உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یوم آزادی کے دن جھارکھنڈ کے 33 کھلاڑی حکومت کو لوٹا دیں گے میڈل

    جھارکھنڈ میں کھیل کے شعبوں میں نمایاں جوہر دکھانے والوں کی عزت افزائی اور مواقع ملے اسکے لئے موجودہ ریاستی حکومت جلد ہی نئی کھیل پالیسی لانے کی کوشش میں ہے۔

    جھارکھنڈ میں کھیل کے شعبوں میں نمایاں جوہر دکھانے والوں کی عزت افزائی اور مواقع ملے اسکے لئے موجودہ ریاستی حکومت جلد ہی نئی کھیل پالیسی لانے کی کوشش میں ہے۔

    جھارکھنڈ میں کھیل کے شعبوں میں نمایاں جوہر دکھانے والوں کی عزت افزائی اور مواقع ملے اسکے لئے موجودہ ریاستی حکومت جلد ہی نئی کھیل پالیسی لانے کی کوشش میں ہے۔

    • Share this:
    جھارکھنڈ میں کھیل کے شعبوں میں نمایاں جوہر دکھانے والوں کی عزت افزائی اور مواقع ملے اسکے لئے موجودہ ریاستی حکومت جلد ہی نئی کھیل پالیسی لانے کی کوشش میں ہے۔ وہیں دوسری جانب قومی کھیل ۔ کامن ویلتھ اور دیگر بین الاقوامی کھیل مقابلوں میں میڈل اور سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے والے ٣٣ کھلاڑیوں نے اعلان کیا ہے کہ آئیندہ ١٥ اگست سے قبل انہیں محکمہ کھیل کود میں تقرری نہیں ملتی ہے تو وہ لوگ یوم آزادی کے دن اپنے میڈل اور سرٹیفیکیٹ حکومت اور محکمہ کھیل کود کو لوٹا دیں گے۔ تائیکوانڈو کھلاڑی پریتی سنگھ کا کہنا ہے کہ ایک دسک سے بھی زیادہ وقت سے وہ اور انکے جیسے کھلاڑیوں کی لیاقت خراب ہو رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اپنی کوششوں سے ریاست اور ملک کا نام روشن کرنے اور میڈل جیتنے والے کھلاڑیوں کو اب لگتا ہے کہ پورانی اور نئی کھیل پالیسی کے درمیان انکا مستقبل پس رہا ہے ۔
    وزیر اعلیٰ کے ٹیوٹ سے شہرت میں آئی کھلاڑی سریتا ترکی نے کہا کہ اسے اناج نہیں ملازمت چاہیے۔ ابھی حال ہی میں میڈیا میں ایک لان بال کھلاڑی سریتا ترکی کے درد کو دکھانے کے بعد وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے ٹیوٹ کے ذریعہ کہا تھا کہ سریتا بہن کو تمام سہولیات دی جائے ۔۔۔۔ لیکن سریتا کا کہنا ہے کہ تمام سہولیات کی جگہ انہیں صرف اناج دیا گیا ۔۔۔ انہوں کہا کہ انہیں اناج نہیں ملازمت چاہیے۔

    کیا ہے پورا معاملہn
    دراصل محکمہ کھیل نے ٢٠١٩ میں قومی اور بین الاقوامی پیمانہ پر میڈل حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کو الگ الگ ذمرے میں راست طور پر تقرری کے لئے درخواست مانگے تھے ۔۔۔۔فروری ٢٠٢٠ میں ٣٣ کھلاڑیوں کے سرٹیفکیٹ اور میڈل کا بھیری فکیشن بھی کیا گیا لیکن اب تقرری کو لیکر محکمہ کے افسران کے ذریعہ ٹال مٹول کا رویہ اپنایا جا رہا ہے ۔ ایسے میں کھلاڑیوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے ۔

    کراٹے کے کھیل میں اپنے مد مقابل کھلاڑی کو دھول چٹانے والا وملا منڈا ہو یا لان بال میں کئی میڈل جیتنے والی نوتن منجو منج۔۔۔ تمام کھلاڑیوں کو لگتا ہے کہ اب نئی کھیل پالیسی کاحوالہ دیتے ہوئے انکی تقرری کے عمل کو رد نہ کر دیا جائے۔
    قومی اور بین الاقوامی پیمانہ پر جھارکھنڈ کا نام روشن کرنے والے کھلاڑی ہیمنت سورین حکومت کی نئی مجوزہ کھیل پالیسی کی ستائش تو کرتے ہیں پر انہیں خوف ہے کہ کہیں اس نئی کھیل پالیسی کی آڑ میں انکی تقرری اور تابناک مستقبل کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو جائے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: