ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

کورونا وائرس لاک ڈاون : رمضان میں ٹیلرنگ کی دکانوں پر ہوتی تھی بھیڑ ، مگر اس مرتبہ پسرا ہے سناٹا

لاک ڈاون کے سبب دکانیں بند ہیں ، لیکن درزی کے کام میں لگے لوگوں کے مطابق ان کے لئے لاک ڈاون کافی مشکل مرحلہ ثابت ہو رہا ہے ۔

  • Share this:
کورونا وائرس لاک ڈاون : رمضان میں ٹیلرنگ کی دکانوں پر ہوتی تھی بھیڑ ، مگر اس مرتبہ پسرا ہے سناٹا
کورونا وائرس لاک ڈاون : رمضان میں ٹیلرنگ کی دکانوں پر ہوتی تھی بھیڑ ، مگر اس مرتبہ پسرا ہے سناٹا

پٹنہ میں ہزاروں کی تعداد میں ٹیلرنگ کی دکانیں ہیں ۔ سبھی دکانوں پر رمضان کے موقع پر خاصی بھیڑ ہوتی ہے ۔ کپڑا سیلانے والے لوگ پہلے ہی ٹیلر کو اپنا کپڑا دے دیتے ہیں ، تاکہ رمضان میں ہی کپڑا تیار ہو جائے اور عیدالفطر کی نماز نئے ملبوسات میں ادا کی جائے ، لیکن اس مرتبہ معاملہ بلکل برعکس ہے۔


لوگوں میں نئے کپڑوں کو سیلانے کا کوئی جنون دیکھائی نہیں دیتا ہے ۔ لاک ڈاون کے سبب دکانیں بند ہیں ، لیکن درزی کے کام میں لگے لوگوں کے مطابق ان کے لئے لاک ڈاون کافی مشکل مرحلہ ثابت ہو رہا ہے ۔ رمضان کے ایک مہینہ کی کمائی پر گھر کا چولہا کئی مہینے منحصر رہتا ہے ، لیکن اس مرتبہ لوگ کپڑا نہ خرید رہے ہیں اور نہ سیلانے کا کوئی منصوبہ ہے ۔ ایسے میں ہزاروں ایسے لوگ جو ٹیلرنگ کے کام میں لگے ہیں ، ان کی مالی مشکل بڑھ گئی ہے۔


پٹنہ میں ہزاروں کی تعداد میں درزی اس کام میں لگے ہیں ۔ لاک ڈاون کے سبب نہ صرف ان کا دکان بند ہے ۔ بلکہ ٹیلرنگ کے دکان مالکان وہاں کام کررہے لوگوں کو پیسہ بھی نہیں دے پا رہے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ درزیوں کے کھانے کی آفت آگئی ہے ۔ کچھ سماجی تنظیموں کی جانب سے راشن تقسیم کرنے کا سلسلہ چل رہا ہے ، جس کے سبب ان کی مشکلات تھوڑی آسان ہوئی ہیں ، لیکن ان کا کہنا ہے کہ رمضان میں سیلائی کا کام نہیں چلا تو آئندہ کا وقت کاٹنا اور بھی مشکل ہو جائے گا ۔

First published: Apr 23, 2020 08:20 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading