ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

رانچی سول کورٹ نے تبلیغی جماعت سے منسلک تمام غیر ملکی باشندوں کو کیا بری، وطن واپسی کی راہ ہوئی ہموار

رانچی سی جے ایم کورٹ نے آج تبلیغی جماعت سے وابستہ تمام ١٧ غیرملکی باشندوں کو بری کر دیا ہے ۔ ڈسچارج پٹیشن پر فائنل سماعت کے دوران کورٹ نے دفعہ یو ایس ٢٦٩ ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ اور اپیڈیمک ڈیزیز ایکٹ کے تحت جرمانے کے طور پر ٢٢- ٢٢ سو روپیہ کے نجی مچلکوں کی ادائیگی کے بعد تمام لوگوں کو بری کر دیا ہے۔

  • Share this:
رانچی سول کورٹ نے تبلیغی جماعت سے منسلک تمام غیر ملکی باشندوں کو کیا بری، وطن واپسی کی راہ ہوئی ہموار
تبلیغی جماعت سے وابستہ تمام ١٧ غیرملکی باشندے بری

رانچی سی جے ایم کورٹ نے آج تبلیغی جماعت سے وابستہ تمام  ١٧ غیرملکی باشندوں کو بری کر دیا ہے ۔ ڈسچارج پٹیشن پر فائنل سماعت کے دوران کورٹ نے دفعہ یو ایس ٢٦٩ ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ اور اپیڈیمک ڈیزیز ایکٹ کے تحت جرمانے کے طور پر ٢٢- ٢٢ سو روپیہ کے نجی مچلکوں کی ادائیگی کے بعد تمام لوگوں کو بری کر دیا ہے۔ وہیں تبلیغی جماعت کے مقامی باشندہ حاجی معراج کو بھی جرمانے کی رقم ٦٢ سو روپیہ کی ادائیگی کے بعد بری کر دیا گیا۔  کورٹ سے تمام مقدمات ختم ہو جانے پر سبھی غیر ملکی باشندوں نے بے انتہا خوشی کا اظہار کیا ہے ۔ اب ان لوگوں کے جلد ہی اپنے وطن واپسی کا امکان روشن ہو گیا ہے۔ واضح رہے کہ ٣١ اگست کو ڈسچارج پٹیشن پر سماعت کے دوران رانچی سی جی ایم کورٹ کے ذریعہ تبلیغی جماعت سے وابستہ تمام ١٧ لوگوں کے خلاف عائد فارن ایکٹ کے سیکشن ١٣ ، ١٤ اے اور ١٤ بی کو ہٹا دیا گیا تھا ۔ اس سیکشن کے تحت پانچ سال قید کی سزا ہے ۔ عدالت نے صرف ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کو برقرار رکھا تھا جسکے تحت چھ ماہ کی سزا ہے ۔ چونکہ ان غیر ملکی باشندوں نے تین ماہ ٢٢ دنوں کی سزا کاٹ چکے تھے اس لئے آج عدالت نے ان تمام لوگوں کے اچھے اعمال اور کردار کو دیکھتے ہوئے نجی مچلکوں پر رہا کر دیا ۔


واضح رہے کہ گذشتہ ٣٠ مارچ کو رانچی کے ہندپیڑھی میں قیام پذیر ٢٢ سالہ ملیشیائی خاتون کورونا مثبت پائی گئی تھیں ۔ جھارکھنڈ میں کورونا مثبت کا یہ پہلا معاملہ تھا ۔ تبلیغی جماعت سے منسلک غیرملکی باشندوں کے ساتھ رانچی پہنچی ملیشیائی خاتون کے کورونا مثبت ہونے کے بعد ہندپیڑھی کے مساجد میں قیام پذیر تمام ١٧ غیرملکی افراد کو گرفتار کرلیا گیا تھا اور پھر ہندپیڑھی پولیس اسٹیشن میں ٧ اپریل کو انکے خلاف ویزا ایکٹ ۔ فارن ایکٹ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر رانچی کے ہٹوار واقع برسہ منڈا سینٹرل جیل بھیج دیا گیا تھا ۔ گرفتار ہونے والے غیرملکی باشندوں میں ملیشیا کے چار مرد اور چار خواتین ۔ انگلینڈ کے تین ۔ بنگلہ دیش۔ گامبیا اور ترینی داد اینڈ ٹوبیگو آئی لینڈ کے دو ۔ دو افراد شامل تھے۔


رانچی کے سینٹرل جیل میں سزا کاٹ رہے ان غیر ملکی باشندوں کو جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے ذریعہ ١٥ جولائی کو  دس ۔ دس ہزار روپیہ کے نجی مچلکوں پر ضمانت ملی تھی ۔ اس سے قبل ١٢ مئی کو نچلی عدالت کے ذریعہ ان لوگوں کی ضمانت کی عرضی خارج کر دی گئی تھی ۔ جھارکھنڈ ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد سینٹرل جیل سے ٢١ جولائی کو ان تمام ١٧ غیر ملکی باشندوں کی رہائی ہوئی تھی۔ تب سے یہ سبھی لوگ رانچی کے جامیعہ نگر میں قیام پذیر تھے ۔


اس درمیان کانگریس رکن اسمبلی ڈاکٹر عرفان انصاری اور بندھو ترکی نے ریاستی حکومت سے ان تمام غیر ملکی باشندوں کے خلاف درج مقدمات کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا تاہم رانچی کی جی ایم کورٹ کے آج کے فیصلے سے ان تمام غیر ملکی باشندوں کو جلد ہی اپنے اپنے وطن واپسی کا امکان روشن ہو گیا ہے۔
Published by: sana Naeem
First published: Sep 28, 2020 09:58 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading