உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سارن زہریلی شراب کیس میں 13 لوگوں کی موت، بڑھ سکتی ہے مرنے والوں کی تعداد

    اگرچہ انتظامیہ نے سرکاری طور پر اب تک 11 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ وہیں، 10 سے زیادہ لوگ اب بھی اسپتال میں داخل ہیں۔

    اگرچہ انتظامیہ نے سرکاری طور پر اب تک 11 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ وہیں، 10 سے زیادہ لوگ اب بھی اسپتال میں داخل ہیں۔

    اگرچہ انتظامیہ نے سرکاری طور پر اب تک 11 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ وہیں، 10 سے زیادہ لوگ اب بھی اسپتال میں داخل ہیں۔

    • Share this:
      Illegal liquor: سارن ضلع کے مکڑ اور بھیلڈی میں زہریلی شراب پینے سے مرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اب یہ تعداد 13 تک پہنچ گئی ہے۔ اگرچہ انتظامیہ نے سرکاری طور پر اب تک 11 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ وہیں، 10 سے زیادہ لوگ اب بھی اسپتال میں داخل ہیں۔ لاشوں کے پوسٹ مارٹم کے بعد سارن ضلع انتظامیہ نے تقریباً 6 لاشوں کو آخری رسومات کے لیے لواحقین کے حوالے کر دیا۔

      یہ نعشیں جیسے ہی گاؤں پہنچیں کہرام مچ گیا اور اہل خانہ کے رونے سے پورا ماحول سوگوار ہو گیا۔ گاؤں میں جہاں ہر طرف چیخ و پکار ہے لوگ ایک دوسرے کو تسلی دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب تک تقریباً نصف 6 لاشیں گاؤں بھیجی جا چکی ہیں اور ان کی آخری رسومات بھی کر دی گئی ہیں۔مکر بلاک کے پھولواریہ پنچایت کے نونیا ٹولی گاؤں میں باقی لاشوں کی آخری رسومات کی تیاریاں کی گئی ہیں۔

      Delhi Excise: دہلی کے سابق ایکسائز کمشنر و DCکو معطل کرنے کا حکم، 11افسران پر ہوگی کاروائی

      خاتون کے ساتھ کی تھی چھیڑچھاڑ، Metro Card نے تین ماہ بعد کرایا گرفتار

      چھپرا میں بھی بھگوان بازار تھانے کے دولت گنج محلہ میں شراب کے نشے میں دھت تڑپ رہے ایک نوجوان کو برآمد کیا گیا، جسے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ نوجوان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ اس دوران سارن کے ایس پی سنتوش کمار نے کہا کہ میکر تھانیدار نیرج کمار مشرا اور چوکیدار کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ جب کہ کشوری چوہدری کو میکر کا نیا ایس ایچ او بنا دیا گیا ہے۔

      بتا دیں کہ شراب اسکینڈل کے بعد چھاپے مارے جا رہے ہیں اور اب تک 100 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ بھاری مقدار میں شراب بھی برآمد ہوئی ہے۔ چھپرا کی بات کریں تو پچھلے 12 مہینوں میں شراب کی وجہ سے 50 سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ ان میں سے کئی اموات انتظامیہ کی نظروں میں نہیں ہیں۔ چھپرا کے مکڑ میں شراب گھوٹالہ کے واقعہ کے بعد امتناعی قانون کو لے کر نتیش حکومت کے دعوے پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: