உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    راجدیو رنجن قتل کیس میں شہاب الدین کا قریبی سمیت دو پولیس حراست میں، کافی قریب سے ماری گئی تھی گولی

    سیوان : بہار کے سیوان میں ہندوستان اخبار کے بیورو چیف راجدیو رنجن کے قتل کے معاملے میں گینگسٹر شہاب الدین کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔

    سیوان : بہار کے سیوان میں ہندوستان اخبار کے بیورو چیف راجدیو رنجن کے قتل کے معاملے میں گینگسٹر شہاب الدین کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔

    سیوان : بہار کے سیوان میں ہندوستان اخبار کے بیورو چیف راجدیو رنجن کے قتل کے معاملے میں گینگسٹر شہاب الدین کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:
      سیوان : بہار کے سیوان میں ہندوستان اخبار کے بیورو چیف راجدیو رنجن کے قتل کے معاملے میں گینگسٹر شہاب الدین کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔ پولیس نے اس معاملے میں شہاب الدین کے قریبی اوپیندر سنگھ کو حراست میں لیا ہے۔ پولیس کپتان سورو شاہ کا کہنا ہے کہ راجدیو کے قتل کو پروفیشنل شوٹرس نے ہی انجام دیا ہے۔ پولیس نے اس قتل کیس میں اوپیندر سمیت دو افراد کو حراست میں لیا ہے۔
      خیال رہے کہ راجدیو کا جمعہ کو سیوان میں سرشام گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا ۔ مجرموں نے اسٹیشن روڈ پھل منڈی کے قریب صحافی کو گولی ماری تھی۔ زخمی حالت میں انہیں اسپتال لایا گیا ، جہاں انہیں مردہ قرار دے دیا گیا تھا۔سیوان کے ایس پی سوربھ کمار نے بتایا کہ شوٹرس موٹر سائیکل پر سوار تھے۔ مجرموں کی تعداد کتنی تھی، یہ اب تک اس تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ پولیس معاملہ کی چھان بین میں مصروف ہے۔
      اس واقعہ کی بی جے پی كے قومی ترجمان شاہنواز حسین نے مذمت کی ہے اور ساتھ ہی ساتھ نتیش کمار پر بھی نشانہ سادھا ہے۔ شاہنواز حسین نے اپنے ٹوئٹر پر لکھا کہ 'نتیش بنارس گھوم رہے ہیں اور بہار میں جمہوریت کا چوتھا ستون خطرے میں ہے۔ یہ جنگل راج نہیں، مہا جنگل راج ہے۔
      بتایا جا رہا ہے کہ گزشتہ روز راجدیو رنجن اپنے دفتر سے نکل کر گھر کی طرف جا رہے تھے، تبھی مجرموں نے تابڑ توڑ فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ مجرموں نے راجدیو رنجن کو کافی قریب سے گولی ماری۔
      اطلاعات کے مطابق اس سے قبل بھی انہیں کچھ لوگو سے دھمکی ملی تھی اور اب ان کا قتل کر دیا ۔ پولیس موقع پر پہنچ کر تحقیقات کر رہی ہے۔ راجدیو رنجن گزشتہ 12 سالوں سے بطور صحافی طور پر کام کر رہے تھے۔
      First published: