உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پرنب مکھرجی کے بیٹے نے والد کی آخری کتاب کی اشاعت روکنے کو کہا، بیٹی نے کی مخالفت

    سابق صدرجمہوریہ پرنب مکھرجی کی فائل فوٹو

    سابق صدرجمہوریہ پرنب مکھرجی کی فائل فوٹو

    سابق صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کی آخری کتاب کی اشاعت سے قبل اس کے چند حصے منظر عام پر آنے کے بعد سابق صدر کے بیٹے اور کانگریس کے سابق ممبر پارلیمنٹ ابھیجیت مکھرجی نے اپنے والد کی یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے میڈیا کی کچھ خبروں کو ’’خود ساختہ ‘‘قرار دیتے ہوئے پبلشر پر زور دیا ہے کہ ان کی تحریری منظوری تک کتاب کی اشاعت روک دی جائے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      کلکتہ۔ سابق صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کی آخری کتاب کی اشاعت سے قبل اس کے چند حصے منظر عام پر آنے کے بعد سابق صدر کے بیٹے اور کانگریس کے سابق ممبر پارلیمنٹ ابھیجیت مکھرجی نے اپنے والد کی یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے میڈیا کی کچھ خبروں کو ’’خود ساختہ ‘‘قرار دیتے ہوئے پبلشر پر زور دیا ہے کہ ان کی تحریری منظوری تک کتاب کی اشاعت روک دی جائے۔ تاہم ، مکھرجی کی بیٹی شرمیشٹھا مکھرجی نے اپنے بھائی کے اس بیان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سستی تشہیر کے لئے کتاب کی اشاعت روکنے کی کوئی کوشش نہیں ہونی چاہئے۔

      سابق رکن پارلیمنٹ ابھیجیت نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے روپا پرکاشن کو ایک خط لکھ کر ’’دی پریزیڈینشیل ائیر‘‘ ،کی اشاعت روکنے کو کہا ہے۔ جو اس کتاب کی اشاعت کر رہا ہے۔ ابھیجیت نے ٹویٹ کرتے ہوئے روپا پرکاشن اور اس کے منیجنگ ڈائریکٹر کپیش مہرہ کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مصنف کا بیٹا ہونے کی وجہ سے آپ سب سے میری گزارش ہے کہ میری مرضی کے بغیر کتاب کے کچھ حصے سامنے آگئے ہیں۔ کتاب کے الہامی حصوں کی اشاعت بند کریں۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد اس دنیا میں نہیں ہیں۔ ایسی صورتحال میں ، میں کتاب کے مندرجات کا مطالعہ کرنا چاہتا ہوں کیونکہ وہ میرے والد تھے ۔ کیونکہ مجھے یقین ہے کہ اگر میرے والد زندہ ہوتے تو وہ بھی ایسا ہی کرتے۔ "کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ جب تک میں اس کتاب کا مطالعہ نہیں کرلیتا ہوں اس وقت تک آپ اس کتاب کی اشاعت بند کردیں۔میں نے پہلے ہی آپ کو ایک تفصیلی خط بھیجا ہے۔


      ابھیجیت کے ٹویٹ پر مہرا اور پبلشر کی طرف سے کوئی ردعمل نہیں آیا ہے۔ تاہم ، اپنے بھائی کے ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے کانگریس کی قومی ترجمان شرمیشھا مکھرجی نے کہا کہ میں مصنف کی بیٹی کی حیثیت سے ، اپنے بھائی ابھیجیت مکھرجی سے اپنے والد کی لکھی ہوئی آخری کتاب کی اشاعت کو غیر ضروری متنازع نہ بنانے کی درخواست کرتی ہوں۔ رکاوٹ پیدا نہ کریں۔ وہ (مکھرجی) بیمار ہونے سے پہلے ہی لکھ چکے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کتاب کے ساتھ ساتھ میرے والد کے ہاتھوں سے لکھے گئے نوٹ اور تبصرے ہیں جن کی سختی سے پیروی کی جاتی ہے۔ ان کے خیالات ان کے اپنے ہیں اور کسی کو بھی سستی تشہیر کے لئے اسے شائع کرنے سے روکنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ ہمارے آنجہانی  والد کے ساتھ یہ سب سے بڑا ظلم ہوگا۔


      در حقیقت پبلشر کی جانب سے میڈیا کو جاری کئے گئے کتاب کے اقتباسات کے مطابق ، مکھرجی نے صدارتی دورکے تجربات اور کانگریس کی قیادت سے متعلق بہت سی باتوں کا تذکرہ کیا ہے۔ اقتباسات کے مطابق، مکھرجی نے لکھا ہے کہ صدر بننے کے بعد کانگریس سیاسی سمت سے ہٹ گئی اور پارٹی کے کچھ ممبروں کا خیال تھا کہ اگر وہ 2004 میں وزیر اعظم بن جاتے تو 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کی اتنی بڑی ہار نہیں ہوتی۔

      مکھرجی نے اپنی موت سے قبل یہ کتاب مکمل کرلی تھی۔ روپا پبلیکیشنز کے ذریعہ شائع کردہ یہ کتاب جنوری 2021 سے قارئین کے لئے دستیاب ہونے والی تھی۔ مکھرجی کا کورونا وائرس کے انفیکشن کے بعد صحت کی پیچیدگیوں کی وجہ سے 31 جولائی کو 84 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔
      Published by:Nadeem Ahmad
      First published: