ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بھوپال کی تاریخی شاہجہانی عیدگاہ کی خستہ حالی اور جرائم پیشہ عناصر کو ہٹانے کیلئے سماجی تنظیموں نے شروع کی تحریک

بھوپال کی تاریخی شاہجہانی عیدگاہ کی خستہ حالی اور جرائم پیشہ عناصر کو وہاں سے ہٹانے کو لیکر سماجی تنظیموں نے اپنی تحریک شروع کردی ہے ۔

  • Share this:
بھوپال کی تاریخی شاہجہانی عیدگاہ کی خستہ حالی اور جرائم پیشہ عناصر کو ہٹانے کیلئے سماجی تنظیموں نے شروع  کی تحریک
بھوپال کی تاریخی شاہجہانی عیدگاہ کی خستہ حالی اور جرائم پیشہ عناصر کو وہاں سے ہٹانے کو لیکر سماجی تنظیموں نے اپنی تحریک شروع کردی ہے ۔

مغل شہنشاہوں میں تاریخی عمارتوں کی تعمیر کے لئے جو مقام بادشاہ شاہجہاں کو حاصل تھا نوابین بھوپال میں وہی مقام بھوپا ل کی تیسری خاتون فرمانرا نواب شاہجہاں بیگم کو حاصل تھا۔ بھوپال میں ایشیا کی بڑی مسجد تاج المساجد کی تعمیر ہویا پھر بینظیر پیلس،تاج محل ،گول گھر ،پری بازار کی بات ہو یا پھر ایشیا کی بڑی عیدگاہ کی تعمیر سب نواب شاہجہاں کے ہاتھوں ہی عمل میں آئیں ہیں۔ بھوپال کی تاریخی عید گاہ کا شمار ایشیا کی بڑی عیدگاہ میں ضرور کیاجاتا ہے جس میں بیک وقت ایک لاکھ دس ہزار فرزندان توحید عیدین کے موقعہ پر نماز ادا کرتے ہیں مگر ان دنوں تاریخی شاہجہانی عیدگاہ نہ صرف خستہ حالی کا شکار ہے بلکہ اس کے برجوں میں جرائم پیشہ عناصر اور نشہ خوروں کا ہمہ وقت ڈیرا رہتا ہے۔

بھوپال کی تاریخی شاہجہانی عیدگاہ کی خستہ حالی اور جرائم پیشہ عناصر کو وہاں سے ہٹانے کو لیکر سماجی تنظیموں نے اپنی تحریک شروع کردی ہے ۔ سماجی تنظیموں نے عیدگاہ کی صفائی،نشہ خوروں اور جرائم پیشہ عناصر و ہاں سے ہٹانے کے ساتھ عیدگاہ کے تقدس کی بحالی کو لیکر مہم شروع کردی ہے۔ مدھیہ پردیش جمعیت علما،سدبھاؤنا منچ اور ایم پی جمعیت علما نے اس معاملہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے وقف بورڈ اور متولی کمیٹی اوقاف عامہ کو میمورنڈم بھی پیش کیا ہے۔

مدھیہ پردیش جمیعت علما بھوپال یونٹ کے صدر محمد عمران کہتے ہیں کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ وقف بورڈ اور اوقاف عامہ کے ہونے کے بعد تاریخی عیدگاہ شکستہ ہوتی جا رہی ہے ۔ یہی نہیں سالوں سے عیدگاہ کی صفائی نہیں ہونے کے سبب جہاں بڑی بڑی گھاسیں اگ آئی ہیں وہیں جرائم پیشہ عناصر اس کے برجوں میں بیٹھ کر غلط کام کرتے ہیں جس سے عیدگاہ کا تقدس پامال ہو رہا ہے ۔ ہم نے عیدگاہ کے معاملے کو لیکر وقف بورڈ کو میمورنڈم بھی پیش کیا ہے تاکہ اس کی خستہ حالی کو دور کرنے کے ساتھ نشہ خوروں اور جرائم پیشہ عناصر کو یہاں سے ہٹایا جاسکے اور یہاں پر سی سی ٹی وی کیمرہ لگا کر اس کی حفاظت کے لئے قدم اٹھایا جا سکے ۔



وہیں مسلم مہا سبھا کے رکن ارشاد خان کہتے ہیں کہ اب اس سے زیادہ شرمندگی کی بات ہمارے لیا کیا ہوگی کہ عیدگاہ کے برجوں پر شراب کی بوتلیں اور سرنج اور دوسری چیزیں موجود ہیں مگر کوئی اس کا دیکھنے والا نہیں ہے۔ کہنے کو بھوپال شہر میں وقف بورڈ ،اوقاف عامہ کے دفاتر ہیں اور ان دفاتر سے عیدگاہ کی دوری ایک کلومیٹر بھی نہیں ہے پھر کسی کو فرصت نہیں ہے ۔ نیوزایٹین اردو کا شکریہ کہ وہ قوم کے ہر معاملہ میں پیش پیش رہتا ہے ۔ ہماری بات تو کوئی سن نہیں رہا ہے آپ کے خبر دکھانے سے شاید یہ بیدار ہوں اور عیدگاہ کو پامال ہونے سے بچایا جا سکے ۔


وہیں اس سلسلہ میں جب نیوز ایٹین اردو نے متولی کمیٹی اوقاف عامہ کے سکریٹری حسیب اللہ خان سے بات کی تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اپنی کوتاہی کا احسا س ہے۔ دراصل لاک ڈاؤن اور کورونا قہر کے سبب اس سال عیدگاہ میں عیدین کی نماز بھی ادا نہیں ہو سکی ۔ دوہزار انیس میں عیدگاہ کی صفائی ہوئی تھی ۔ آپ کے فون آنے کے بعد ہم نے کام شروع کردیا ہے ۔ عیدگاہ کی صفائی کے ساتھ دروازہ بھی لگانے کے لئے ٹھیکیدار کو کہہ دیاگیا ہے ۔ساتھ ہی جرائم پیشہ عناصر پر لگام لگانے کے لئے محکمہ پولیس اور محکہ بلدیہ کو بھی خط لکھا جارہا ہے ۔ تھوڑا وقت دیجئے سبھی کام ان شا اللہ ہو جائے گا۔
Published by: Sana Naeem
First published: Jan 07, 2021 05:34 PM IST