ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

سماج سے کٹ کر زندگی گزارنے والی پریا منڈل ایک گھنٹے کے لئے بنائی گئی مغربی بنگال چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کی چیئرپرسن

کولکاتا کی پریا منڈل ایک عام سی لڑکی ہے لیکن اس کی زندگی عام نہیں ہے سماج اسے اپنے ساتھ کھڑے ہونے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ پریا شہر کے بدنام زمانہ علاقہ بو بازار کے ریڈ لائٹ ایریا میں رہتی ہے اس کے والدین نہیں ہیں، یا یوں کہیں کہ اسے معلوم نہیں ہے کہ وہ کس کی بیٹی ہے۔

  • Share this:
سماج سے کٹ کر زندگی گزارنے والی پریا منڈل ایک گھنٹے کے لئے بنائی گئی مغربی بنگال چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کی چیئرپرسن
کولکاتا کی پریا منڈل ایک عام سی لڑکی ہے لیکن اس کی زندگی عام نہیں ہے سماج اسے اپنے ساتھ کھڑے ہونے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ پریا شہر کے بدنام زمانہ علاقہ بو بازار کے ریڈ لائٹ ایریا میں رہتی ہے اس کے والدین نہیں ہیں، یا یوں کہیں کہ اسے معلوم نہیں ہے کہ وہ کس کی بیٹی ہے۔

خوابوں پر کسی کا پہرہ نہیں ہوتا، کسی کی پابندی نہیں ہوتی ہر کوئی زندگی میں آگے بڑھنے کے خواب دیکھتا ہے، لیکن اپنے خوابوں کی تکمیل کے لئے ضروری ہے محنت ، لگن وجستجو کی۔ کولکاتا کی پریا منڈل نے اپنے خوابوں میں رنگ بھرنے کے لئے کچھ ایسی ہی جستجو کی پھر سماج نے بھی ان کا ہاتھ تھام کر انہیں یقین دلایا کہ وہ آگے بڑھیں۔ پریا کو بنگال چائلڈ پروٹیکشن کميشن کا چیئرپرسن بنایا گیا۔ علامتی طور پر ایک گھنٹے کے لئے کمیشن کی چیئرپرسن بن کر پریا بہت خوش ہیں، یہ سوچ کر کہ وہ بھی عام لوگوں کی طرح اپنے خوابوں کو سچ کرسکتی ہیں۔

کولکاتا کی پریا منڈل ایک عام سی لڑکی ہے لیکن اس کی زندگی عام نہیں ہے سماج اسے اپنے ساتھ کھڑے ہونے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔  پریا شہر کے بدنام زمانہ علاقہ بو بازار کے ریڈ لائٹ ایریا میں رہتی ہے اس کے والدین نہیں ہیں، یا یوں کہیں کہ اسے معلوم نہیں ہے کہ وہ کس کی بیٹی ہے۔ پریا کو بچپن میں ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ عام لوگوں کی طرح زندگی نہیں جی سکتی۔ پریا نے چھوٹی سی عمر میں ہی ان علاقوں میں کام کرنے والے سماجی تنظیموں کا ہاتھ تھام لیا اور ان تنظیموں کی مدد سے اپنی پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھا۔ وہ گیارہویں جماعت کی طالبہ ہے۔


پریا کہتی ہے کہ جہاں وہ رہتی ہے وہاں بچے رات رات بھر گھر سے باہر رہتے ہیں، وہاں کا ماحول خراب ہے ہر وقت تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پریا نے ان علاقوں کے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا پریا نے کہا کہ ہمیں اسكول میں بھی امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پریا نے حکومت سے 12 ویں جماعت تک کے بچوں کو مڈ ڈے میل فراہم کرنے اور چودہ سال کی عمر سے ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔


سماجی تنظیم مسکان نے بھی پریا کے خوابوں میں رنگ بھرنے کے لیے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے وہ سپنے دکھائے جس پر اس کا حق تھا۔ آج چائلڈ پروٹیکشن کمیشن میں ایک گھنٹے کے لئے علامتی طور پر چیئرپرسن بنائے جانے پر پریا نے کئی مطالبوں پر دستخط کئے ریاستی وزیر مملکت برائے اطفال تحفظ ششی پانجا نے پریا کے دستخط کے ساتھ خود بھی دستخط کئے اور حکومت کو چارٹر آف ڈیمانڈ بھیجا ششی پانجا نے کہا کہ علامتی طور پر پریا کو چیئرپرسن کے طور پر اس کرسی پر منتخب کرنے کا مقصد اسے یہ سمجھانا تھا کہ وہ بھی چاہے تو  بہت کچھ کر سکتی ہے کیوںکہ وہ جس علاقے سے آتی ہے وہاں اس کے جیسے ہزاروں بچے ہیں جن کے سامنے کوئی مستقبل نہیں ہے وہ انہی گلیوں میں کھو جاتے ہیں۔  پریا کے حوصلے بلند ہے وہ اگے بڑھنا چاہتی ہے اور اس علاقے کے بچوں کے لئے کچھ کرنا چاہتی ہے۔
Published by: sana Naeem
First published: Nov 20, 2020 02:12 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading