ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

سی اے اے پر نہیں رک رہا ہے احتجاج، آئندہ بہار اسمبلی الیکشن کے مدنظر برسر اقتدار پارٹی کی بڑھ رہی ہے مشکل

سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کے احتجاج میں لگاتار تیزی آرہی ہے ۔ اس بہانے اپوزیشن اپنی سیاسی زمین تلاش رہی ہے تو برسر اقتدار پارٹی کی مشکل بڑھ رہی ہے ۔

  • Share this:
سی اے اے پر نہیں رک رہا ہے احتجاج، آئندہ بہار اسمبلی الیکشن کے مدنظر برسر اقتدار پارٹی کی بڑھ رہی ہے مشکل
شاہین باغ کی طرح بہار کے مختلف شہروں اور گاؤں میں سی اے اے، این پی آر اور این آر سی پر لگاتار احتجاج جاری ہے

پٹنہ۔ شاہین باغ کی طرح بہار کے مختلف شہروں اور گاؤں میں سی اے اے، این پی آر اور این آر سی پر لگاتار احتجاج جاری ہے۔ بہار میں آٹھ مہینہ بعد اسمبلی کا انتخاب ہونا ہے۔ ایسے میں برسر اقتدار پارٹی کی مشکل بڑھتی نظر آرہی ہے جبکہ اپوزیشن اسی بہانے اقتدار میں واپسی کا خواب دیکھنے لگا ہے۔ ادھر صوبہ میں دلتوں کی حمایت کرنے والی پارٹیوں نے بھی احتجاج کی کمان سنبھال لی ہے۔


پٹنہ کے سبزی باغ میں گزشتہ 21 روز سے خواتین کا احتجاج جاری ہے۔ موسم کا رنگ چاہے جیسا رہا ہو لیکن خواتین کے حوصلوں میں کوئی فرق پڑتا نظر نہیں آرہا ہے۔ موسم کی سرد راتوں میں بھی سبزی باغ کی سڑکیں سنسان نہیں ہوتی ہیں یہاں رات میں بھی خواتین کا احتجاج جاری رہتا ہے۔ دانشور، طلباء، سماجی کارکن، سیاسی لوگ خواتین کے احتجاج کا حصہ بن رہے ہیں۔ وہیں گیا کے شانتی باغ میں 35 دنوں سے خواتین کا مسلسل احتجاج جاری ہے۔ گیا میں سبھی سماج کے لوگوں کی احتجاج میں شرکت ہوتی ہے۔ پٹنہ کے عالم گنج، ہارون نگر، دیگہا، شاہ گنج، پٹنہ سیٹی میں خواتین کا احتجاج چل رہا ہے۔ دربھنگہ، جہان آباد، مدھوبنی، بھاگلپور، مغربی چمپارن میں شہریت قانون کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ اقلیتی تنطیموں کے ساتھ ہی سیاسی پارٹیوں کے لوگ احتجاج کا حصہ بن رہے ہیں اور سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کو غیر ضروری مدّعا بتاتے ہوئے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔


خاص بات یہ ہیکہ بہار میں صوبائی حکومت کو بھی احتجاج کر رہے لوگ کٹگھرے میں کھڑا کرتے ہیں اور یہیں سے ایک نئ طرح کی سیاست بھی شروع ہو گئی ہے۔ آئیے اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دراصل بہار میں قریب آٹھ مہینہ بعد اسمبلی انتخاب ہونا ہے۔ اپوزیشن کو اس قانون اور احتجاج کے بہانے موجودہ حکومت کو ٹارگیٹ کرنے کا ایک بڑا مدّعا مل گیا ہے۔ پہلے سے ہی سی اے اے کی حمایت سے جے ڈی یو سے ناراض عام لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کی جارہی ہیکہ صوبائی حکومت لوگوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی حکمت عملی پر کام کررہی ہے۔ نتیش کمار پر ہو رہی اس تنقید سے پارٹی کی مشکلیں بڑھ گئی ہیں۔


سی اے اے پر نہیں رک رہا ہے احتجاج


وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بیان دیا ہیکہ این پی آر میں پوچھے گئے غیر ضروری سوالوں کو ہٹایا جانا چاہئے۔ وزیر اعلیٰ کے بیان کے بعد پارٹی کے مسلم لیڈر نتیش کمار کے وقار کو بحال کرنے کی کوشش میں جٹے ہیں۔ ساتھ ہی اقلیتی سماج اور دلتوں کے درمیان حکومت کی فلاحی اسکیموں کو پہنچانے اور بتانے کی بھی کوشش ہو رہی ہے۔ ادھر اپوزیشن سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کا سوال کسی بھی طرح ٹھنڈا ہونے دینا نہیں چاہتی ہے۔ حالانکہ اپوزیشن کے تمام بڑے لیڈر مشترکہ طور پر اس قانون کے خلاف بات تو کررہے ہیں لیکن احتجاج کر رہے لوگوں کے ساتھ مل کر مسلسل احتجاج کرنے کی کوشش نہیں کی ہے لیکن اس مدّعا پر اسمبلی انتخاب میں ووٹ ملنے کا خواب ضرور دیکھنے لگے ہیں۔

ریاست میں دلتوں کی بڑی آبادی ہے اور دلتوں کی رہنمائی کرنے والی پارٹیوں کے رہنماؤں نے بھی اس قانون کی مخالفت شروع کردی ہے۔ دلت گاؤں میں گھوم گھوم کر بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ سی اے اے، این پی آر اور این آر سی دلتوں کے خلاف ہے۔ جیتن رام مانجھی، دیپانکر بھٹا چاریہ، پپو یادو، اوپیندر کشواہا، ادے نارائن چودھری، کنہا کمار، کانگریس پارٹی کے لیڈر صوبہ کے مختلف علاقوں میں گاؤں کے لوگوں کو بھی بیدار کرنے کی کوشش میں جٹے ہیں اور دلتوں کے حقوق کی بات کرتے ہوئے دلتوں کو سیاسی طور پر بھی متحد ہونے کی بات کررہے ہیں۔ اگر دلت، مسلمان اور اعلیٰ ذات کے لوگ اس قانون کو لیکر متحد ہوجاتے ہیں تو بہار کا سیاسی منظر نامہ بدل سکتا ہے۔ اپوزیشن کی کوشش دلت، مسلمان اور یادو کو متحد کرنے کی ہے وہیں جے ڈی یو کو خوف ہیکہ مہادلت، دلت اور مسلمان اگر ہاتھ سے نکل گیا تو این ڈی اے اتحاد میں صوبہ کی بڑی پارٹی بنے رہنے کا خواب کہیں ٹوٹ نہ جائے اور اگر ایسا ہوگیا تو جےڈی یو کے لئے بی جے پی کا سامنا کرنا مشکل ہوگا۔ بی جے پی اگر این ڈی اے اتحاد کی بڑی پارٹی بنےگی تو جے ڈی یو دوسرے نمبر پر رہنا برداشت نہیں کر پائے گا۔ نتیجہ کے طور پر سی اے اے، این پی آر اور این آر سی  کا مدّعا جتنا اپوزیشن کے لئے اہم بنتا جارہا ہے وہیں برسراقتدار پارٹی اور خاص طور سے جےڈی یو کے لئے بھی اہم ہے۔

 
First published: Feb 03, 2020 06:48 PM IST