ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

رانچی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے زیر اہتمام ایک روزہ عالمی ویبینار کاہوا انعقاد، ملک کے مختلف شہروں سے ماہرین ہوئے شامل

نئی تعلیمی پالیسی 2020 کی معنویت (New Education Policy 2020) کے موضوع پر آج رانچی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے زیر اہتمام ویبینار (Urdu Webinar) کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر نئی تعلیمی پالیسی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

  • Share this:

نئی تعلیمی پالیسی 2020  کی معنویت (New Education Policy 2020) کے موضوع پر آج رانچی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے زیر اہتمام ویبینار (Urdu Webinar) کا انعقاد کیا گیا۔ رانچی یونیورسٹی کے پرو وی سی پروفیسر کامنی کمار کی صدارت میں منعقد اس ایک روزہ عالمی ویبینار میں رانچی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر ڈاکٹر منظر حسین اور مہمان خصوصی کی حیثیت سے شعبہ اردو بی ایچ یو کے صدر ڈاکٹر آفتاب احمد آفاقی کے علاوہ ملک کے مختلف شہروں سے اردو اساتذہ ۔ ریسرچ اسکالر اور ماہرین شامل ہوئے۔ اس موقع پر نئی تعلیمی پالیسی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ‌اس ویبینار میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شامل بنارس ہندو یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر ڈاکٹر آفتاب احمد آفاقی نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی میں کئی خوبیاں ہیں۔

انہوں نے کہا ان میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسمیں مادری زبان پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ آفتاب احمد نے کہا کہ ابتدائی تعلیم اب صرف زبان کی حد تک نہیں بلکہ جو دوسرے مضامین ہیں اسے بھی اپنی مادری زبان میں پڑھ سکتے ہیں یا علاقائی زبان میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس نقطہ نظر سے نئی تعلیمی پالیسی کو سامنے رکھیں اور اردو زبان کے متعلق سونچیں یا اردو زبان کا مطالعہ کریں تو اسے ایک سنہرہ موقع قرار دیا جا سکتا ہے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پرائمری سطح پر اپنے بچوں کو اردو کی تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں۔


وہیں رانچی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر ڈاکٹر منظر حسین نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی ہمارے آنے والی نسل کے لئے خضر راہ ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کی کئی انفرادیت اور خصوصیت ہے۔ ڈاکٹر منظر حسین نے کہا کہ اس تعلیمی پالیسی میں نیچورل فینومینا کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ انہوں نے اسکی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بچے مادری زبان یا علاقائی زبان میں پرائمری سے لیکر اعلی تعلیم بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ دوسری خاصیت بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے تحت بنیادی مضمون کے علاوہ دوسرے مضمون کو بھی رکھا جا سکتا ہے۔ منظر حسین نے کہا کہ اس پالیسی میں نالیج کے ساتھ ساتھ اسکل ڈیولپمنٹ پر بھی فوکس کیا گیا ہے۔


رانچی یونیورسٹی کی شعبہ اردو کی سابق صدر پروفیسر کہکشاں پروین نے کہا کہ اس نئی تعلیمی پالیسی کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہئے انہوں نےکہا کہ جب اس پالیسی کو نافذ کیا جائے تو اسے ایمانداری کے ساتھ مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کی جو بات کہی گیی ہےاسے لاگو کیا جائے۔ انہوں نےکہا کہ ہر ریاست میں وہاں کی علاقائی زبان کو اختیاری مضمون کے طور پر نہیں بلکہ لاظمی مضمون کی حیثیت سے اسکا درجہ متعین کیا جانا چاہئے تبھی مادری زبان میں تعلیم کا حاصل کرنا ممکن ہو سکے گا۔
اس ویبینار میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ڈاکٹر سرور ساجد ۔ ہزاری باغ کے ونوبا بھاوے یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے پروفیسر زین رامس ۔ جےاین کالج رانچی کے شعبہ اردو کے پروفیسر رضوان علی ۔ بی بی ایم کے یو دھنباد کے شعبہ اردو کے پروفیسر موصوف احمد ۔ ہزاری باغ کے سینٹ کولمبس کالج کے شعبہ اردو کے پروفیسر ڈاکٹر جمال احمد ۔ پروگرام کی کنوینر اور رانچی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کی سابق صدر پروفیسر کہکشاں پروین ۔ پروگرام کے کو آرڈینیٹر ڈاکٹر عالمگیر ساحل اور فاطمہ حق کے علاوہ ملک کے مختلف شہروں سے تقریباً پانچ درجن ماہرین شامل ہوئے۔
Published by: sana Naeem
First published: Sep 24, 2020 08:51 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading