ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بنگال کے سبکدوش اسکول ٹیچر کو پدم بھوشن ایوارڈ کے لئے کیوں کیا گیا منتخب، وجہ جان کر رہ جائیں گے حیران

سوجیت چٹرجی کے مطابق جب وہ اسکول ٹیچر تھے اس وقت بھی وہ اپنے گاؤں اور آس پاس کے غریب بچوں کو مفت میں ٹیوشن دیتے تھے۔ اسکول کے ایک کمرے میں وہ چھٹی کے بعد معاشی طور پر کمزور بچے جو ٹیوشن نہیں پڑھ سکتے ہیں انہیں ٹیوشن دیا کرتے تھے۔

  • Share this:
بنگال کے سبکدوش اسکول ٹیچر کو پدم بھوشن ایوارڈ کے لئے کیوں کیا گیا منتخب، وجہ جان کر رہ جائیں گے حیران
بنگال کے سبکدوش اسکول ٹیچر کو پدم بھوشن ایوارڈ کے لئے کیوں کیا گیا منتخب

تعلیم ایک ایسی روشنی ہے جس کے سہارے شخصیت پروان چڑھتی ہے۔ تعلیم کی روشنی میں انسان خود کو سنوارتا ہے دنیا میں ترقی حاصل کرتا ہے لیکن مہنگی ہوتی تعلیم کے باعث آج غریب طبقہ تعلیم حاصل کرنے میں ناکام ہے۔ ملک میں ایسے ہزاروں بچے ہیں جو ذہانت کے باوجود معاشی تنگی کے باعث اعلی تعلیم حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔لیکن ان سب کے ساتھ ہمارے ملک میں ایسے اساتذہ بھی ہیں جو مہنگی ہو رہی تعلیم کے باوجود طلباء کو تعلیمی میدان میں آگے لانے کی کوششوں میں لگے ہیں۔ بنگال کے سوجیت چٹرجی نے ایسی ہی ایک مثال قائم کی ہے۔


سابق اسکول ٹیچر سالانہ دو روپئے فیس پر بچوں کو ٹیوشن پڑھاتے ہیں۔ جنہیں امسال حکومت ہند نے پدم بھوشن ایوارڈ سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔ بردوان ضلع کے رام نگر گاؤں کے سوجیت چٹرجی کو اس سال حکومت ہند نے تیسرے سب سے بڑے شہری اعزاز ’’پدم بھوشن‘‘ایوارڈ سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان سے بنگال بھر میں خوشی دیکھی جا رہی ہے۔ریٹائرڈ اسکول  سوجیت چٹرجی صرف دو روپے سالانہ کی معمولی فیس پر ہزاروں بچوں کو پڑھاتے ہیں۔


سوجیت چٹرجی کہتے ہیں کہ دو روپیے فیس گرودکشنا کے طور پر لی جاتی ہے کیونکہ اس کے بغیر تعلیم مکمل نہیں ہو سکتی ہے۔سوجیت چٹرجی مشرقی بردوان کے رام نگر گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ ان کی ابتدائی تعلیم گاؤں کے رام نگر جونیئر ہائی اسکول میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد بولپور کے باندھ گڑھ ہائی اسکول سے ہائر سیکنڈری پاس کیا۔ بردوان راج کالج سے گریجویشن کرنے کے بعد انہوں نے بردوان یونیورسٹی سے ایم اے پاس کیا۔ جلپائی گوڑی سے بی ٹی پاس کیا اور اپنے کیریئر کا آغاز 1985 میں 22 سال کی عمر میں رام نگر ہائی اسکول میں ٹیچر کے طور پر کیا۔


سوجیت چٹرجی کے مطابق جب وہ اسکول ٹیچر تھے اس وقت بھی وہ اپنے گاؤں اور آس پاس کے غریب بچوں کو مفت میں ٹیوشن دیتے تھے۔ اسکول کے ایک کمرے میں وہ چھٹی کے بعد معاشی طور پر کمزور بچے جو ٹیوشن نہیں پڑھ سکتے ہیں انہیں ٹیوشن دیا کرتے تھے ۔ ریٹائر ہونے کے بعد انہو ں نے اسکول انتظامیہ سے اپیل کی کہ انہیں بغیر تنخواہ کے پڑھانے اور اسکول کی چھٹی کے بعد بچوں کو ٹیوشن دینے کی اجازت دی جائے۔ اسکول انتظامیہ نے اس درخواست کو منظور کرلیا۔

سوجیت چٹرجی کے مطابق بڑی تعداد میں بچے ان سے ٹیوشن پڑھنے کے لئے آتے ہیں اور جب انہیں دو روپیے فیس کے تعلق سے پتہ چلتا ہے تو انکے چہرے کھل جاتے ہیں اور معاشی تنگی کے شکار ان بچوں کے چہرے پر آنیوالی مسکراہٹ انہیں سکون دیتی ہے اور شاید یہی مسکراہٹ میری فیس ہے۔ میں اس بات پر یقین کرتا ہوں کہ میں نے ان بچوں کے لئے کچھ کیا۔ پدم بھوشن ایوارڈ کے اعلان کو اپنے لئے بڑا اعزاز بتاتے ہوئے سوجیت چٹرجی نے کہا کہ میں چاہوں گا کہ میرے بعد بھی میرے طلباء تعلیم کے اِس سلسلے کو برقرار رکھیں۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jan 28, 2021 10:26 PM IST