اپنا ضلع منتخب کریں۔

    دل دہلا دینے والی خبر: بیٹے نے والد کا کیا قتل، پھر ماں کی مدد سے 6 ٹکڑے کرکے ٹھکانے لگائی لاش

    ایک پولیس افسر نے کہا، ’’جب وہ باروئی پور تھانے آیا تو اس نے ہمارے ذہن میں شک پیدا کیا۔ ہم نے ان کے بیانات میں خامیاں تلاش کیں اور ان سے پوچھ گچھ کی۔ بالآخر بیٹے نے جرم قبول کر لیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • West Bengal | Delhi
    • Share this:
      شردھا والکر قتل کیس سے ملتا جلتا ایک اور سنسنی خیز معاملہ مغربی بنگال سے سامنے آرہا ہے جہاں ایک بیٹے نے اپنے ہی باپ کو قتل کرنے کے بعد لاش کے ٹکڑے کر کے مختلف مقامات پر پھینک دیے۔ مغربی بنگال میں پولیس نے سنیچر کے روز بحریہ کے ایک سابق اہلکار کی بیوی اور بیٹے کو اس کے قتل کے سلسلے میں گرفتار کر لیا ہے۔ جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے باروئی پور پولیس کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ملزمین کا دعویٰ ہے کہ بحریہ کے سابق اہلکار اجول چکرورتی انہیں مسلسل ہراساں کرتے تھے۔

      پولیس کے مطابق چکرورتی کے بیٹے نے 12 نومبر کو انہیں دھکا دیا تھا جس کے بعد ان کا سر بری پور کے گھر میں کرسی سے ٹکرا گیا تھا اور وہ بے ہوش ہو گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد بیٹے نے مبینہ طور پر گلا دبا کر قتل کر دیا۔ بیٹا پولی ٹیکنک میں کارپینٹری ووڈ آرٹ کا طالب علم ہے۔ 55 سالہ چکرورتی 12 سال قبل بحریہ سے ریٹائر ہوئے تھے۔

      شردھا قتل کیس: آفتاب نے میدان گڑھی کے تالاب میں پھینکا تھا سر! پولیس نے کرایا خالی

      بھائی نے سوتیلی بہن کا کیا ریپ، حاملہ ہو گئی 13 سالہ لڑکی تو کرا دیا اسقاط حمل اور پھر۔۔۔

      آری سے کئے والد کی لاش کے ٹکڑے
      پولیس افسر نے کہا، ’’چکرورتی کو قتل کرنے کے بعد ان کی بیوی اور بیٹا ان کی لاش کو اسنان گھر لے گئے۔ اس کے بعد ان کے بیٹے نے اپنی کارپینٹری کلاس کٹ سے آری نکالی اور لاش کو چھ حصوں میں کاٹ کر آس پاس کے علاقوں میں پھینک دیا۔ انہوں نے کہا کہ بیٹے نے لاش کے ٹکڑوں کو پلاسٹک میں لپیٹ کر اپنی سائیکل پر کم از کم چھ چکر لگائے اور انہیں 500 میٹر دور خاص ملک اور دیہی میدان ملہ کے علاقوں میں پھینک دیا۔

      کوڑے کے ڈھیر میں پایا گیا پاؤں
      انہوں نے کہا، ’’چکرورتی کی دونوں پاؤں کچرے کے ڈھیر سے مل گئے ہیں جب کہ ان کا سر اور پیٹ دیہی میدان ملّا کے تالاب میں پھینک دیا گیا تھا۔‘‘ ان کی لاش کے دیگر حصوں کی تلاش جاری ہے۔ ماں بیٹے کی جوڑی اس وقت پولیس کے شکنجے میں آگئی جب انہوں نے 15 نومبر کی صبح چکرورتی کے بارے میں گمشدگی کی شکایت درج کرائی۔ ایک پولیس افسر نے کہا، ’’جب وہ باروئی پور تھانے آیا تو اس نے ہمارے ذہن میں شک پیدا کیا۔ ہم نے ان کے بیانات میں خامیاں تلاش کیں اور ان سے پوچھ گچھ کی۔ بالآخر بیٹے نے جرم قبول کر لیا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: