ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بنگال میں کورونا کے بڑھتے انفیکشن سے جہاں لوگ ہیں پریشان وہیں افواہوں کا بازار بھی ہے گرم

بنگال ان دنوں کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ ریاست میں کورونا سے متاثر لوگوں کی تعداد 3,65,692 ہوچکی ہے۔ یومیہ چار ہزار سے زائد کورونا سے متاثر نئے مریض سامنے آرہے ہیں۔ ریاست میں کورونا سے متاثر 6,786 مریضوں کی موت ہوچکی ہے، جبکہ 3,25,818, مریض صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔

  • Share this:
بنگال میں کورونا کے بڑھتے انفیکشن سے جہاں لوگ ہیں پریشان وہیں افواہوں کا بازار بھی ہے گرم
بنگال میں کورونا کے بڑھتے انفیکشن سے جہاں لوگ ہیں پریشان وہیں افواہوں کا بازار بھی ہے گرم

کولکاتہ۔ بنگال میں کورونا کے مریضوں کی بڑھتی تعداد نے جہاں حکومت کی پریشانی بڑھائی ہے وہیں عام لوگ بھی پریشان ہیں۔ کورونا کے بڑھتے انفیکشن سے بچاؤ کے لئے احتیاطی اقدامات پر زور دیا جارہا ہے وہیں اس خطرناک وائرس کو لیکر افواہوں کا بازار بھی گرم ہے۔ یہ خبر اس وقت سامنے آئی جب کولکاتا پولیس ہیڈ کوارٹر لال بازار میں لوگوں کے فون آنے شروع ہوئے۔ سب کا ایک ہی سوال تھا کہ کب سے لاک ڈاؤن شروع ہوگا، کتنے دنوں کا لاک ڈاؤن ہوگا۔


پولیس کی جانب سے جب اس معاملے کی تحقیقات کی گئی تو یہ سامنے آیا کہ سوشل میڈیا پر یہ خبر گرم ہے کہ بنگال میں ایک بار پھر سے لاک ڈاؤن ہونے جارہا ہے۔ خبر سامنے آنے کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور اِن خبروں کو غلط بتایا۔ درگا پوجا کے بعد ایک بار پھر لاک ڈاؤن نافذ کئے جانے کی خبروں کی کولکاتا پولیس نے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبر پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔


بنگال ان دنوں کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ ریاست میں کورونا سے متاثر لوگوں کی تعداد 3,65,692 ہوچکی ہے۔ یومیہ چار ہزار سے زائد کورونا سے متاثر نئے مریض سامنے آرہے ہیں۔ ریاست میں کورونا سے متاثر 6,786 مریضوں کی موت ہوچکی ہے، جبکہ 3,25,818, مریض صحتیاب بھی ہوئے ہیں لیکن کورونا کے مریضوں کی تعداد میں ہر روز ہو رہے اضافے سے لوگوں میں بےچینی دیکھی جارہی ہے۔ حکومت بھی پریشان ہے۔ درگا پوجا کے بعد ریاست میں کورونا وائرس کے کیسوں میں مزید  اضافہ ہوا ہے۔ ایسے میں آج سوشل میڈیا پر یہ افواہ گردش کر رہی ہے کہ چند دنوں میں بنگال میں 48گھنٹے کا لاک ڈاؤن نافذ کیا جائے گا۔ اس کے بعد ہی کولکاتا پولیس نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جھوٹی خبر ہے جو انتشار پھیلانے کے لئے پھیلائی جارہی ہے اس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔


کولکاتا پولیس نے اپنے ٹوئیٹ میں لکھا ہے کہ ’’ لاک ڈاؤن کی خبریں افواہ ہیں۔ جو پیغام سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے اس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے اور عام لوگ خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔ ایسی خبریں نشر کرنے یا اس طرح کے فرضی پیغامات پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ یہ ایک پرانا پیغام ہے جس کو نئے سرے سے پھیلاتے ہوئے لوگوں کے ذہنوں میں الجھن پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Oct 30, 2020 08:36 AM IST