ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار میں اردو پر سیاست تیز، اردو کے خلاف محکمہ تعلیم کی پالیسی پر ہورہا ہے احتجاج

کبھی اردو بہار اسمبلی انتخابات کا مدعا رہی ہے اور کئ بار اردو کے نام پر مختلف سیاسی پارٹیوں نے محبان اردو کا ووٹ لیا ہے لیکن لالو پرساد اور رابڑی دیوی کی پندرہ سالوں کی حکومت اور نتیش کمار کے پندرہ سالوں کی حکومت میں اردو کو کیا ملا ہے اس کی تصویر دیکھئے۔

  • Share this:
بہار میں اردو پر سیاست تیز، اردو کے خلاف محکمہ تعلیم کی پالیسی پر ہورہا ہے احتجاج
کبھی اردو بہار اسمبلی انتخابات کا مدعا رہی ہے اور کئ بار اردو کے نام پر مختلف سیاسی پارٹیوں نے محبان اردو کا ووٹ لیا ہے لیکن لالو پرساد اور رابڑی دیوی کی پندرہ سالوں کی حکومت اور نتیش کمار کے پندرہ سالوں کی حکومت میں اردو کو کیا ملا ہے اس کی تصویر دیکھئے۔

کبھی اردو بہار اسمبلی انتخابات کا مدعا رہی ہے اور کئ بار اردو کے نام پر مختلف سیاسی پارٹیوں نے محبان اردو کا ووٹ لیا ہے لیکن لالو پرساد اور رابڑی دیوی کی پندرہ سالوں کی حکومت اور نتیش کمار کے پندرہ سالوں کی حکومت میں اردو کو کیا ملا ہے اس کی تصویر دیکھئے۔ کہنے کے لئے صوبہ میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے لیکن ریاست کے آدھے اسکولوں میں اردو کے ٹیچر نہیں ہیں۔ وہیں اردو کے نام پر کام کرنے والے اداروں کو لگاتار تحلیل رکھاگیا ہے۔ لالو پرساد کے دورہ حکومت میں بھی اردو پر کوئ خاص مہربانی نہیں کی گئ تھی اور نتیش حکومت کے دور اقتدار میں بھی اردو انصاف کے منتظر رہی لیکن انصاف نہیں مل سکا۔


حالت یہ ہیکہ حکومت کے وہ ادارہ جو اردو کی ترقی کا کام کرتیں ہیں انہیں تشکیل نہیں کیا جارہا ہے جبکہ حکومت دعویٰ کرتی رہی ہیکہ وہ اردو کے معاملہ میں بیحد سنجیدہ ہیں۔ اب حکومت کی سنجیدگی کا عالم یہ ہیکہ گزشتہ تین سالوں میں اردو اکیڈمی کو ایک عدد سکریٹری نہیں ملا ہے۔ اکیڈمی کے تشکیل نہیں ہونے سے اردو کا کام بلکل بند ہے۔ اردو مشاورتی کمیٹی اور گورمینٹ اردو لائبریری پر حکومت کی کوئ توجہ نہیں ہے۔


محبان اردو کے مطابق اسکولوں کے نصاب سے اردو کی لازمیت ختم کردی گئ اور اردو ٹیچروں کی بحالی میں یہ شرط لگادیا گیا ہیکہ جن اسکولوں میں چالیس طلباء ہونگے انہیں اسکولوں میں اردو کے ٹیچر بحال ہونگے۔ محبان اردو محکمہ تعلیم کی اس پالیسی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں وہیں اسمبلی انتخابات کو دیکھتے ہوئے آرجےڈی نے اردو کے مسلہ پر حکومت کو کٹھگرے میں کھڑا کرنا شروع کیا ہے۔ آرجےڈی لیڈر عارف حسین کے مطابق سابقہ حکومت میں کئے گئے کاموں کو بھی نتیش کمار پندرہ سالوں میں بحال نہیں رکھ سکیں ہیں۔ عارف حسین نے کہا کی اردو اداروں کا تشکیل نہیں ہونا حکومت کی نیت پر سوال کھڑا کرتا ہے جس کا جواب اردو آبادی انتخابات میں دے گی۔


وہیں دوسری طرف جےڈی یو ایم ایل سی پروفیسر غلام غوث کے مطابق اردو اداروں کے تشکیل کو لیکر تمام مرحلہ پورا ہورہا ہے اور حکومت اس سمت میں جلد فیصلہ کرنے والی ہے۔ غلام غوث کے مطابق اردو کے تمام مسلہ جلد ہونگے۔ اردو اداروں کے تشکیل کے تعلق سے حکومت سنجیدہ ہے۔
Published by: sana Naeem
First published: Sep 11, 2020 11:27 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading