ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار: مختلف اضلاع میں سیلاب کے قہر سے جوجھ رہے لوگوں کے کیلئے عیدالاضحیٰ پر قربانی کے فرائض کو انجام دینا بڑا چیلنج

بہار کے بارہ ضلعوں میں سیلاب کا قہر جاری ہے۔ سیکڑوں گاؤں میں سیلاب کا پانی داخل ہوگیا ہے۔ نتیجہ کے طور پر مسجدوں میں نماز پڑھنے اور قربانی کو لیکر لوگ پریشان ہیں۔

  • Share this:
بہار: مختلف اضلاع میں سیلاب کے قہر سے جوجھ رہے لوگوں کے کیلئے عیدالاضحیٰ پر قربانی کے فرائض کو انجام دینا بڑا چیلنج
بہار میں سیلاب کا قہر جاری۔

پہلے سے ہی بہار کورونا کی وبا کو لیکر مشکل میں ہے اور لاک ڈاون کے سبب قربانی کا معاملا بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اس میں سیلاب کے قہر سے قربانی کرنا لوگوں کے لئے مزید دشوار ہوتا جارہا ہے۔ کورونا کو دیکھتے ہوئے مسلم تنظیموں نے مسلمانوں سے قربانی کافی احتیاط کے ساتھ کرنے کی اپیل کی ہے جس میں انسانی دوری اور ماسک پہننا لازمی ہے وہیں سیلاب متاثرہ ضلعوں کی تصویریں کچھ اور نظارہ پیش کررہی ہے۔

دراصل سیکڑوں گاؤں میں سیلاب کا پانی داخل ہونے کے سبب قربانی کرنا اپنے آپ میں ایک سوال بن گیا ہے۔ سڑکیں ٹوٹ گئ ہے اور سیلاب کے سبب جانوروں کی موت واقع ہوئی ہے جو جانور موجود ہیں انہیں سمبھالنا مشکل ہورہا ہے ادھر راستہ ٹوٹ جانے سے آمد و رفت بلکل بند ہے نتیجہ کے طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ قربانی کے جانور کو لے جانا دشوار کن مرحلہ ہوگیا ہے۔بہار کے مغربی چپمارن، مشرقی چمپارن، سیتامڑی، شیوہر، سوپول، کشن گنج، ارریہ، دربھنگہ، مظفرپور، گوپال گنج اور کھگڑیا کے گاؤں میں لوگوں کے سامنے قربانی کا مسلہ کھڑا ہوگیا ہے۔ حالانکہ اس مقدس فرائض کو پورا کرنے کی کوشش میں لوگ جٹے ہیں۔ لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہیکہ جن گاؤں میں سیلاب نے اپنا قہر برپا کیا ہے وہاں قربانی شاید ہی ہو پائےگی۔

سیلاب کے سبب سیکڑوں لوگوں کا گھر تباہ ہوگیا ہے اور جو لوگ مالی اعتبار سے مضبوط ہیں ان کے سامنے قربانی کے جانور کو تلاش کرنا مشکل ہورہا ہے۔ اس بار قربانی کے جانور کم ہونے سے اس کی قیمت آسمان چھو رہی ہے۔ کورونا نے پہلے ہی لوگوں کے روزگار کو ختم کردیا ہے اوپر سے سیلاب نے باقی کسر پوری کردی ہے۔ ایسے میں عید الضحی کے تعلق سے لوگوں میں پہلے کے جیسا امنگ دیکھائی نہیں دے رہا ہے۔

Published by: Sana Naeem
First published: Jul 29, 2020 12:05 PM IST