کے بعد نو منتخب اراکین اسمبلی کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں اس بار 98 رکن پہلی بار انتخابات جیت کر آئے ہیں۔ پہلی بار جیت کر آنے والے ارکان کو کام انجام دینے کی بہتر معلومات ہونی چاہیے اور اسی کو دیکھتے ہوئے نومنتخب ارکان کی روشن خیالی کا پروگرام منعقد کیا گیا ہے۔

    پٹنہ: بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے آج کہا کہ جب پارلیمانی جمہوریت مضبوط ہوگی، تبھی غریب اور پسماندہ طبقےمضبوط ہوں گے۔ مسٹرنتیش کمار نے یہاں بہار اسمبلی کے یوم تاسیس کی تقریب کے ساتھ قانون ساز کونسل کے ارکان کے پروگرام کا افتتاح کرنے کے بعد نو منتخب اراکین اسمبلی کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں اس بار 98 رکن پہلی بار انتخابات جیت کر آئے ہیں۔ پہلی بار جیت کر آنے والے ارکان کو کام انجام دینے کی بہتر معلومات ہونی چاہیے اور اسی کو دیکھتے ہوئے نومنتخب ارکان کی روشن خیالی کا پروگرام منعقد کیا گیا ہے۔

    پٹنہ: بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے آج کہا کہ جب پارلیمانی جمہوریت مضبوط ہوگی، تبھی غریب اور پسماندہ طبقےمضبوط ہوں گے۔ مسٹرنتیش کمار نے یہاں بہار اسمبلی کے یوم تاسیس کی تقریب کے ساتھ قانون ساز کونسل کے ارکان کے پروگرام کا افتتاح کرنے کے بعد نو منتخب اراکین اسمبلی کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں اس بار 98 رکن پہلی بار انتخابات جیت کر آئے ہیں۔ پہلی بار جیت کر آنے والے ارکان کو کام انجام دینے کی بہتر معلومات ہونی چاہیے اور اسی کو دیکھتے ہوئے نومنتخب ارکان کی روشن خیالی کا پروگرام منعقد کیا گیا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      پٹنہ: بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے آج کہا کہ جب پارلیمانی جمہوریت مضبوط ہوگی، تبھی غریب اور پسماندہ طبقےمضبوط ہوں گے۔ مسٹرنتیش کمار نے یہاں بہار اسمبلی کے یوم تاسیس کی تقریب کے ساتھ قانون ساز کونسل کے ارکان کے پروگرام کا افتتاح کرنے کے بعد نو منتخب اراکین اسمبلی کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں اس بار 98 رکن پہلی بار انتخابات جیت کر آئے ہیں۔ پہلی بار جیت کر آنے والے ارکان کو کام انجام دینے کی بہتر معلومات ہونی چاہیے اور اسی کو دیکھتے ہوئے نومنتخب ارکان کی روشن خیالی کا پروگرام منعقد کیا گیا ہے۔


      وزیر اعلی نے کہا کہ لوگوں نے جنہیں اپنا نمائندہ منتخب کرکے بھیجا ہے انہیں کس طرح سے عوامی مسائل کے سوالوں کو ایوان کے اندر اٹھانا چاہئے اور ایوان کی کارروائیوں کے سلسلے میں بھی معلومات ہونی چاہئے۔ نو منتخب ارکان کے لئے اس طرح کا یہ پہلا تجربہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ نو منتخب ارکان کے دماغ میں اگر کسی بھی طرح کا سوال ہو تو وہ بلا جھجک اس کو ایوان میں پوچھ سکتے ہیں۔


      مسٹرنتیش کمار نے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنی بات رکھنی چاہئے۔ انہیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ وہ بھی سب کچھ جانتے ہیں اور سوال کو اگلے سیشن میں اٹھانے کے انتظار میں نہیں رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہيں کہ پارلیمانی روایت میں اراکین ماہر ہو جائیں ۔


      وزیر اعلی نے کہا کہ کسی بھی موضوع پر بامعنی خیال رکھنے چاہئے۔ کامیاب ہونے کے لئے واضح اور بامعنی خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام جلسے اور پارلیمانی اداروں میں اظہار خیال کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ پارلیمانی اداروں میں شرائط و ضوابط کے مطابق ہی خیالات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اسمبلی کی کارروائی کے دستور العمل کو بغور پڑھنے کی ضرورت ہے۔


      مسٹرنتیش کمار نے کہا کہ اسمبلی کی کارروائی کے دستور العمل کی سمجھ ہونے پر اراکین اسمبلی کو کب سوال پوچھنا چاہئے، اس کی انہیں معلومات مل ہوجائے گی۔ ایوان میں اسپیکر پر ارکان کی نگاہیں ٹکی رہتی ہیں اور اس پر بیٹھے کوئی بھی شخص سب کو اصول کے مطابق بولنے کا موقع دیتے ہیں۔ ارکان کو غیر متعلقہ باتیں پوچھنے سے گریز کرنا چاہئے۔


      وزیر اعلی نتیش کمارنے کہا کہ اورینٹیشن پروگرام سے جمہوری قوانین کی معلومات ہوتی ہے۔ وقفہ سوالات اور وقفہ صفر کے بارے میں ارکان کو اچھی طرح سے سمجھنا چاہئے۔ کوئی رکن جب بہتر طور سے دستور العمل کو سمجھیں گے تبھی وہ اپنے علاقے کے مسائل کے ساتھ ہی ریاست کے عام مسائل کو اٹھا سکتے ہیں۔اس کے لئے بیدار ہونے کے ساتھ ہی ایوان میں موجود رہنے پر موقع ملے گا۔


      مسٹرنتیش کمار نے کہا کہ پارلیمانی نظام بہترین نظام حکومت ہے۔ عوام اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے حکومت بناتی ہے اور لوگوں کی مرضی سے حکومت چلتی ہے۔ اس کا غلط استعمال ہونے پر اگلے الیکشن میں عوام ان کو مسترد کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اپنے منتخب نمائندوں سے توقعات ہوتی ہیں اور ان پر اعتماد بھی ہوتا ہے۔ عوامی نمائندوں کے رویے اور طرز عمل اچھا ہونے سے علاقے کے لوگ بھی اپنے آپ پر فخر محسوس کرتے ہیں۔


      وزیر اعلی نے کہا کہ قانون ساز کونسل میں ضابطہ کمیٹی کا صدر رہتے ہوئے انہوں نے ضابطہ اخلاق بنانے میں اہم کردار نبھایا ہے۔ جو ضابطہ اخلاق بنا یا گياہے وہ تمام عوامی نمائندوں کے لئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مفاد کے مسئلے کو جماعتی حد میں نہیں باندھا جا سکتا ہے اور اس کو اپنی ساکھ کا سوال نہیں بنانا چاہئے۔ بہت سے مسائل ایسے ہوتے ہیں جو دبے رہ جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت میں احتجاج اور ہنگامہ اس کا ایک حصہ ہے، لیکن اس کی بھی ایک حد ہے۔


      مسٹرنتیش کمار نے کہا کہ سیاسی لیڈروں کو اپنی تنقید سے نہیں گھبرانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندے ہیں تو ان میں ضرور کوئی خاص بات ہے تبھی وہ عوامی نمائندے بنے ہیں۔ ایوان میں بولیں گے تو ان کے علاقے میں پیغام جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بیچ بیچ میں اس طرح کے اورینٹیشن پروگرام ہونا چاہئے جس میں سب کی شرکت ہو۔


      اس موقع پر بہار اسمبلی کے اسپیکر وجے کمار چودھری نے کہا کہ 29 دسمبر 1920 کو بہار اور اڑیسہ کے گورنر کے ذریعہ صوبہ قرار دیا گیا اور مسٹر ستیندر پرسن سنہا پہلے گورنر مقرر کئے گئے۔ سال 1920 میں کونسل کی عمارت کی تعمیر ہوئي اور یہی عمارت آج اسمبلی کی عمارت ہے۔ حکومت ہند کے ایکٹ 1919 کے تحت دوبارہ منظم بہار اور اڑیسہ اسمبلی میں اب ارکان کی تعداد 43 سے بڑھ کر 103 ہو گئی۔


      مسٹر چودھری نے کہا کہ 17 جنوری 1921 کو بہار اور اڑیسہ اسمبلی کے عمل اور کام کاج کا دستور العمل تیار ہوا اور حکومت ایوان کے تئیں ذمہ دار ہوئی۔ پروگرام میں قانون ساز کونسل کے چیئرمین اودھیش نارائن سنگھ، نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو، اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر پریم کمار اور پارلیمانی امور کے وزیر شرون کمار نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

      First published: