ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بنگال میں آئمہ مساجد کو ملنے والے وظیفے پر اٹھا بڑا سوال: جانیں کیا ہے معاملہ

انہوں نے ریاست میں امام و موؤذن کو دیئے جانے والے وظیفے پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ممتا حکومت بنگلہ دیشی و روہینگیا شہریت رکھنے والے اماموں کو وظیفہ دے رہی ہے۔ شوبھیندو ادھیکاری کے اس بیان پر سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے۔ بی جے پی نے اس مدعے پر حکومت کو گھیرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  • Share this:
بنگال میں آئمہ مساجد کو ملنے والے وظیفے پر اٹھا بڑا سوال: جانیں کیا ہے معاملہ
انہوں نے ریاست میں امام و موؤذن کو دیئے جانے والے وظیفے پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ممتا حکومت بنگلہ دیشی و روہینگیا شہریت رکھنے والے اماموں کو وظیفہ دے رہی ہے۔ شوبھیندو ادھیکاری کے اس بیان پر سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے۔ بی جے پی نے اس مدعے پر حکومت کو گھیرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سیاسی لیڈران کا ایک پارٹی چھوڑنا اور دوسری پارٹی میں شامل ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر لیڈر ازاد ہوتا ہے، خودمختار ہوتا ہے، اپنے سياسی فیصلے لینے کے لئے لیکن حیرانی اس وقت ہوتی ہے جب اِن لیڈران کے سیاسی جھنڈے بدلنے کے ساتھ انکے سر بھی بدلنے لگتے ہیں، انکی سوچ و فکر و اصول بھی نئی پارٹی کے پرچم کے ساتھ بدل جاتے ہیں۔ بنگال میں ان دنوں کچھ ایسا ہی نظر آرہا ہے۔ ممتا بنرجی کے سیاسی سفر میں ساتھ رہیں انکے کئی لیڈران اب بی جے پی کا دامن تھام کر ممتا بنرجی کو سخت ٹکر دے رہے ہیں۔ اپنے ساتھی لیڈران کو چلینج کررہے ہیں، حیران کن معاملہ اس وقت سامنے آیا جب بنگال حکومت میں مضبوط وزیر رہے شوبھیندو ادھیکاری جو بی جے پی میں شامل ہوچکے ہیں۔


انہوں نے ریاست میں امام و موؤذن کو دیئے جانے والے وظیفے پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ممتا حکومت بنگلہ دیشی و روہینگیا شہریت رکھنے والے اماموں کو وظیفہ دے رہی ہے۔ شوبھیندو ادھیکاری کے اس بیان پر سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے۔ بی جے پی نے اس مدعے پر حکومت کو گھیرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ ترنمول حکومت نے اسے حیران کن بتاتے ہوئے شوبھیندو پر حکومت کو بدنام کرنے کا الزام لگایا۔


ریاستی وقف بورڈ نے اس بیان کو غلط بتاتے ہوئے شوبھیندو ادھیکاری سے جوابِ مانگنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بنگال میں 2011 میں اقتدار سنبھالتے ہوئے ممتا بنرجی نے ریاست کے امام و موؤذن کو وظیفہ دینے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اس معاملے پر بی جے پی نے کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا جسکے بعد وقف بورڈ سے وظیفہ دینے کا اعلان کیا گیا۔ ریاست کے کم و بیش ساٹھ ہزار امام و موؤذن کو وقف بورڈ کی جانب سے وظیفہ دیا جاتا ہے۔ جبکہ آئمہ کو وظیفہ دیئے جانے کے کئی پروگراموں میں خود شوبھیندو ادھیکاری بھی شامل ہوئے تھے حیران کن بات یہ ہے کہ اگر ایسا ہورہا تھا تو شوبھیندو ادھیکاری نے آواز کیوں نہیں اٹھائی۔ بہرحال یہ ایک بڑا الزام ہے جسے دونوں ہی پارٹیوں کو ثابت کرنا ہوگا۔

Published by: Sana Naeem
First published: Jan 30, 2021 10:02 PM IST