உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bihar: بہار میں اقلیتی آبادی ساتھ حکومت کا رویہ مثبت نہیں، اقلیتی نوجوانوں کو بنایا ہجومی تشدد کا شکار: اخترالایمان

     minority population: بہار میں ایک طرف اقلیتی نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے وہیں دوسری طرف اقلیتی طبقہ ایک طرح سے حکومت کی اسکیموں سے دور کھڑا ہے۔ حالت یہ ہیکہ اے ایم یو کشن گنج کے معاملے کو بھی کئی برسوں سے لٹکا کر رکھا گیا ہے۔

    minority population: بہار میں ایک طرف اقلیتی نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے وہیں دوسری طرف اقلیتی طبقہ ایک طرح سے حکومت کی اسکیموں سے دور کھڑا ہے۔ حالت یہ ہیکہ اے ایم یو کشن گنج کے معاملے کو بھی کئی برسوں سے لٹکا کر رکھا گیا ہے۔

    minority population: بہار میں ایک طرف اقلیتی نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے وہیں دوسری طرف اقلیتی طبقہ ایک طرح سے حکومت کی اسکیموں سے دور کھڑا ہے۔ حالت یہ ہیکہ اے ایم یو کشن گنج کے معاملے کو بھی کئی برسوں سے لٹکا کر رکھا گیا ہے۔

    • Share this:
    بہار میں اقلیتوں کے ساتھ حکومت کو رویہ مثبت نہیں ہے۔ یہ کہنا ہے ایم آئی ایم کے ایم ایل اے و ریاستی صدر اخترالایمان کا۔ اخترالایمان کے مطابق گزشتہ دنوں یہ دیکھا گیا ہیکہ اقلیتی نوجوانوں کو ہجومی تشدد کا شکار بنایا گیا بلکہ سمستی پور میں خلیل رضوی نام کے جےڈی یو لیڈر کو سر پسندوں نے زندہ جلا کر مار ڈالا۔ ادھر اقلیت نوازی کا دعوی کرنے والی نتیش حکومت اس معاملہ میں خانہ پری کرتی رہی۔ اس سے پہلے بھی ویشالی کی گلناز کو زندہ جلا کر مار ڈالا گیا تھا۔ ایم آئی ایم کے مطابق بہار میں اقلیتی آبادی خوف کے ماحول میں جینے پر مجبور ہے۔
    ادھر اقلیتوں کی ہمدردی کا دعوی کرنے والی نتیش حکومت اقلیتوں کے فلاح کا نعرہ زور سے لگاتی ہے لیکن کئی سال پہلے قائم کی گئی اے ایم یو کشن گنج کے کیمپس کو بنانے کے لئے فنڈ مہیا نہیں کرائی جارہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہیکہ یونیورسیٹی کے فنڈ کے لئے بہار کی موجودہ حکومت نے مرکزی حکومت سے کبھی بھی پیسے کا مطالبہ نہیں کیا ہے۔ ایم آئی ایم کا کہنا ہیکہ تعلیم کے بغیر کسی سماج کی ترقی ممکن نہیں ہے۔

    اے ایم یو کا برانچ ایک ایسے علاقے میں قائم کیا گیا ہے جہاں ناخواندگی سب سے زیادہ ہے۔ کشن گنج میں پوری طرح سے اے ایم یو کا کیمپس بن جائے تو علاقے کی تعلیمی مشکل کے ساتھ روزگار کا مسئلہ بھی حل ہوگا لیکن اس معاملے کو غیر ضروری طور پر لٹکا کر رکھا گیا ہے۔ اخترالایمان کا کہنا ہیکہ پٹنہ میں قائم اقلیتی ادارے خستہ حال ہو رہے ہیں لیکن ان اداروں کے مسئلہ کو بھی حل نہیں کیا جا رہا ہے۔ ایم آئی ایم کے ایم ایل اے اخترالایمان کے مطابق اقلیتی مسائل کو لیکر ایوان میں بھی حکومت سے سوال کیا گیا ہے اور موجودہ اجلاس میں بھی کئی اہم سوالوں کو منظر عام پر لایا جائےگا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: