ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

وزیر اعلی نتیش کمار دیں گے اویسی کو بڑا جھٹکا ! اشاروں ہی اشاروں میں بتایا بہار میں ٹوٹ جائے گی AIMIM

بہار میں جے ڈی یو نے حال ہی میں ایل جے پی کے 200 سے زیادہ لیڈروں کو اپنے پالے میں کرکے چراغ پاسوان کو بڑا جھٹکا دیا تھا اور اب جے ڈی یو ، اے آئی ایم آئی ایم کو تگڑا جھٹکا دینے کی تیاری میں ہے ۔

  • Share this:
وزیر اعلی نتیش کمار دیں گے اویسی کو بڑا جھٹکا ! اشاروں ہی اشاروں میں بتایا بہار میں ٹوٹ جائے گی AIMIM
وزیر اعلی نتیش کمار دیں گے اویسی کو بڑا جھٹکا ! اشاروں ہی اشاروں میں بتایا بہار میں ٹوٹ جائے گی AIMIM

پٹنہ : بہار اسمبلی میں آج وزیر اعلی نتیش کمار گورنر کے خطاب پر حکومت کی جانب سے جواب دے رہے تھے ۔ ایوان کے لیڈر کے جواب کے تقریبا ایک گھنٹہ بعد تیجسوی یادو کی قیادت میں اپوزیشن ایوان سے واک آوٹ کرکے باہر چلا گیا ۔ نتیش کمار ایوان میں سرکار کی جانب سے جواب دے رہے تھے ۔ اسی دوران آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے ممبر اسمبلی اخترالایمان نے ایوان میں کھڑے ہوکر پورنیہ کو راجدھانی بنانے کی تجویز پیش کی ۔ نتیش کمار نے اس کو پوری طرح سے خارج کردیا ۔ جب بہار اور جھارکھنڈ ایک تھا ، اس کی یاد دلائی ۔ نتیش کمار ایوان میں بول ہی رہے تھے کہ اختر الایمان پورنیہ کو راجدھانی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے ممبران اسمبلی کے ساتھ واک آوٹ کرنے لگے ۔


نتیش کمار نے آرام دہ لہجہ میں کہا کہ آپ لوگ ایوان میں بیٹھ کر سن لیجئے ، آگے کام آئے گا ۔ اختر الایمان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے نتیش کمار نے کہا کہ آپ آر جے ڈی ، جے ڈی یو اور اب تیسری پارٹی اے آئی ایم آئی ایم میں پہنچے ہیں ۔ جب اے آئی ایم آئی ایم کے سبھی ممبران اسمبلی ایوان سے باہر جانے لگے تو نتیش کمار نے پھر دوہرایا اور کہا کہ جارہے ہیں تو اکیلے ہی اب رہ جائیں گے ۔ جو صاف طور پر اشارہ تھا کہ اب اے آئی ایم آئی ایم کے شاید ہی کوئی ممبر اسمبلی اویسی کے ساتھ رہ جائیں گے ۔


وزیر اعلی نتیش کمار سے 28 جنوری کو اے آئی ایم آئی کے پانچوں ممبران اسمبلی وزیر اعلی کی رہائش گاہ پر ملاقات کرچکے ہیں ۔ اس کے بعد سے قیاس آرائی کی جارہی تھی کہ یہ سبھی ممبران اسمبلی جلد ہی جے ڈی یو کا دامن تھام سکتے ہیں ۔ بہار اسمبلی انتخابات 2020 میں اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم نے اس مرتبہ الیکشن میں پانچ سیٹوں پر قبضہ کیا تھا ۔


سیمانچل علاقہ کے جوکی ہاٹ سے شاہنواز عالم ، آمور سے اختر الایمان ، بائیسی سے سید رکن الدین ، بہادر گنج سے انظام نعیمی اور کوچادھام سے اظہار آصفی اے آئی ایم آئی ایم سے ممبر اسمبلی ہیں ۔ جانکاری کے مطابق ان ممبران اسمبلی کی اے آئی ایم آئی ایم سے دلچسپی ختم ہونے لگی ہے ۔ ایسے میں یہ سبھی ممبران اسمبلی اب بہار کی حکمراں پارٹی جے ڈی یو میں جانے کی تیاری میں ہیں ۔

بنگال اور یوپی الیکشن میں مجلس کو ہوگی پریشانی

بہار اسمبلی انتخابات میں بہتر کارکردگی کے بعد اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم اترپردیش اور بنگال میں بھی الیکشن لڑنے کی حکمت عملی پر کام کررہی ہے ۔ اویسی بہار کے بعد اب اترپردیش اور مغربی بنگال میں بھی اپنے پیر پھیلا رہے ہیں ۔ اویسی نے بہار میں پانچ سیٹ جیتنے کے بعد کہا تھا کہ ان کی پارٹی شمالی ریاستوں کے سیمانچل علاقہ میں انصاف کی لڑائی لڑے گی ، لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ بہار میں ان کی پارٹی کے ممبران اسمبلی ہی ان سے ناطہ توڑ سکتے ہیں ۔ اگر ایسا ہوا تو مغربی بنگال اور اترپردیش میں الیکشن لڑنے میں پریشانی ہوسکتی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 23, 2021 11:49 PM IST