ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار اسمبلی انتخابات کو لیکر سیاست شباب پر، ہر پارٹی کی زبان پر ہے دلت کا مسئلہ۔

بہار میں مسلمانوں کی طرح دلت سماج کے درجنوں رہنماں ہیں لیکن سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے بعد وہ سیاسی رہنماں دلت سماج کو اپنے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔ نتیجہ کے طور پر دلتوں کے نام پر چل رہی درجنوں اسکیمیں اس سماج کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا پاتی ہے۔

  • Share this:

بہار میں مسلمانوں کی طرح دلت سماج کے درجنوں رہنماں ہیں لیکن سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے بعد وہ سیاسی رہنماں دلت سماج کو اپنے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔ نتیجہ کے طور پر دلتوں کے نام پر چل رہی درجنوں اسکیمیں اس سماج کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا پاتی ہے۔ بہار کے سابق وزیر اعلیٰ جیتن رام مانجھی دلت لیڈر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور خاص بات یہ ہے کہ دلت لیڈر ہونے کی حیثیت سے ہی انہیں سیاسی پارٹیوں میں ایک خاص مقام ملتا ہے۔ وہیں رام ویلاس پاسوان ایک زمانہ سے دلتوں کی رہنمائی کرنے کا دم بھرتے رہے ہیں۔ اب چیراغ پاسوان ان کے نقشہ قدم پر چل کر دلتوں کے حقوق کی بات کررہے ہیں۔


جےڈی یو نے کئ دلت چہروں کو اپنی پارٹی میں شامل کیا ہے تاکہ آئندہ اسمبلی انتخاب (Bihar Assembly Elections 2020) میں دلت ووٹوں کو اپنی جھولی میں لایا جاسکے۔ وہیں بی جے پی بھی دلتوں کو خوش کرنے کی مہم میں لگی ہے۔ دوسری طرف عظیم اتحاد اپنے روایتی ووٹر کو چھوڑ کر اپنی پوری قوت دلت ووٹوں کو متحد کرنے میں لگا رہا ہے۔ جےڈی یو کا دامن چھوڑ آرجے ڈی میں آئے شیام رجک کے ذریعہ دلت کارڈ کھیلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

جانکاروں کے مطابق اسمبلی انتخابات میں ذات پات اور بھائی بھتیجا واد کے خلاف اسٹیج سے بولنے والے بڑے لیڈر انتخابات کے وقت صرف ذات پات کی سیاست سے اپنی کشتی کو ساحل تک پہنچاتے ہیں۔ موجودہ وقت میں بھی بہار میں ذاتوں کو متحد کر سیاسی پارٹیاں اپنا الو سیدھا کرنا چاہتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف بہار میں دلتوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ حکومت کی تمام مرعات ملنے کے بعد بھی دلت سماج حاشیہ پر کھڑا نظر آتا ہے۔ دلتوں کے لیڈر انتخابات میں انہیں ترقی کا خواب تو ضرور دیکھاتے ہیں لیکن انتخابات کے بعد دلت کا مدّعہ کوئ مدّعہ نہیں رہتا ہے۔

Published by: sana Naeem
First published: Sep 12, 2020 04:36 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading