உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جلد ہوسکتی ہے نتیش کمار کی کابینہ کی توسیع، ایک بھی مسلم وزیر نہیں ہونے سے اٹھ رہے ہیں سوال: جانیں پورا معاملہ

    بہار میں ملی کامیابی سے ایم آئی ایم کا حوصلہ بلند ، اب مغربی بنگال اسمبلی انتخابات پر نظر

    بہار میں ملی کامیابی سے ایم آئی ایم کا حوصلہ بلند ، اب مغربی بنگال اسمبلی انتخابات پر نظر

    جانکاروں کے مطابق نتیش کمار اس معاملے میں ہمیشہ چونکانے والا فیصلہ کرتے ہیں اس لئے یقین سے کچھ کہا نہیں جاسکتا ہے کہ اگر کسی مسلم لیڈر کو وزیر بننے کا موقع ملتا ہے تو وہ کون ہوگا جس کے نام پر وزیر اعلیٰ مہر لگائیں گے۔ اس بات کا انتظار سب کو ہے خاص طور سے جےڈی یو کے مسلم لیڈر کابینہ کے توسیع کا کافی بےصبری سے انتظار کررہے ہیں۔

    • Share this:
    بہار اسمبلی انتخابات میں جس طرح سے جے ڈی یو تیسرے نمبر پر آگئ ہے اس کی امید پارٹی سپریموں اور صوبہ کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو نہیں تھی۔ مسلمان ووٹوں کو اپنی جھولی میں کرنے کی قواعد پر نتیش کمار شروع سے کام کررہے تھے۔ ایک تو مسلمانوں کے فلاح کے نام پر درجنوں اسکیموں کی شروعات کی، مدارس کے اساتذہ کے مسئلہ کو حل کیا۔ مدرسہ ترقیاتی اسکیم بناکر مذہبی لوگوں کو پارٹی سے جوڑنے کی کوشش کی۔ مسلم تنظیم اور خانقاہوں کے لئے موجودہ نتیش حکومت نے کافی کام کیا۔ انتخابات کے درمیان گیارہ مسلم امیدوراوں کو میدان میں اتار کر جے ڈی یو نے مسلمان ووٹوں کو یہ پیغام دیا کہ پارٹی مسلمانوں کی نمائندگی کا خیال رکھتی ہے لیکن انتخابات کا نتیجہ جے ڈی یو کی سوچ کے برعکس سامنے آیا۔

    صوبہ میں این ڈی اے کی حکومت تو بن گئ لیکن تمام طبقات کو نمائندگی دینے کا نتیش کا وعدہ دیکھائی نہیں دیا۔ وزارت میں مسلمانوں کو جگہ نہیں دی گئی۔ اس سوال کو لیکر مسلسل مسلم سماج میں بحث ہوتی رہی اور مسلم تنظیموں نے نتیش کمار سے اس مسئلہ پر غور کرنے کی اپیل کی۔ جمیعت علماء بہار نے یہاں تک کہا کہ سترہ فیصدی آبادی والے لوگوں کا کوئہ نمائندہ حکومت میں نہیں رہنا افسوس کا مقام ہے اور اس سلسلے میں نتیش کمار کو ضرور غور کرنا چاہئے۔

    جمیعت نے کہا کہ نتیش کمار جیسے سیاست داں سے اس بات کی امید نہیں تھی لیکن وزارت میں مسلم سماج کو جگہ نہیں دینا حکومت کی منفی پالیسی کو واضح کرتا ہے۔ اب کابینہ کی توسیع ہونے والی ہے۔ سب کی نگاہیں مسلم وزیر کے معاملے پر ٹکی ہے۔ جےڈی یو کے پاس چھ مسلم ایم ایل سی ہیں، پروفیسر غلام غوث، مولانا غلام رسول بلیاوی، قمر عالم، خالد انور، تنویر اختر اور راغب حسن۔ مانا جارہا ہے کہ کسی ایک کو وزیر بنایا جاسکتا ہے۔

    جانکاروں کے مطابق نتیش کمار اس معاملے میں ہمیشہ چونکانے والا فیصلہ کرتے ہیں اس لئے یقین سے کچھ کہا نہیں جاسکتا ہے کہ اگر کسی مسلم لیڈر کو وزیر بننے کا موقع ملتا ہے تو وہ کون ہوگا جس کے نام پر وزیر اعلیٰ مہر لگائیں گے۔ اس بات کا انتظار سب کو ہے خاص طور سے جےڈی یو کے مسلم لیڈر کابینہ کے توسیع کا کافی بےصبری سے انتظار کررہے ہیں۔
    Published by:sana Naeem
    First published: