ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

پٹنہ: ہزاروں لوگوں کو روزگار فراہم کرانے والی بنکروں کی صنعت ایک بار پھر ہوئی خستہ حال

چار سال سے ریاست کے بنکروں کی حالت بدلنے کا دعویٰ کرنے والی نتیش حکومت ان کی محنت اور مزدوری کا پیسہ بھی فراہم کرا پانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔

  • Share this:
پٹنہ: ہزاروں لوگوں کو روزگار فراہم کرانے والی بنکروں کی صنعت ایک بار پھر ہوئی خستہ حال
پٹنہ: ہزاروں لوگوں کو روزگار فراہم کرانے والی بنکروں کی صنعت ایک بار پھر ہوئی خستہ حال

پٹنہ۔ بہار کے بنکروں کے ساتھ یہ سیاسی کھیل کافی پرانا ہے لیکن پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے بنکر سماج حکومت کی بات مان کر اپنے اچھے دنوں کا خواب دیکھتا رہا ہے اور برسر اقتدار پارٹی کے وعدوں پر بھروسہ کر ان کا انتخاب بھی کرتا رہا ہے لیکن بنکروں کے گھروں کا چولہا سیاسی پارٹیوں کے وعدوں سے روشن نہیں ہوسکا ہے۔ بہار کی نتیش حکومت کو بنکروں سے ایسی ہمدردی ہوئی کی وہ پٹنہ ضلع میں واقع بنکروں کا گڑھ کہے جانے والے گاؤں سیگوڑی پہنچے اور واپس لوٹے تو بنکروں کی صنعت کو پھر سے پٹری پر لانے کا اعلان کردیا۔


مالی سال ۲۰۱۶۔ ۱۷ میں سترنگی چادر کے نام سے ہینڈل لوم صنعت سے جڑے بنکروں کے لئے ایک منصوبہ شروع کیا۔ بہار کے سبھی سرکاری اسپتالوں اور ضلعوں کے صحت مراکز پر سات دنوں میں سات رنگ کے چادر کا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس چادر کو بنکروں کے ہاتھوں سے بنوانے کا اعلان کیا گیا۔ بہار اسٹیٹ ہینڈلوم ویورس کو آپریٹو یونین کو اس کام کی ذمہ داری دی گئی۔ مالی سال ۲۰۱۶۔ ۱۷ میں دس کروڑ ۲۹ لاکھ کا کاروبار ہوا اور بنکروں نے تین لاکھ چادر تیار کئے۔ ۲۰۱۷۔ ۱۸ میں سات کروڑ ۲۰ لاکھ تیس ہزار کا کاروبار ہوا اور بنکروں نے دو لاکھ دس ہزار چادر تیار کئے۔ ۲۰۱۸۔ ۱۹ میں کاروبار گھٹا اور تین کروڑ بارہ لاکھ تیرہ ہزار کا کام ہوا اور بنکروں سے اس کے لئے ۹۱ ہزار چادر تیار کرائے گئے۔ مالی سال ۲۰۱۹۔ ۲۰ میں محض ۵۱ ہزار چادر تیار کرائے گئے اور کاروبار سترہ لاکھ ۴۹ ہزار تین سو کا ہوا۔ یعنی سترنگی چادر منصوبہ کے شروعاتی سال میں دس کروڑ سے زیادہ کا کاروبار ہوا اور مالی سال ۲۰۱۹۔۲۰ میں وہ گھٹ کر سترہ لاکھ ہو گیا۔


جانکاروں کے مطابق بہار کے بنکروں کے اچھے دن اب پھر سے برے دنوں میں لوٹ رہے ہیں۔


واضح رہے کہ بہار اسٹیٹ ہینڈلوم ویورس کو آپریٹو یونین کی جانب سے بنکروں سے چادر تیار کرایا جارہا تھا اور یونین کی جانب سے انہیں اس کی مزدوری دی جارہی تھی۔ چادر کی مانگ کم ہوگئی اور بنکروں کی حالت خراب ہونے لگی۔ سات اگست ۲۰۱۸ کو وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ایک بڑے پروگرام میں بنکروں سے ہر سال دو لاکھ چادر خریدنے کا اعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ کے اعلان پر بھروسہ کر بنکروں نے چادر تیار کرنا شروع کیا لیکن سرکاری اسپتالوں نے چادر کا آرڈر نہیں دیا اور تیار کروڑوں کا چادر ہینڈلوم یونین کے دفتر میں یوں ہی پڑا سڑتا رہا۔ اب یونین کی حالت پر غور کیجئے۔ ہینڈلوم  یونین کا ایک کروڑ ۴۵ لاکھ روپیہ حکومت پر بقایہ ہے۔ بنکروں کا تیار کیا ہوا چادر جس کی قیمت قریب تین کروڑ کی ہے یونین کے دفتر میں یوں ہی پڑی ہوئی ہے۔ پٹنہ میں سیلاب آیا جس میں یونین کا دو کروڑ کا چادر پانی میں سڑ گیا۔ دو ہزار دو سو ۵۳ خاندان سترنگی چادر بنانے کے کام میں لگا تھا۔ حکومت کی لاپرواہی کے سبب وہ خاندان دانے دانے کو محتاج ہو گیا ہے۔ اب ہینڈلوم یونین نے بھی اس مسلہ پر حکومت کو کٹگھرے میں کھڑا کرنا شروع کیا ہے۔

بہار اسٹیٹ ہینڈلوم ویورس کو آپریٹو یونین کے چیرمین محمد نقیب احمد کے مطابق اگر حکومت نے بنکروں کے مسلہ پر توجہ نہیں دیا تو انتخابات میں حکومت کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ بہار کے قریب سات ضلعوں میں بنکروں کی بڑی آبادی ہے۔ ہینڈلوم پر کام کرنے والے لوگ کسی طرح دن بھر کام کرتے ہیں تو ان کے دال روٹی کا انتظام ہوتا ہے۔ اب جب کام ہی بند ہوگیا تو پھر یہ سوال بھی قائم ہو گیا ہے کہ بنکروں کے گھر کا چولہا کیسے روشن ہوگا۔ ہینڈلوم یونین کے صدر نے بتایا کہ بنکر ایک بار پھر اس صنعت کو چھوڑ باہر کے شہروں میں رکشہ و ٹھیلا چلانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ بنکروں کے ساتھ یہ معاملہ کوئی نیا نہیں ہے۔ پہلے بھی لالو اور رابڑی کی حکومت نے انہیں ٹھگا اور کپڑا بننے کی ان کی صنعت پوری طرح سے برباد ہو گئی۔ بنکروں نے اپنے کرگھا کو اٹھا کر گھر کی چھتوں پر رکھ دیا اور کھیت میں مزدوری کرنے لگے۔ نتیش حکومت نے بنکروں کا دل جیتنے کے لئے ان کی صنعت کو دوبارہ شروع تو کیا لیکن نتیش کمار کا وعدہ بھی پانی کا بلبلا ثابت ہوا۔

جانکاروں کے مطابق بہار کے بنکروں کے اچھے دن اب پھر سے برے دنوں میں لوٹ رہے ہیں۔ چار سال سے ریاست کے بنکروں کی حالت بدلنے کا دعویٰ کرنے والی حکومت ان کی محنت اور مزدوری کا پیسہ بھی فراہم کرا پانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ جبکہ انتخابی سال میں صوبائی حکومت ایک بار پھر سے ریاست کی اس صنعت کو مضبوط بنانے کا دعویٰ کررہی ہے لیکن پہلے سے حکومت کے اعلان پر چل رہا روزگار ختم ہور ہا ہے۔ بہار میں بنکروں کی بڑی آبادی ہے۔ خاص طور سے بھاگلپور، بہار شریف، مدھوبنی، دربھنگہ، سمستی پور اور گیا کا بنکر طبقہ انتخابات میں امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کرتا ہے۔ بھلے ہی نتیش کمار کہتے رہیں کہ وہ ووٹ کی سیاست نہیں کرتے ہیں لیکن بنکروں کی آبادی کو دیکھتے ہوئے ہی سترنگی چادر کی اسکیم شروع کر بنکروں کی ہینڈلوم صنعت کو ترقی دینے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن محض چار سال میں ہی حکومت کی یہ اسکیم ٹھنڈے بستہ میں چلی گئی ہے اور اس سے جڑے بنکر بھکمری کی کگار پر پہنچ گئے ہیں۔
First published: Feb 22, 2020 12:14 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading