உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ریسرچ اسکالروں کے لیے انعامی مقابلہ میں 66 یونیور سٹیوں کی شمولیت ، اردو اور فارسی کا ایک بھی پروجیکٹ نہیں

    مظفرپور : بہارکے مظفرپورمیں واقع ڈاکٹربھیم راؤامبیڈکریونیورسٹی میں 11 اور 12 فروری کومشرقی زون کے ریسرچ اسکالروں کے لیے انعامی مقابلہ منعقدکیا گیا۔ مشرقی زون میں بہار، جھارکھنڈ، اُڈیشہ اور مغربی بنگال کی 66 یونیورسٹیاں شامل رہیں۔

    مظفرپور : بہارکے مظفرپورمیں واقع ڈاکٹربھیم راؤامبیڈکریونیورسٹی میں 11 اور 12 فروری کومشرقی زون کے ریسرچ اسکالروں کے لیے انعامی مقابلہ منعقدکیا گیا۔ مشرقی زون میں بہار، جھارکھنڈ، اُڈیشہ اور مغربی بنگال کی 66 یونیورسٹیاں شامل رہیں۔

    مظفرپور : بہارکے مظفرپورمیں واقع ڈاکٹربھیم راؤامبیڈکریونیورسٹی میں 11 اور 12 فروری کومشرقی زون کے ریسرچ اسکالروں کے لیے انعامی مقابلہ منعقدکیا گیا۔ مشرقی زون میں بہار، جھارکھنڈ، اُڈیشہ اور مغربی بنگال کی 66 یونیورسٹیاں شامل رہیں۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      مظفرپور : بہارکے مظفرپورمیں واقع ڈاکٹربھیم راؤامبیڈکریونیورسٹی میں 11 اور 12 فروری کومشرقی زون کے ریسرچ اسکالروں کے لیے انعامی مقابلہ منعقدکیا گیا۔ مشرقی زون میں بہار، جھارکھنڈ، اُڈیشہ اور مغربی بنگال کی 66 یونیورسٹیاں شامل رہیں۔


      ان یونیورسٹیوں سے مختلف شعبوں کے ریسرچ اسکالروں نے انعامی مقابلے میں حصہ لیا ، لیکن کسی بھی یونیورسٹی سے شعبہ اردویافارسی کے طلبہ پروگرام میں شامل نہیں ہوئے۔یہاں تک کہ میزبان بہاریونیورسٹی مظفرپورکے بھی شعبہ اردو اور فارسی نے پروگرام میں کسی سطح پر بھی دلچسپی نہیں دکھائی۔


      شرکت کرنے والے دیگریونیورسٹیوں کے اساتذہ نے بھی انعامی مقابلے میں شعبہ اردواورفارسی کی نمائندگی نہیں ہونے پرافسوس کااظہارکیا۔دانشوروں کے مطابق حکومت کی جانب سے مہیاپلیٹ فارمس کوبھی اردووالے پوری طرح سے استعمال کرنے میں ناکام ثابت ہورہے ہیںاوریہ رجحان اردوزبان وادب کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہورہاہے۔


      ڈاکٹربھیم راؤامبیڈکربہاریونیورسٹی میں مشرقی زون کے ریسرچ اسکالروں کی نئی دریافت پرانعامی مقابلے کاانعقاد،ایسوسی ایشن آف انڈین یونیورسٹیزنئی دہلی کی جانب سے کیاگیا تھا ۔ اس کامقصدملک کی یونیورسٹیوں میں تحقیقاتی سرگرمیوں سے متعلق طلبہ اوراساتذہ کی دلچسپی کااندازہ لگاناتھا ، تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ ہمارے ملک کو مختلف شعبوں میں نئی دریافت کے حوالے سے کہاں تک کامیابی مل رہی ہےاور یونیورسیٹیاں اعلیٰ تعلیم وتحقیق کے بین الاقوامی معیارپر کس حدتک کھری اتررہی ہیں ۔

      First published: