ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار: سیمانچل کےکسانوں کو آج بھی ہے سویرا ہونےکا انتظار،7دہائیوں میں پہنچا بدحالی کےدہانے پر

ایم آئی ایم کے ریاستی صدراخترالایمان کےمطابق سیمانچل کےساتھ شروع سے حکومتوں نےناانصافی کی ہے۔ ایم آئی ایم سیمانچل کو انصاف دلانے کےلئے آرٹیکل 371 کے ماتحت سیمانچل کو لانےکا مطالبہ کر رہی ہے۔

  • Share this:
بہار: سیمانچل کےکسانوں کو آج بھی ہے سویرا ہونےکا انتظار،7دہائیوں میں پہنچا بدحالی کےدہانے پر
مجلس اتحاد المسلمین کے بہار صدر اختر الایمان۔ فائل فوٹو

پٹنہ: بہار کی راجدھانی پٹنہ سے تقریباً ساڑھے تین سو کلو میٹرکی دوری پر بہارکے سیمانچل کا علاقہ شروع ہوتا ہے۔ ارریہ،کشن گنج، پورنیہ اور کٹیہار۔ سیمانچل کے ان ضلعوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ کسی بھی انتخابات میں مسلمانوں کی آبادی یہاں سے قسمت آزمانے والے امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کرتی ہے۔ صوبہ کے تمام سیاسی پارٹیوں کی نظر اس علاقہ کے ۲۴ اسمبلی اور چار پارلیمانی حلقوں پر مرکوز رہتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ سیاسی پارٹیاں سیمانچل کے مقدرکو بدلنےکا دعویٰ کرتی آ ئی ہیں،لیکن آپ کو جان کر حیرانی ہوگی کہ سیمانچل کی عام آبادی کو آج بھی بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔ وہیں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین بھی اس علاقہ میں تبدیلی لانے کی بات پر عام لوگوں کو متحد کرنے کی مہم میں مصروف ہے۔

بہار میں اسمبلی انتخابات کا وقت قریب ہے۔ ایک بار پھر سےصوبہ کی تمام سیاسی پارٹیاں کسانوں کے فلاح اور مزدورں کے حقوق کی بات کرنےلگی ہیں۔ حالانکہ سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کے احتجاج میں کئ موضوعات زمین دوز ہوگئے ہیں، لیکن لوگوں کو اپنا بنیادی مسئلہ یاد ہے بھلے ہی سیاسی پارٹیوں کی زبان پر ان کے مسائل نہ آتے ہوں، لیکن موجودہ احتجاج میں بھی گاؤں اور دیہاتوں کا کسان اپنی مشکلوں پر آنسو بہاتا نظر آجاتا ہے۔




بہارکا سب سے بدحال علاقہ سیمانچل جہاں آج بھی 21ویں صدی کی کرنیں لوگوں کی زندگی میں دستک نہیں دی ہے۔ لیکن سیمانچل ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا کبھی یہ علاقہ خوشحال ہوا کرتا تھا اور صوبہ کے دوسرے اضلاع کےلوگ روزگارکی تلاش میں سیمانچل کا رخ کرتے تھے۔ اب حالت یہ ہےکہ اس علاقہ کے 70 فیصدی لوگ دو وقت کی روٹی کی تلاش میں یہاں سے ہجرت کرکے ملک کے دوسرے صوبوں اور شہروں میں پہنچتے ہیں تب جاکر ان کےگھر کا چولہا روشن ہوتا ہے۔ آزادی کے بعد بہار میں قائم ہونے والی حکومتوں نے اس علاقہ کو پوری طرح سے نظراندازکیا نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ بہار میں سون پورکے بعد سیمانچل میں لگنے والا کھگڑا کے ثقافتی میلہ کا مقام آتا تھا، لیکن وقت گزرنےکے ساتھ ساتھ سیمانچل کےکسانوں کا مقدر بھی بدل گیا اور علاقےکا کسان بدحالی کا دن کاٹنے پرمجبور ہوگیا۔

سیمانچل میں 60 فیصدی لوگ کھیتی مزدوری سے جڑے ہیں۔ اس میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو دوسرے کے کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔ دھان، مکئ، جوٹ، ربی اور چائے کی اس علاقے میں کھیتی ہوتی ہے۔ کسانوں کو اپنے فصلوں کی مناسب قیمت نہیں ملتی ہے۔ حکومت کی طے شدہ قیمت بھی یہاں کے کسانوں کو نہیں ملتا ہے۔ دھان کی خریداری ابھی نہیں ہورہی ہے۔ حکومت نے تقریباً 1800 کوئنٹل دھان کی خریداری کا ریٹ رکھا ہے جبکہ سیمانچل کے کسان محض 1300 روپئےکیونٹل دھان فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ ادھر چائے کی کھیتی پر سیمانچل کے کسانوں کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ باہرکےلوگ چائے باگان کے مالک ہے، یہاں کےکسان ان کی کھیتوں میں کام کرتے ہیں اور مزہ کی بات یہ کی کسانوں کو ان کا مناسب محنتانہ بھی نہیں ملتا ہے۔ ادھر یہ پورا علاقہ سیلاب کی مشکل سے جدوجہد کرتا نظر آرہا ہے۔ ہرسال سیلاب کسانوں کی فصلوں کو تباہ کرتی ہے، لگی ہوئی فصلیں برباد ہوجاتی ہے۔ سیلاب میں ہرسال لاکھوں ہیکٹرکی فصلیں تباہ ہوتی ہے، جس سےلاکھوں کسان متاثر ہوتے ہیں۔ وہیں ندیوں کا کٹاؤ کسانوں کی زندگی کو مزید متاثرکرتا ہے۔



سیمانچل کی خاص ندیاں جیسے مہانندا، ڈوکھ، میچھی، کن کئی، بکرا، پروان، داس اورگنگا کا کٹاؤ سے کسان پریشان ہوتے ہیں۔ معیشت کو بہتر بنانےکا نتیش حکومت کا دعویٰ سیمانچل میں کھوکھلا ثابت ہورہا ہے۔ ایسے میں یہ سوال قائم ہوتا ہےکہ تمام لوگوں کے پیٹ کے لئےکھانے کا انتظام کرنے والا کسان بھوکا کیوں رہ جاتا ہے۔ روزگار کی تلاش میں 70 فیصدی نوجوان اس علاقہ سے ہجرت کرنے پر مجبورہوتے ہیں۔ یہاں کا پانی خراب ہے۔ نتیجہ کے طور پر یہاں پیٹ اور جلد کی بیماری عام ہے۔ لوگوں کی ایک بڑی رقم اپنے علاج پرخرچ ہوجاتی ہے، علاقہ میں اسپتال کی بے حد کمی ہے۔ حکومت کا صحت خدمات کا نعرہ سیمانچل میں پانی کا بلبلا ثابت ہورہا ہے۔ مثال کے طور پرکشن گنج میں تقریباً 22 لاکھ آبادی ہے۔ 22 لاکھ لوگوں کے علاج کےلئے محض 29 ڈاکٹر ہیں۔ سمجھا جاسکتا ہےکہ نتیش کمارکا صحت کا نعرہ کتنا زمین پر اتر رہا ہے۔

ایم آئی ایم کے ریاستی صدر اخترالایمان کے مطابق سیمانچل کے ساتھ شروع سے حکومتوں نے ناانصافی کی ہے۔ ایم آئی ایم سیمانچل کو انصاف دلانے کےلئے آرٹیکل 371 کے ماتحت سیمانچل کو لانےکا مطالبہ کررہی ہے۔ اخترالایمان کے مطابق سیمانچل ڈیولپمنٹ کاؤنسل کی تشکیل کر کے یہاں کے مسئلہ کو حل کیاجانا چاہئے۔ غربت، غذائیت کی کمی،صحت کا مسئلہ،تعلیم اورناخواندگی سے علاقہ جوجھ رہا ہے۔ سب سےخراب حالت کسانوں کی ہے، جن کے مسائل کو سننے والا کوئی نہیں ہے۔ علاقہ کےسیاسی لوگ سیمانچل کی مشکلات کو حل کرنےکا مدّعہ اٹھاتے رہے ہیں، لیکن کسانوں کے مسائل کا حل کبھی نہیں نکلا ہے۔ حالانکہ اس علاقہ کی نمائندگی ایم جےاکبر، سید شہاب الدین، شاہنواز حسین، محمد تسلیم الدین، مولانا اسرارالحق قاسمی جیسے لوگوں نےکی ہے، لیکن سیمانچل سیاسی گلیاروں میں سیاسی موضوع تو ضروربنا ہے،لیکن یہاں کے لوگوں کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوئے ہیں۔ آج بھی سیمانچل کے کسان صبح ہونےکا انتظارکررہے ہیں۔
First published: Jan 25, 2020 11:50 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading