ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

لاک ڈاون کی وجہ سے سویوں کا کاروبار ٹھپ ، رمضان کے آخری دنوں میں بھی پٹنہ میں محض 10 فیصد کاروبار

گزشتہ سالوں کے مقابلہ میں لوگوں میں اس مرتبہ عید کا کوئی خاص جنون بھی نظر نہیں آرہا ہے ۔ لوگ عیدالفطر کی نماز گھروں میں پڑھیں گے اور ظاہر ہے سماجی فاصلہ کے سبب کسی سے ملنا جلنا ہوگا نہیں ، تو ایسے میں سویوں کی ضرورت اتنی نہیں پڑے گی ، جتنی پہلے محسوس کی جاتی تھی ۔

  • Share this:
لاک ڈاون کی وجہ سے سویوں کا کاروبار ٹھپ ، رمضان کے آخری دنوں میں بھی پٹنہ میں محض 10 فیصد کاروبار
لاک ڈاون کی وجہ سے سویوں کا کاروبار ٹھپ ، رمضان کے آخری دنوں میں بھی پٹنہ میں محض 10 فیصد کاروبار

بہار کا شہر پٹنہ صوبہ کا دارالحکومت ہونے کے ساتھ ساتھ تجارتی مرکز بھی ہے ۔ رمضان میں اس شہر کی رونق قابل دید ہوتی ہے ۔ لیکن اس مرتبہ لاک ڈاون کے سبب شہر کی رونقیں پھیکی ہیں ۔ رمضان کے مہینہ میں لوگوں نے جہاں اپنی عبادتیں اپنے اپنے گھروں میں کیں ، وہیں بازار کا رخ نہیں کرنے کے سبب بازار پوری طرح سے زمین پر آ گیا ہے ۔ اس میں سے ایک سویوں کا کاروبار بھی ہے ۔


رمضان کے آخری دس دنوں میں اگر کوئی چیز سب سے زیادہ خریدی جاتی ہے تو اس میں ایک نام سویوں کا ہوتا ہے ۔ پٹنہ میں سویوں کی کئی قسمیں موجود ہیں اور اس شہر سے صوبہ کے دیگر شہروں میں سویوں کی سپلائی کی جاتی ہے ۔ پٹنہ میں یوں تو سویاں اب کئی جگہوں پر تیار کی جاتی ہیں ، لیکن رحمانیہ ہوٹل کی سویوں کی بات بلکل منفرد ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ 1997 کے بعد سے ہی رحمانیہ ہوٹل اس کاروبار سے جڑا ہے ۔ موجودہ وقت میں اس کے مالک محمد پرویز ہیں ۔ پرویز کے مطابق ان کے دادا نے سویوں کا کاروبار شروع کیا تھا ۔ دھیرے دھیرے یہ کاروبار ان کا خاندانی کام ہوگیا ہے ۔


واضح رہے کہ رحمانیہ ہوٹل میں سب سے مشہور گھی کی بنی سویاں ہیں ، جس کی مانگ زبردست ہوتی ہے ۔ چار سے پانچ سو روپے کلو فروخت ہونے والی گھی کی سویاں پٹنہ میں ہی روزانہ کئی کوئنٹل فروخت ہوتی ہیں اور یہ سویاں خاص طور سے پیک ہوکر صوبہ کے دیگر اضلاع میں بھیجی جاتی ہیں ۔ علاوہ ازیں مختلف طرح کی سویاں بھی یہاں موجود ہیں ۔  ساٹھ روپے کلو سے لیکر پانچ سو روپے کلو تک کی سویاں رحمانیہ ہوٹل میں موجود ہیں ۔ لیکن لاک ڈاون اور کورونا کی مار سویوں کے کاروباری پر بھی صاف طور سے پڑی ہے ۔




روزانہ تین سے چار کوئنٹل سویاں سپلائی کرنے والا یہ رحمانیہ ہوٹل اس مرتبہ دس فیصد بھی کاروبار نہیں کر سکا ۔ دراصل لاک ڈاون کے سبب سویاں دوسرے اضلاع میں نہیں جا پارہی ہیں ۔ وہیں گزشتہ سالوں کے مقابلہ میں لوگوں میں اس مرتبہ عید کا کوئی خاص جنون بھی نظر نہیں آرہا ہے ۔ لوگ عیدالفطر کی نماز گھروں میں پڑھیں گے اور ظاہر ہے سماجی فاصلہ کے سبب کسی سے ملنا جلنا ہوگا نہیں ، تو ایسے میں سویوں کی ضرورت اتنی نہیں پڑے گی ، جتنی پہلے محسوس کی جاتی تھی ۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ رمضان اور عیدالفطر کس طرح گزر رہا ہے ، سب کو معلوم ہے ۔ اس لئے جس طرح عید کی دیگر چیزیں نہیں خریدی جارہی ہیں ، اسی طرح سویاں اتنی ہی خریدی گئی ہیں ، جتنی ضرورت ہے ۔ بازار کے اس رخ سے سویوں کے کام میں لگے مزدور اور سویوں کے کاروباری مالی بحران کے شکار ہوگئے ہیں ۔
First published: May 23, 2020 10:55 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading