اپنا ضلع منتخب کریں۔

    مغربی بنگال انتخابات : دوسرے مرحلہ کی پولنگ کل ، کانگریس ۔ سی پی ایم اتحاد کو کافی امیدیں وابستہ

    کلکتہ : مغربی بنگال کے سات اضلاع کے 56اسمبلی حلقے جہاں کل پولنگ ہو رہی ہے ، وہ مہا گٹھ بندھن (کانگریس، بایاں محاذ، آرجے ڈی اور جے ڈی ) کیلئے امیدوں کا مرکز ہے

    کلکتہ : مغربی بنگال کے سات اضلاع کے 56اسمبلی حلقے جہاں کل پولنگ ہو رہی ہے ، وہ مہا گٹھ بندھن (کانگریس، بایاں محاذ، آرجے ڈی اور جے ڈی ) کیلئے امیدوں کا مرکز ہے

    کلکتہ : مغربی بنگال کے سات اضلاع کے 56اسمبلی حلقے جہاں کل پولنگ ہو رہی ہے ، وہ مہا گٹھ بندھن (کانگریس، بایاں محاذ، آرجے ڈی اور جے ڈی ) کیلئے امیدوں کا مرکز ہے

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      کلکتہ : مغربی بنگال کے سات اضلاع کے 56اسمبلی حلقے جہاں کل پولنگ ہو رہی ہے ، وہ مہا گٹھ بندھن (کانگریس، بایاں محاذ، آرجے ڈی اور جے ڈی ) کیلئے امیدوں کا مرکز ہے ، انہیں یہاں کی بیشتر سیٹوں پر کامیابی کی امیدیں ہیں۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں بھی یہاں کی بیشتر سیٹوں پر سی پی ایم اور کانگریس کو ہی کامیابی ملی تھی۔
      لوک سبھا انتخابات کے دوران ان حلقوں میں سی پی ایم اور کانگریس کو ملنے والے ووٹ اگر ایک ساتھ مہا گٹھ بندھن کے حق میں چلے جائیں گے ، تو حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کیلئے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے ۔گرچہ لوک سبھا انتخابات کو دو سال کا عرصہ بیت چکا ہے اور لوک سبھا انتخابات اور اسمبلی انتخابات میں ووٹروں کا رجحان الگ ہوتا ہے ۔مگر اس میں کوئی شک نہیں ہے لوک سبھا انتخابات میں پولنگ کے اعتبار سے کانگریس اور سی پی ایم کا ووٹ ملادینے کے بعد ترنمول کانگریس کو ملنے والے ووٹ فیصدسے زیادہ ہوجاتا ہے ۔
      سینئر کانگریسی لیڈر اور بنگال کانگریس کمیٹی میں جنرل سیکریٹری اور جادو پور یونیورسٹی کے پروفیسر او پی مشرا نے کہا کہ ہم نے مشترکہ مقاصد کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد کیا ہے، ہمیں امید ہے کہ ہمارا ووٹ فیصد ایک دوسرے کو منتقل ہوگا اور ہم مالدہ ، مرشدآباد، شمالی اور جنوبی دیناج پور ، سلی گوڑی، جلپائی گوڑی ، دارجلنگ اور علی پور دوار میں اتحاد کی وجہ سے بہتر کاکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔
      دلچسپ بات یہ ہے کہ شمالی بنگال میں سب سے زیادہ مسلم ووٹرس ہیں جو ہمیشہ کانگریس کے ساتھ جانے کو ترجیح دی ہے۔ جلپائی گوڑی اور علی پور دوار دونوں میں کل 12سیٹیں جس میں 2014کے لوک سبھا انتخابات میں ترنمول کانگریس کو 33.64فیصد ووٹ ملے تھے ، جب کہ بایاں محاذ کو 30.9فیصد اور کانگریس کو 8.74فیصد ووٹ ملے تھے اس طرف ان دونوں پارٹیوں کو کل 38.83فیصد ووٹ ملے تھے ۔جب کہ یہاں بی جے پی کو 23.25فیصد ووٹ ملے تھے ۔اسی طرح شمالی دیناج پور میں 9اسمبلی حلقے میں ترنمول کانگریس کو 22.15فیصد ، بایاں محاذ کو28.83فیصد ، کانگریس کو 25.54فیصد ووٹ ملے تھے اس طرح دونوں پارٹیوں کو ملاکر کل 54.37فیصد ووٹ ملے تھے اور بی جے پی کو یہاں 17.83فیصد ووٹ ملے تھے۔
      جنوبی دیناج پور میں ترنمول کانگریس کو 37.87فیصد ، بایاں محاذ کو 29.19فیصد ، کانگریس کو 7.02فیصد اور اس طرح دونوں جماعت کو 36.21فیصد ووٹ ملے جب کہ یہاں بی جے پی کو 22.51فیصد ووٹ ملا ۔مالدہ میں کل 12اسمبلی حلقے ہیں جہاں جہاں ترنمول کانگریس کو 18.24فیصد، بایاں محاذ کو 22.86فیصد ، کانگریس کو 34.04فیصد اس طرح اتحاد کو کل 56.72فیصد ووٹ ملے تھے ۔جب کہ یہاں بی جے بی کو کل 18.74فیصد ووٹ ملے تھے۔
      ترنمول کانگریس نے شمالی بنگال میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کیلئے پارٹی کے سینئر سیاست داں سوبھنددو ادھیکاری کو ذمہ داری سونپی ہے ۔ادھیکاری مالدہ اور مرشدآباد میں پارٹی کے آبزرور ہیں ۔ایک انگریزی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے ادھیکاری نے کہا کہ 19مئی کو آنے والے نتائج سب کو حیران کردیں گے اور ہم اس علاقے میں کامیابی درج کریں گے۔
      شمالی اور جنوبی دیناج پور کی 15سیٹیں کانگریس کی روایتی سیٹیں ہیں ، مگر ترنمول کانگریس نے اس میں سیندھ لگانے کیلئے بہت ہی سخت محنت کی ہے ۔مگر کانگریس اور سی پی ایم کا اتحاد اس علاقے میں ایک بڑا فیکٹر بن سکتا ہے ۔ان علاقوں میں بی جے پی نے بہت ہی زیادہ ووٹ حاصل کیا تھا مگر 2014کے بعد بی جے پی اپنے اس اثر کو برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں رہی ۔تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ بی جے پی کا ووٹ فیصد کم ہوسکتا ہے ۔مگر سوال یہ ہے کہ یہ ووٹ کس طرف جائیں گے ۔تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ ووٹ بایاں محاذ کا کٹ کر بی جے پی کے خیمے میں چلاگیا تھا کہ انہیں امید تھی بی جے پی یہاں بہتر کرے گی مگر اب بایاں محاذ واپسی کی کوشش کررہی ہے تو اگر یہ ووٹ بایاں محاذ کے خیمے میں واپس چلا گیا تو ترنمول کانگریس کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔
      جن 56سیٹوں پر کل پولنگ ہورہی ہے ۔2011میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کے باوجود ترنمول کانگریس کو ان 56سیٹوں میں صرف 18سیٹوں پر ہی کامیابی ملی تھی ۔جب کہ کانگریس کو 18اور بایاں محاذ کو15اور گورکھا جن مکتی مورچہ کو تین اور جب کہ دو سیٹوں پر دیگر پارٹی کو کامیابی ملی تھی۔علی پور دوار میں کل پانچ سیٹیں ہیں جس میں ترنمول کانگریس نے 3 سیٹوں پر انتخاب لڑا تھا اور اسے صرف ایک سیٹ پر کامیابی ملی تھی ۔جلپائی گوڑی کے کل 7سیٹوں میں سے 4سیٹوں پر ترنمول کانگریس نے امیدوار کھڑا کیا تھا مگر اسے صرف 2 سیٹ پر ہی کامیابی ملی۔
      دارجلنگ میں ایک سیٹ پر امیدوار کھڑا کیا اور کامیابی بھی ملی۔شمالی دیناج پور میں چار سیٹوں پر انتخاب لڑا جس میں صرف دو سیٹوں پر ہی میابی ملی۔جنوبی دیناج پور میں پانچ سیٹوں پر انتخاب لڑا اور پانچوں پر کامیابی ملی ۔مالدہ میں تین سیٹوں پر ترنمول کانگریس نے امیدوار کھڑا کیا جس میں صرف ایک سیٹ پر ہی کامیابی ملی۔بیر بھوم میں 9 سیٹوں پر ترنمول کانگریس نے امیدوار کھڑا کیا مگر اسے صرف تین سیٹوں پر کامیابی ملی ۔اس طرح 56سیٹوں میں سے 29سیٹوں پر ترنمول کانگریس نے امیدوار کھڑا کیا اور 18پر کامیابی ملی۔جب کہ اس وقت کانگریس کے ساتھ ترنمول کانگریس کا اتحاد تھا۔
      First published: