ہوم » نیوز » No Category

بہار میں صحت کا شعبہ پوری طرح سے خستہ حال، ڈاکٹر کی کمی کے سبب نہیں ہوتا ہے مریضوں کا بہتر علاج

واضح رہے کہ صوبہ کا یہ وہی اسپتال ہے جس کا نعرہ لگاکر موجودہ حکومت تین بار اقتدار میں آئی ہے۔ اب حکومت کی گزشتہ پندرہ سالوں کی کارکردگی پر لوگ سوال کھڑا کررہے ہیںحالانکہ حکومت کی جانب سے اسپتالوں کی حالت بہتر کرنے کا بار بار یقین دہانی کرائی جارہی ہے لیکن صورتحال حکومت کے دعوے کی دھجیاں اڑاتی نظر آرہی ہے۔

  • Share this:
بہار میں صحت کا شعبہ پوری طرح سے خستہ حال، ڈاکٹر کی کمی کے سبب نہیں ہوتا ہے مریضوں کا بہتر علاج
بہار میں صحت کا شعبہ پوری طرح سے خستہ حال

بہار میں ۲۸ ہزار تین سو ۹۱ لوگوں پر ایک ڈاکٹر ہے۔ صوبہ میں ۱۳ میڈیکل کالج ہے جس میں دس میڈیکل کالج کام کررہے ہیں۔ دس ہزار چھ سو نو ڈاکٹر کا پوسٹ منظور ہے جبکہ چھ ہزار چار سو ۳۷ پوسٹ خالی پڑا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکاتا ہے کہ بہار میں صحت کے شعبہ کی کیا حالت ہے۔ ریاست میں کورونا مریضوں کی تعداد ۹۴ ہزار چار سو ۵۹ ہوگئ ہے۔ ایسی صورت حال میں لوگوں کی توجہ ابھی اسپتالوں پر ہے۔

واضح رہے کہ صوبہ کا یہ وہی اسپتال ہے جس کا نعرہ لگاکر موجودہ حکومت تین بار اقتدار میں آئی ہے۔ اب حکومت کی گزشتہ پندرہ سالوں کی کارکردگی پر لوگ سوال کھڑا کررہے ہیں۔ جانکاروں کے مطابق عوامی فلاح کے لئے کسی بھی حکومت کو صحت، سڑک، بجلی اور تعلیم پر کام کرنا ضروری ہوتا ہے لیکن موجودہ حکومت بنیادی کام کو بھی زمین پر اتارنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کی ایک مثال صوبہ کا صحت کا نظام ہے۔

اسپتالوں میں ڈاکٹر اور میڈیکل اسٹاف کی زبردست کمی ہے جس کا خمیازہ عام لوگوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ وہیں ضلعوں میں قائم کیاگیا پرائمری ہیلتھ سینٹر بھی پوری طرح سے کام نہیں کررہا ہے۔ صوبہ میں پانچ سو ۳۴ پرائمری ہیلتھ سینٹر ہیں جس میں زیادہ تر بند پڑے ہیں۔ ایسی صورتحال میں کورونا کے شکار لوگوں کے ساتھ ساتھ عام بیماریوں سے جوجھ رہے لوگ کافی پریشان ہیں اور اس سلسلے میں حکومت سے سخت ناراض ہیں۔


حالانکہ حکومت کی جانب سے اسپتالوں کی حالت بہتر کرنے کا بار بار یقین دہانی کرائی جارہی ہے لیکن صورتحال حکومت کے دعوے کی دھجیاں اڑاتی نظر آرہی ہے۔

Published by: Sana Naeem
First published: Aug 14, 2020 06:56 PM IST