உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    MK Stalin: ’ہندوستان میں ایک زبان، ایک ثقافت ممکن نہیں‘ تمل ناڈو کےسی ایم ایم کے اسٹالن نے دیابڑابیان

    تمل ناڈو  کے سی ایم ایم کے اسٹالن (MK Stalin) فائل فوٹو

    تمل ناڈو کے سی ایم ایم کے اسٹالن (MK Stalin) فائل فوٹو

    اسٹالن نے یہ بھی کہا کہ وفاقیت (federalism) ملک کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی ترقی کا واحد راستہ مضبوط خود مختار ریاستوں کا ہونا ہے۔ ایک زبان اور ایک مذہب کو فروغ دینے والے ہمارے اتحاد کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ ہندوستان اور ہندوستانیوں کے دشمن ہیں۔

    • Share this:
      تمل ناڈو (Tamil Nadu) کے سی ایم ایم کے اسٹالن (MK Stalin) نے کہا ہے کہ ہندوستان پر ایک زبان، ایک مذہب اور ایک ثقافت مسلط کرنا ناممکن ہے۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ ہندوستان میں ایک زبان، ایک مذہب اور ایک ثقافت ممکن نہیں ہے۔ ایک زبان اور ایک مذہب کو فروغ دینے والے ہمارے اتحاد کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ ہندوستان اور ہندوستانیوں کے دشمن ہیں۔

      اسٹالن نے یہ بھی کہا کہ وفاقیت (federalism) ملک کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی ترقی کا واحد راستہ مضبوط خود مختار ریاستوں کا ہونا ہے۔ اسٹالن نے کیرالہ کے اپنے ہم منصب پنارائی وجین (Pinarayi Vijayan) کی بھی تعریف کی اور کہا کہ تمل ناڈو میں ان کے ڈی ایم کے اور سی پی آئی (ایم) کے درمیان اتحاد ’نظریاتی‘ ہے نہ کہ محض انتخابی اتحاد۔ اسٹالن نے صحافیوں کی گرفتاری کو آمرانہ رویہ قرار دیا اور کہا کہ مرکزی ایجنسیاں حزب اختلاف کے رہنماؤں کو ٹارگٹ کر رہی ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      جموں وکشمیر: ہندوستانی فضائیہ کے شہید افسرکی آخری رسومات ادا، نم آنکھوں سے دی گئی وداعی

      ہندوستان کی ترقی میں رخنہ اندازی کرنے والوں کو NSA اجیت ڈوبھال نے دی وارننگ

      ماضی کے برعکس جب ہندی دیواس (Hindi Divas) غیر معمولی طور پر گزرتا تھا، اس سال اس دن پر خاص توجہ دی گئی۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ (Amit Shah) نے ہندی میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ آج اگر کوئی ایک زبان ملک کو متحد کرنے کا کام کر سکتی ہے، تو وہ سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہندی ہے۔
      یہ بھی پڑھیں: 

      Commonwealth Games 2022: ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم پاکستان کو شکست دینے اترے گی

      سوربھ گانگولی 50 کی عمر میں کریں گے کرکٹ میدان پر واپسی، کر رہے سخت ٹریننگ

      انھوں نے کہا تھا کہ ہم پر انگریزی کا اتنا اثر ہے کہ ہم اس کی مدد کے بغیر ہندی میں بات نہیں کر سکتے۔ وزیر نے یہ بھی کہا کہ لوگوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اگر زبانیں غیر ملکی اثر و رسوخ سے محروم ہو گئیں تو ہم اپنی ثقافت سے الگ ہو جائیں گے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: