اپنا ضلع منتخب کریں۔

    ووٹ ڈالنے کے بعد شتروگھن سنہا نے کہا : اب تیر کمان سے نکل چکا ہے

    پٹنہ : بہار اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی انتخابی مہم سے اب تک دور رکھے گئے پارٹی کے لیڈر شتروگھن سنہا نے ایک بار پھر سخت تیور دکھائے ہیں۔

    پٹنہ : بہار اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی انتخابی مہم سے اب تک دور رکھے گئے پارٹی کے لیڈر شتروگھن سنہا نے ایک بار پھر سخت تیور دکھائے ہیں۔

    پٹنہ : بہار اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی انتخابی مہم سے اب تک دور رکھے گئے پارٹی کے لیڈر شتروگھن سنہا نے ایک بار پھر سخت تیور دکھائے ہیں۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      پٹنہ : بہار اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی انتخابی مہم سے اب تک دور رکھے گئے پارٹی کے لیڈر شتروگھن سنہا نے ایک بار پھر سخت تیور دکھائے ہیں۔


      دارالحکومت پٹنہ میں اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد شتروگھن سنہا نے نیوز 18 ای ٹی وی سے خاص بات چیت میں کہا کہ 'بہار بی جے پی کے کچھ رہنماؤں نے پارٹی کو ڈبو دیا۔ پارٹی کے بڑے لیڈر پارٹی کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ وزیر اعظم مودی کو مجبورا گاؤں گاؤں میں ریلی کرنی پڑ رہی ہے۔


      شتروگھن سنہا نے کہا کہ بی جے پی کو بہار انتخابات میں وزیر اعلی کے عہدے کےامیدوار کا اعلان کرنا چاہئے تھا، کیونکہ یہاں انتخابات دیگر ریاستوں سے مختلف ہوتے ہیں۔


      بی جے پی کے رہنما نے کہا کہ بہار میں تین مرحلے میں ووٹ ڈالے جاچکے ہیں اور اب تیر کمان سے بھی نکل چکا ہے۔ انہوں نے جنگل راج کو لے کر کہا کہ بی جے پی کی منفی باتوں کو عوام نے مسترد کردیا ہے۔


      شاٹ گن نے کہا کہ بہار کے عوام جنگل راج جیسے الفاظ مسترد کررہے ہیں ۔ بی جے پی کی منفی مہم پوری طرح ناکام ہو گئی ہے۔ اب بی جے پی کو جنگل راج جیسے الفاظ کے استعمال سے گریز کرنا چاہئے۔


      اس دوران شتروگھن سنہا نے واضح طور پر کہا کہ انہیں پارٹی کی کارروائی کا کوئی خوف نہیں ہے۔ انہوں نے پارٹی کو آئینہ دکھانے کا کام کیا ہے، کیونکہ یہ وقت کی ضرورت ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے وزیر اعلی نتیش کمار سمیت تمام بڑے لیڈروں کو نیک خواہشات بھی دیں۔


      واضح رہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے شتروگھن سنہا مسلسل اپنے بیانات اور ٹویٹ سے بی جے پی کی نکتہ کرتے رہے ہیں۔ پہلے دال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر مرکزی حکومت کو گھیرا اور اس کے بعد خود کو انتخابی مہم کے لئے نہیں بلانے پر اپنی ناراضگی ظاہر کی۔
      شتروگھن سنہا نے کہا کہ وہ اپنی باتوں کو ٹوئٹر کے ذریعے مسلسل رکھتے ہیں اور آگے بھی جاری رکھیں گے۔

      First published: