ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

نتیش کمار کی کابینہ میں مسلمانوں کو نمائندگی دینے کا معاملہ بنا سرخیاں، مسلم تنطیموں کی اپیل مسلمانوں کو نظرانداز کرنا کسی بھی حال میں درست نہیں

مانا جارہا ہیکہ نتیش کمار کی کابینہ کی جلد توسیع ہوگی۔ اس کو دیکھتے ہوئے کابینہ میں مسلمانوں کو نمائندگی دینے کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ امارت شرعیہ بہار کے نائب ناظم مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کا کہنا ہیکہ مسلمانوں کو نظرانداز کرنا ٹھیک نہیں ہے۔

  • Share this:
نتیش کمار کی کابینہ میں مسلمانوں کو نمائندگی دینے کا معاملہ بنا سرخیاں، مسلم تنطیموں کی اپیل مسلمانوں کو نظرانداز کرنا کسی بھی حال میں درست نہیں
بہار

مانا جارہا ہیکہ نتیش کمار کی کابینہ کی جلد توسیع ہوگی۔ اس کو دیکھتے ہوئے کابینہ میں مسلمانوں کو نمائندگی دینے کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ امارت شرعیہ بہار کے نائب ناظم مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کا کہنا ہیکہ مسلمانوں کو نظرانداز کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ نتیش کمار کو ضرور اس تعلق سے مثبت فیصلہ کرنا چاہئے۔ مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کے مطابق مسلمانوں کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے وہیں بہاراردو ٹیچرس ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہیکہ کم سے کم دو مسلم وزیر بنایا جائے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق نتیش کمار کے تمام امیدواروں کو مسلمانوں کا ووٹ ملا ہے ایسے میں یہ کہنا کی مسلمانوں نے ووٹ نہیں دیا یہ سراسر غلط ہے۔


حکومت نے اپنی کابینہ کی توسیع میں مسلم لیڈروں کو جگہ نہیں دیا تو یہ سمجھا جائےگا کی نتیش کمار کی پالیسی اب غلط رخ پر مڑ گئ ہے۔ ادھر مسلم وزیر کے تعلق سے آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ کے قومی صدر اور سابق ایم پی علی انور کا کہنا ہیکہ مسلمانوں کو وزات میں جگہ دلانے کی مانگ ایک غیر ضروری مدعہ ہے۔ علی انور کے مطابق مسلمانوں کے مسلہ کو حل کرانے کے تعلق سے حکومت پوری طرح سے لاپرواہ رہی ہے۔ علی انور نے کہا کی نتیش کمار سوشاسن کا دعویٰ کرتے ہیں تو اقلیتوں کے بنیادی مسلہ کو حل کریں۔


محاذ کا کہنا ہیکہ اسکولوں میں اردو ٹیچر کی بحالی پر چالیس طلباء کی قید لگا دی گئ ہے۔ اقلیتی نوجوانوں کو حکومت کی اسکیم کے تحت قرض نہیں مل رہا ہے لیکن حکومت  مسلمانوں کو سیاست میں الجھا کر انکے بنیادی مسلہ کو ٹھنڈے بستہ میں ڈالنے کی کوشش کرتی آئ ہے۔ مسلم سماج کے دانشوروں نے وزارت کے معاملے کو ایک اہم معاملہ بتایا ہے۔ سماج کا کہنا ہیکہ جمہوری نظام میں ہر سماج کی نمائندگی اس بات کا اشارہ کرتی ہیکہ حکومت سبھی طبقات کے فلاحی کاموں کو لیکر سنجیدہ ہے۔ اگر سیاسی نمائندگی میں ہی مسلمانوں کو نظرانداز کردیا گیا تو باقی مسلہ کو حل کرانے کا دعویٰ کھوکھلا ہوگا۔


مسلم تنظیموں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے جہاں کابینہ کی توسیع میں مسلمانوں کو شامل کرنے کی مانگ کی ہے وہیں اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا ہیکہ جو منصوبہ اقلیتوں کے فلاح کے نام پر شروع کئے گئے ہیں اس کو زمین پر اتارنے کی ایمانداری سے کوشش کی جائے۔ انکا کہنا ہیکہ اقلیتوں کو لیکر حکومت منصوبہ بنائ ہے لیکن وہ زمین پر لاگو نہیں ہوتا ہے اور یہ مسلہ کہیں نہ کہیں اقلیتوں کو مایوس کرتا رہا ہے۔

 
Published by: sana Naeem
First published: Dec 02, 2020 08:06 PM IST